“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
کام وہی ہے جس میں یوتھیوں کو ملکہ حاصل ہے۔ آٹھ فروری دوہرانا ہے اور نسبتا کم حلقوں میں دوہرانا ہے۔ تحریک انصاف کے امیدواران اور انکے نشانات کو ریپیٹ موڈ پر ڈال دیں۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
Appeal from Imran Khan’s sister to all MNAs, MPAs and Senators to go to Adiala Jail tomorrow to build pressure for:
1. Allowing immediate access for Imran Khan’s lawyers and family
2. Transferring IK to Shifa International Hospital for proper medical examination and treatment, in the presence of specialists, his personal doctor, and family
3. Ensuring Chief Justice Dogar takes up the bail applications of Imran Khan and Bushra Bibi so they can be released from this illegal imprisonment without delay
ہم خان صاحب کی بہنیں ہیں، ان کا دکھ انکا درد باقی لوگوں سے ہمیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے ہمارے مطالبات بالکل جائز ہیں۔ کم ازکم اگر خود کچھ نہیں کر سکتے تو ہماری جذبات کا تو احترام کریں۔ میڈیا پر اس طرح کی گفتگو خان کے کاز کو صرف نقصان دے گی!
نورین خانم!
خان صاحب کی فیملی اگر ان کے لئے آواز اٹھائے اور انہی کی بنائی ہوئی پارٹی کو اپنے قائد کی صحت، زندگی اور رہائی سے متعلق سنجیدگی سے عمل کرنے کا کہے تو اسے سیاست میں مداخلت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
عہدہ جہاں اختیار دیتا ہے، وہاں ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔ کامیابی پر داد اور ناکامی پر تنقید ہوا کرتی ہے لیکن جہاں کوشش ہی نظر نہ آئے وہاں بجائے اپنی اصلاح کے جذباتی ردعمل کوئی حکمت نہیں۔ سیاست میں تنقید برداشت کرنا پڑتی ہے اور کوئی بھی انسان عقل کل نہیں ہوتا۔ سب سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن اہل دانش کا وطیرہ اپنی غلطی سدھارنا اور تجربے سے سیکھنا ہوتا ہے نہ کہ تنقید کرنے والے پہ چڑھ دوڑنا۔
اللہ ہم سب کو ہدایت اور عقل سلیم عطا کرے
Symbol of Resilience: Women Facing Political Victimization
Yasmin Rashid – May riots – 10 years
Zartaj Gul – May riots – 10 years
Kanwal Shauzeb – May riots – 10 years
Aliya Hamza – May riots – 5 years
Sanam Javed – May riots – 5 years
Khadija Shah – May riots – 5 years
Bushra Bibi – Unlawful marriage – 7 years
Uzma Khan – Awaiting trial
Aleema Khan – Awaiting trial
Noreen Niazi – Awaiting trial
Rubina Jamil – Awaiting trial
Tayyaba Raja – Awaiting trial
Rehana Dar – Form 47
Mehr Bano – Form 47
Saloni Bukhari – Passed away
And many more..
