یاد دہانی
جس لیٹر پر ارشدشریف کو دبئی سے ڈیپورٹ کرکے کینا کی قتل گاہ میں بیجھا گیا تھا وہ لیٹر جمہوریت اور انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئن بلاول زرداری نے لکھا تھا۔
اقرار الحسن کی یوکے میں پرسنل چیزیں مجھے کسی نے بھیجی لیکن میں نے شیئر نہیں کی اقرار کو ARY سے نکالا گیا ہے تو اس کا زہنی توازن خراب ہو چکا ہے
ص��یق جان نے پھر اقرار کی دم پر پاؤں رکھ دیا
ہماری فیملی نے تمام پارٹی عہدیداران، سینئر قیادت، ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منگل کو اڈیالہ جیل پہنچیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ:
1. عمران خان کے وکلاء اور اہلِ خانہ کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔
2. عمران خان کو مکمل طبی معائنہ اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ماہر ڈاکٹروں، ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔
3. چیف جسٹس ڈوگر اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ انہیں اس غیر قانونی قید سے بلا تاخیر رہا کیا جا سکے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، جو کہ بہت بڑا ظلم ہے اور پاکستانی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی ہے
مریم نواز اپنے وزیر تعلیم بھولا ریکارڈ کا تعارف کرواتے ہوۓ
بھولا ریکارڈ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن تعلیم سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں بھولا ریکارڈ اسی طرح کا وزیر تعلیم ہے جس طرح کا شجاعت حسین ریسلنگ کے چیئرمین
میرے پاکستانیو! توشہ خانہ، سائفر اور عدّت جیسے مقدمات کے منظرِعام پر آنے سے ان کا لغوپن اور انکا بےبنیاد ہونا ہی سامنے نہیں آیا بلکہ انکی تہہ میں چھپے سیاسی عزائم بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔
جب سائفر کا معاملہ رونما ہوا تو میں نے متنبّہ کیا اگر ہم فیصلہ کن انداز میں اس سے نہ نمٹے تو آئندہ کو��ی وزیراعظم پاکستان کے اندرونی معاملات میں ایسی صریح غیرملکی مداخلت کا سامنا نہیں کرپائے گا۔
جنرل مشرف نے بھی ”پاکستان کو بمباری کرکےپتھر کے دور میں دھکیلنے“ کی امریکی دھمکی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
مگر رجیم چینج آپریشن رچانے والے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے مجھے سرکاری گواہوں سے جرح کرنے یا اپنی صفائی میں گواہ پیش کرنے کے قانونی حق سےمحروم کردیا گیا کیونکہ ہینڈلرز بخوبی جانتے تھے کہ اگر مجھے یہ حق دیا گیا تو بنگال کے میر جعفر کی طرح ہماری سیاسی تاریخ کی ایک اور بڑی غدّاری بے نقاب ہوگی۔
اللہ ربّ العزّت کے فضل و احسان سے میں نے مالی اعتبار سے بالکل بے داغ زندگی گزاری ہے اور میری اس ساکھ کی بدولت پاکستان کےعوام میرے خیراتی/فلاحی منصوبوں کے لئے اربوں روپے کے عطیات دیتے ہیں۔ چنانچہ توشہ خانہ کا یہ بیہودہ سا مقدمہ تراشا ہی اس لئے گیا کہ میرے خلاف مالی بدعنوانی کا ایک ادنیٰ سا ثبوت بھی تلاش نہ کرسکے۔
حتّٰی کہ مقدمے پر جعلی عدا��تی کارروائی کے دوران بھی جب انہیں احساس ہوا کہ مقدمہ میری برّیت پر انجام پذیر ہوگا تو اس میں بھی مجھے سرکاری گواہوں سے جِرح کے بنیادی قانونی حق سے محروم کر دیا گیا۔
اسی دوران عدّت والے مقد��مے کی رفتار بھی بڑھا دی گئی ہے کیونکہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کےمیرےخواب کے خلاف ایک بیانیہ بنانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ محض مجھے قصور وار قرار دینے کیلئے شفافیت کے ادنیٰ ترین معیار کوبھی پامال کرتے ہوئے نہایت عجلت میں عدالتی کارروائی کو لپیٹا جارہا ہے۔
میرے پاکستانیو! آپ سب کو علم ہونا چاہئیے کہ ان مقدّمات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں بلکہ یہ سب اس سیاسی تماشے کا حصّہ ہیں جو گزشتہ 22 ماہ سے اس ملک میں جاری ہے۔ جس تیزی سے یہ تمام مقدّمات لپیٹے جارہے ہیں اس کا واحد مقصد ووٹرز خصوصاً نوجوانوں کے حوصلے توڑنا اور انہیں مایوس کرنا ہے۔ آپ نے ہرگز ہمّت نہیں ہارنی کیونکہ ربّ العزّت ہی حتمی تدبیر کنندہ اور منصوبہ ساز ہے۔
ہمارے پاس سب سے طاقتور اور معنی خیز ہتھیار ہمارا ووٹ ہے جسے ہمیں ان مجرموں کو نکال باہر کرنے کیلئے پوری شدّت سے استعمال کرنا ہے جنہیں ہمارے سروں پر مسلط کیا گیا ہے۔
سرجانی اپنے پلاٹ کا جائزہ لینے والی کراچی کی خاتون پر نامعلوم افراد کا تشدد
کراچی کے اطراف میں زمینوں پر قبضہ ہو رھے ہیں
لوگ اپنی محنت کا پیسہ جوڑ کر قسطو میں پلاٹ لیتے ہیں قبضہ مافیا اس پر قبضہ کر لیتے ہے
ظلم کی انتہا
ظالموں کے قہقہے تو سنیں
فرعونیت اپنے عروج پر ہے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زمین پر رکھی سبزی جو کسی کا رزق ہے بلکہ اللہ کی نعمت ہے اس پر بوٹ رکھے اکڑا کھڑا ہے
پیرا فورس کی حرکتیں ملاحظہ فرمائیں میں نے آپ تک یہ بات پہنچائی ہے اب آپ اسے ہر جگہ پہنچائیں ان کو آئینہ دکھائیں
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتو��، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)