@jhonwickcsew Porkistan and their islamic proxies ISIS deash are crying.
You know why daeshi are crying because girl of kurde defeated them in ground battle in Iraq occupied kurdistan
@Kalmati__ Hazrat Khawla bint al-Azwar (R.A): She fought with immense bravery in the Battle of Yarmouk and other encounters, setting a fine example of courage on the battlefield.
@Kalmati__ These Ahadith and historical events clearly demonstrate that women in Islam not only provided logistical support but also stood firmly alongside men on the battlefield when needed.
@Kalmati__ "Whenever I looked to my right or left (on the day of Uhud), I saw Umm 'Ammarah fighting to defend me."
(Seerat Ibn Hisham / Tabaqat Ibn Sa'd)
@Kalmati__ Meaning of the Narration:
On the day of Uhud, Hazrat Umm 'Ammarah (RA) fought in the battle herself and was severely injured while protecting the Prophet (PBUH). Regarding her bravery, the Messenger of Allah (PBUH) said:
@Mujahid61963583 Baqi chezay choro filal bollywood ko to ap logo na cross kiya hai
Propaganda mai hahahhahahahahaha pura world na apka operation Shaban× operation khashaban😄 dekh liya
خصوصی رپورٹ:
بدنام زمانہ شفیق مینگل کون ہیں اور بلوچستان میں ان کا مبینہ کردار کیا ہے؟ ISI کے ڈیتھ اسکواڈ اور داعش کے سہولت کار؟
۱. تعارف
بدنام زمانہ شفیق مینگل کو بلوچستان کی حالیہ تاریخ میں ایک انتہائی متنازع، خوف کی علامت اور بااثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 'دی بلوچستان پوسٹ' سمیت مختلف بین الاقوامی اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بدنام زمانہ شفیق مینگل کا نام بلوچستان میں سرگرم مبینہ سرکار نواز "ڈیتھ اسکواڈز" (Death Squads) کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان پر سنگین الزامات ہیں کہ وہ مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں (آئی ایس آئی) کی براہِ راست سرپرستی اور فنڈنگ کے ساتھ بلوچستان کے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرنے اور بلوچ قوم پرست تحریکوں کو کچلنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
۲.
شفیق مینگل کون ہیں؟
(پس منظر)
بدنام زمانہ شفیق مینگل کا تعلق بلوچستان کے ایک بااثر قبائلی اور سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ سابق وفاقی وزیر اور میرانشاہ (وڈھ) کے مینگل قبیلے کے ایک معزز گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، جہاں ان کے خاندان کے لوگ روایتی طور پر نوابوں اور سرداروں کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ تاہم، اپنے خاندانی وقار کے برعکس، بدنام زمانہ شفیق مینگل نے مسلح جتھوں، مذہبی انتہا پسندی اور ماورائے عدالت کارروائیوں کے ذریعے اپنی ایک متنازع شناخت بنائی، جس کی وجہ سے وہ پورے خطے میں بدنام ہوئے
۳.
بلوچستان میں ان کا مبینہ کردار اور سرگرمیاں
مسلح ڈیتھ اسکواڈز کی قیادت:
شفیق مینگل پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک انتہائی سفاک اور مسلح جتھے (ڈیتھ اسکواڈ) کی بنیاد پاکستان خفیہ ایجنسی ( ISI) ائی ایس ائی کے ساتھ مل کر رکھی۔ اس اسکواڈ کا بنیادی کام مبینہ طور پر بلوچ سیاسی کارکنوں، صحافیوں، دانشوروں اور عام شہریوں کو اغوا کرنا، انہیں تشدد کا نشانہ بنانا اور ماورائے عدالت قتل کرنا تھا۔
فوجی سرپرستی اور "کرنل" کا منصب: مقامی سطح پر اور میڈیا سرکلز میں یہ بات عام ہے کہ شفیق مینگل کو مبینہ طور پر پاکستانی فوج میں "کرنل" کے برابر کا منصب، اختیارات اور پروٹوکول حاصل رہا ہے، جس کی بدولت وہ کسی بھی قانونی گرفت یا احتساب سے مکمل آزاد ہو کر کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔
اجتماعی قبروں سے تعلق:
بلوچستان کے علاقے خضدار (طوطک) سے ملنے والی اجتماعی قبروں کا معاملہ ہو یا دیگر پرتشدد واقعات، مقامی حلقے ان کا سراغ شفیق مینگل کے قائم کردہ ٹوچر سیلز اور مبینہ ڈیتھ اسکواڈز سے ہی جوڑتے ہیں۔
۴.
شفیق مینگل مقتدر حلقوں کے لیے اتنے اہم کیوں ہیں؟
یہ سوال کہ ایک متنازع شخصیت کو ریاستی نظام میں اتنی اہمیت کیوں دی گئی، اس کے پیچھے چند اہم جیو پولیٹیکل اور قبائلی عوامل ہیں:
الف)
قبائلی اور روایتی اثر و رسوخ کا استعمال
چونکہ ان کا خاندان پرانے زمانے سے معزز مانا جاتا رہا ہے اور مقامی لوگ ان کا احترام کرتے تھے، اس لیے زمانہ شفیق مینگل کے پاس لوگوں تک رسائی اور ان پر اثر انداز ہونے کا ایک قدرتی ذریعہ موجود تھا۔ مقتدر حلقوں نے ان کے اسی خاندانی اور قبائلی رسوخ کو بلوچ تحریک کے خلاف بلاواسطہ استعمال کیا۔
ب)
سیکولر تحریک کے خلاف "مذہبی بیانیے" کا کارڈ
بلوچستان کی قوم پرست تحریک تاریخی طور پر سیکولر (غیر مذہبی) بنیادوں پر قائم رہی ہے۔ اس بیانیے کو توڑنے کے لیے زمانہ شفیق مینگل نے "مذہبی کارڈ" اور اسلامک فوبیا کا سہارا لیا۔ انہوں نے مذہب کے نام پر عام لوگوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ ملایا تاکہ بلوچ تحریک کی نظریاتی جڑوں کو کمزور کیا جا سکے۔
ج
عالمی دہشت گرد تنظیموں (داعش اور القاعدہ) کی سہولت کاری
رپورٹس کے مطابق شفیق مینگل کا نیٹ ورک صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہا، بلکہ ان کا ایک بڑا علاقائی کردار سامنے آیا:
ماضی کے روابط:
افغانستان میں جنگ کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے نیٹ ورک (ISI) کے حکم پر معاونت فراہم کی۔
داعش کے لیے بھرتیاں: پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے مبینہ سائے تلے، شفیق مینگل نے انتہا پسند تنظیم 'داعش' (ISIS) کے لیے بلوچستان، افغانستان اور ایران کے سرحدی علاقوں سے نوجوانوں کی بھرتیاں شروع کیں۔
علاقائی دہشت گردی:
اس نیٹ ورک کے ذریعے سرحد پار کارروائیاں کی گئیں اور "جہاد" کے نام پر معصوم اور عام شہریوں کا خون بہایا گیا۔
خلاصہ / نتیجہ
مجموعی طور پر، شفیق مینگل کا کردار قبائلی طاقت، مقتدر حلقوں کی سرپرستی اور انتہا پسند مذہبی دہشت گردی کا ایک خطرناک گٹھ جوڑ ہے۔ انہوں نے نہ صرف بلوچستان بلکہ افغانستان اور ایران کی سیکیورٹی صورتحال کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ انہیں مقتدر حلقوں کی طرف سے کاؤنٹر انسرجنسی (تحریکوں کو کچلنے) اور علاقائی جیو پولیٹکس میں ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