@JimmyVirkk غالب کو ایک ستم پیشہ وئشیہ سے عشق ہوگیا تھا جو کچھ عرصے بعد فوت ہو گئی تھی ۔۔ جس پہ غالب نے کہا کہ سب درد الگ لیکن اس ستم پیشہ عورت کا مرنا نہیں بھولا جاتا ۔۔ شاید اس لئے غالب نے کہا ہوگا
کہتے ہیں جسے عشق خلل ہے دماغ کا
تھا ایک نام بھی مرے دردِ بے دوا کا
شیطان العرب، شیخ العرب اور معصوم کپتان
عمیر فاروق @Umairfrooq کی پرمغز تحریر
جب یہاں مشہور کیا گیاکہ رجیم چینج کے پیچھے سعودیہ کی مرضی تھی تو بندہ نے اس امکان کا سختی سے انکار کیا جس پہ جذباتی انصافی بہت ناراض بھی ہوئے حالانکہ بڑی ہوشیاری سے پھیلائی گئی فیک نیوز اس کی تائید کر رہی تھیں۔
اسی طرح جب عمران نے کہا کہ ایم بی ایس نے اسے وارننگ دے دی تھی کہ اس وقت کا آرمی چیف اس کے خلاف سازشیں کررہا ہے تو بندہ نے عمران کی بات پہ اعتبار کیا۔
لٹھ بردار “ وڈی آپی” نے تو بندہ پہ باقاعدہ لٹھ ہی کھینچ لی کہ ایم بی ایس کو رامی کیوں نہیں کہتے ؟ حالانکہ بندہ کے نزدیک عرب دنیا کا رامی شیطان ہمیشہ سے ہی اماراتی ایم بی زیڈ تھا۔
اسکی وجہ صاف ظاہر تھی۔ بندہ ایم بی ایس کی سیاست کو ابتدا سے ہی بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ ایم بی ایس میں دو خوبیاں ہیں جو عمران میں نہیں تھیں ، عالمی سیاست کی حرکیات کی گہری سمجھ اور دھوکہ باز کو جوابی دھوکہ دینے کی صلاحیت جس سے سیدھا سادا دو ٹوک عمران فارغ تھا ورنہ وہ آج جیل میں نہ ہوتا۔
عالمی سیاست اور خصوصاً مشرق وسطیٰ کی سیاست کے سانپ اور سیڑھی کے کھیل کو وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ شاہ فیصل کی شہادت کے بعد سے سعودی حکمران خاندان ہمیشہ سے ہی امریکہ سے خوفزدہ رہا سبھی سعودی بادشاہ خوفزدہ رہے کہ امریکہ جب چاہے سعودیہ کو اندر سے ڈی سیٹبلائز کر سکتا ہے کسی سعودی شہزادے کے ہی ذریعے۔ اسی لئے عرب سپرنگ کا آغاز ہوتے ہی شاہ عبدالہ بیرونی دورہ چھوڑ کر فوری واپس لوٹا اور سعودی عوام کے لئے غیر معمولی مراعات کے پیکیج کا اعلان کیا کیونکہ انکو اپنا ڈر پڑ گیا تھا۔
ایم بی ایس نے بہت کامیابی سے سعودی خاندان کے اس خوف کا خاتمہ کیا۔ اس کی اینٹی کرپشن ڈرائیو جس میں بہت سے اعلیٰ سعودی شہزادے نظربند ہو کر اپنی دولت سرکاری خزانے میں جمع کرانے پہ مجبور ہوئے وہ ایک طرف تو ایم بی ایس کے اپنے ذاتی اقتدار کو مستحکم کرنے کی ڈرائیو تھی تو دوسری طرف مغرب کے گھوڑے یعنی پرنس ولید بن طلال کی کہانی ختم کردی گئی۔