#InternationalWomensDay
جولائی ۲۰۲۱افغانستان سے امریکی انخلاء؛ چیلنجز اینڈ اپرچونٹیز، وزیر اعظم عمران خان میٹنگ بلاتے ہیں، عسکری قیادت کی رائے میں صورت حال خانہ جنگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جس میں اپنے اتحادی دوست افغان طالبان کو بہر طور سپورٹ فراہم کرنی ہے۔
اگست ۲۰۲۱، کابل سے امریکی انخلاء ہوتا ہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے حکومت سازی میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی لعن طعن کا رُخ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کابل میں محصور شہریوں کو سیف ایگزیٹ مہیا کرکے پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۱، عسکری قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کو پاکستانی طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کا پلان پیش کیا گیا۔ جس کی کابینہ اراکین نے بھرپور مخالفت کی اور وزیر اعظم نے ایسے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔
دسمبر ۲۰۲۱، وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کراتے ہیں اور اسلامی ممالک کو افغانستان کو درپیش انسانی المیے سے آگاہ کرتے ہوئے برادرانِ اسلام (یعنی مظلوم افغان عوام) کی مدد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں افغان طالبان قیادت اور پاکستانی حکام کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئیں، وزارت مواصلات اور دیگر محکموں کی جانب سے براستہ افغانستان تجارت اور دیگر منصوبوں کے متعلق شدومد سے پلاننگ کا آغاز ہوا، خود میں نے روس،افغانستان، چین اور دیگر وسطی ایشیاء ممالک کی کنیکٹوٹی کے حوالے سے میٹنگز چئیر کیں۔
مارچ ۲۰۲۲، اسلام آباد میں او آئی سی ممالک کا افغانستان کے مسئلے پر ایک اور اجلاس منعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقوامِ عالم کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بہتری کا ایسا راستہ نکالنے کا کہتے ہیں جس سے افغانستان کے شہریوں کی فلاح اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی دنیا کا امن ممکن ہو۔
جون ۲۰۲۲، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ڈی ایم کی کٹ پُتلی حکومت کے سامنے عسکری حکام کی جانب سے وہی پلان پیش کیا جاتا ہے جس کی نومبر ۲۰۲۱ میں وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، فوری منظوری دے دی جاتی ہے۔
جون ۲۰۲۲، عسکری حکومت کی جانب سے افغانستان وفد بھیج کر طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوتا ہے۔
جولائی ۲۰۲۲، میں اس منصوبے کے خلاف عوام کو متحرک کرتا ہوں۔ مجھ پر غداری کے مقدمے ہوتے ہیں، فساد پھیلانے کے فتوی لگتے ہیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر درون خانہ رابطے کرکے پہلے حجتیں، تاویلیں اور پھر واپس بھیجنے کی گارنٹیز دی جاتی ہیں اور واپس بھیج بھی دیا جاتا ہے۔
اگست ۲۰۲۲، عبوری حکومت کے دوران عسکری سرکردگی میں ان طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی پاکستان میں باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوتا ہے اور عسکری سرکردگی میں اسلحے سمیت خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں آباد کیا جاتا ہے۔
پھر ان ہی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کو بنیاد بنا کر ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۷ تک خیبر پختونخواہ اور باقی پاکستان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔
پھر ٹرمپ کی امریکی اسلحہ کے بیان اور بگرام ائیر بیس دینے سے طالبان کے انکار میں ہمارے جرنیلوں کو وہ سنہری موقع مل جاتا ہے جس کے وہ انتظار میں تھے۔ پاکستان میں پناہ گزین افغان شہریوں کا غیر انسانی انخلاء شروع ہوتا ہے، بارڈر پر تجارت بند کردی جاتی ہے، افغانستان پاکستان کے امن کا اولیں دشمن قرار پاتا ہے، تندو تیز بیانات اور فضائی حملوں سے اس دشمنی کو مزید مستحکم کیا جاتا ہے۔
نتیجہ اس سے کچھ مختلف تو نہیں ہونا تھا جو ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۰ تک ہوا مگر کیا سبب تھا کہ ۲۰۲۲ میں بھی اسی رُول بُک کو فالو کرنا مناسب سمجھا گیا؟ یہ سوال میں تو چار سال سے پوچھ رہا ہوں اب اگر منہ سے جھاگ اڑاتے، جنگ کے طبل بجاتے اور سوال اٹھانے والو کو وطن دشمنی کے فتوی بانٹنے والوں کی گیس لائیٹنگ میں آئے بنا آپ بھی پوچھ لیں کہ کیونکر اپنے جوانوں، اپنے اور پڑوسی ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیوں، اپنے ملک کے امن اور استحکام سے اس بے دردی سے کھیلا گیا تو شاید آپ کا مستقبل گذشتہ سے کچھ مختلف ہوجائے۔
جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے۔
بلآخر آج فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانستان وفد بھیجا گیا۔
⁃وفد کی خبر ملتے ہی پانچ سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
⁃اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہیں ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
⁃میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون کیا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جائیں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
⁃دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
⁃پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
⁃طالبان غصہ آپ غصہ۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آباد کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں مظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
⁃واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
⁃نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی کے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
⁃ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا کر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا بتاؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ تو واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!
“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف صرف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے والی شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر براجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔
دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)