چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دُشنام
چُھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اِس عِشق ، نہ اُس عِشق پہ نادِم ہے مگر دل
ہر داغ ہے اِس دل میں ، بجُز داغِ ندامت
"فیض احمد فیض"
یہ عجب قیامتیں ہیں، تری رہگزر میں گزراں
نہ ہُوا کہ مَرمِٹیں ہم ، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم
لو سُنی گئی ہماری ، یُوں پِھرے ہیں دن کہ پھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے ، وہی فصلِ گُل کا ماتم
فیض احمد فیض
@seenography ویسے سچی بات ہیکہ میرے ساتھ کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا، وجہ شاید یہ رہی کہ یار کبھی گزشتہ یا آئندہ نہیں ہوتا، جو گزشتہ ہوتا ہے وہ کبھی یار نہیں ہوتا (یہ میرا خیال ہے، کسی کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)
😊😊