ہمارے لوگ اصل کہانی کو سمجھے ہی نہیں، ولید بن طلال، ابن سعود کا پوتا تھا وہی ابن سعود جو ملک عبدالعزیز کے بعد اگلا سعودی بادشاہ بنا لیکن اسکے رجحانات دیکھتے ہوئے اسکے بھائیوں نے اس سے تخت چھین کر شاہ فیصل کے حوالے کردیا، تب سعودیہ میں دولت کی ریل پیل نہ تھی۔ ابن سعود جلاوطنی کے بعد قاہرہ اور بیروت میں زندگی گزارتا رہا اسکا پوتا ولید بن طلال وہیں پلا بڑھا کچھ خاص پیسہ بھی نہ تھا لیکن یکایک ارب پتی تاجر بن گیا جس کے پیچھے بہت سی کہانیاں مشہور تھیں خصوصاً صیہونی لابی اور بینکرز کی عنایات کی۔ وہ شاید شاہ عبداللہ کے دور میں واپس سعودیہ آیا حالانکہ پہلے انکے سعودیہ واپسی پہ پابندی رہی تھی۔
تب سے مغربی میڈیا مسلسل ولید بن طلال کو نئے ماڈرن سعودیہ کا چہرہ بنا کر پیش کر رہا تھا�� لیکن اصل کھیل کچھ اور تھی اور وہ یہ کہ شاہ سلمان کی وفات کے ساتھ ہی ملک عبدالعزیز کی اس وصیت کا بھی خاتمہ ہوجانا تھا کہ اس کے بعد بادشاہت اس کے بڑے بیٹوں میں یکے بعد دیگرے منتقل ہوتی رہے گی سو کنگ سلمان کی جانشینی کے بعد اگلے بادشاہ کے انتخاب کا سوال پیدا ہوتا تو ولید بن طلال ملک عبدالعزیز کے بڑے بیٹے کے بڑے بیٹے ہونے کی وجہ فطری طور پہ مضبوط ترین امیدوار ثابت ہوتا اور یہی وہ وجہ تھی کہ صیہونی لابی اور مغرب نے ولید بن طلال پہ اربوں کی سرمایہ کاری کی تھی تاکہ وہ سعودیہ کا ایم بی زیڈ ثابت ہو۔ اور وہ ایم بی زیڈ سے بھی زیادہ ایڈوانس تھا۔ ایم بی زیڈ نے تو شاہی محل سے مفرور ہونے والی بیٹی کو بحیرہ عرب میں انڈین نیوی کی مدد سے پکڑ لیا تھا اور اپنی بیٹیوں کو پابند رکھتا ہے پرنس ولید نے انہیں مکمل مغربی آزادی دی ہوئی تھی اور ان کے لائف سٹائل کے مغربی جریدے بھی گواہ ہیں۔
ایم بی ایس نے اپنی اینٹی کرپشن ڈرائیو کے بہانے ولید بن طلال کی جڑ کاٹ دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ عدنان خشوگی( جس نے مغرب کے تعاون سے ناجائز اسلحہ دہشت گرد تنظیموں کو بیچ کر اربوں ڈالر کمائے ) کا بیٹا جمال خشوگی جو صحافت کرنے لگا تھا، ایم بی ایس کا تلخ ناقد بن گیا۔ جس پہ ایم بی ایس نے اسے اپنے انتقام کا نشانہ بنایا۔
یہاں دلچسپ سوال یہ ہے کہ جو بہیمانہ سلوک جمال خشوگی کے ساتھ ہوا اتنا ہی تو ارشد شریف کے ساتھ بھی ہوا۔ تب کیوں عالمی ضمیر نہ جاگا ؟ تب کیوں عالمی جرائد اور مغربی سفارت خانوں نے ویسے ہی پیغامات نہ دیے ؟ تب کیوں کسی امریکی صدر نے یہ نہ کہا کہ جنرل باجوہ اور شریف خاندان ارشد شریف کا قاتل ہے اور ہم انکو حکومت سے فارغ کرنے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے ؟
پھر یہ سب جمال خشوگی کے ضمن میں کیوں ہوا؟
(جاری ہے۔۔۔۔۔حصہ دوم نیچے 👇)