قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات پر اھم تھریڈ تمام ساتھی اس کو اتنا شیئر کریں کہ اعتراض برائے اعتراض کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ لگ جائے 👇🏻👇🏻(یہ نہایت اھم معلومات ہیں جن سے صرف نظر کرکے مخالفین نے ہمیشہ محض کردار کشی کی ہے ) 👇🏻👇🏻
نواز شریف جیسے بڑے لیڈر کو گلگت کمپین پر لے جانے والے اب جواب دیں کیا بلاول نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں ؟
پنجاب کی ترقی کا ماڈل الیکشن کا سلوگن بنانے والے اب جواب دیں کیا سندھ کا ترقی کا ماڈل جیت گیا ؟
سوشل میڈیا کمپین راتب خوروں کے حوالے کرنے کے یہی نتائج نکلتے ہیں اب راتب خور کہہ رہے کہ نون نے قربانی دے دی تو جناب قربانی ہی دینی تھی تو کمپین بھی ویسی ڈیزائن کرتے تاکہ یہ بہانہ تو رہتا کہ ہم نے اسے سیریس ہی نہی لیا
ایک منسٹری ہے میں نام ابھی نہی لکھ رہا میں حلفیہ کہہ رہا کہ ہر شام اس منسٹری کے تین لوگ کمشن کے کروڑ ں جیب میں ڈال کر جاتے ہیں اورسب ریکارڈ بھی بن رہا مگر ابھی نکلے گا نہی
کل تک ایک سکوٹر کی گنجائش نہی تھی ان کے فارم ہاؤس بن گے فارم ہاؤس میں پچیس پچیس لاکھ کا پودا لگ رہا جسے وہ فخریہ بتاتے ہیں ڈھائی ڈھائی کروڑ کی گاڑی لے ل�� ہے ��یاشی کے لیے فلیٹ الگ رکھے مسٹری کی لڑکیوں سے اس فلیٹ پر حاضری لگواتے اب وہ کہہ دیں ہم تنخواہ نہی لیتے تو سوچیں چند لاکھ مہینے بعد ان کے لئے کیا معنی رکھتا ہے ؟
سمجھ نہیں آرہی
ایک لیٹر پٹرول پر دوسو روپے ٹیکس دے کے
13 روپے والا بجلی کا یونٹ 70 میں لے کے
اپنے خریدے میٹر کا 700 روپے کرایہ دے کے
کس منہ سے کہوں
میاں دے نعرے وجنے ای وجنے نے
#بھتہ_خور_آئی_پی_پیز_نامنظور
ووٹ دینے والے کو عزت دو...............
حقیقت کو کب تک چھپاو کے غریب عوام سے ۔۔۔۔ پاکستان میں اگر حکومتیں عوامی ووٹ سے بنتی تو ووٹ دینے والوں کو ضرور عزت دی جاتی۔
میرا نعرہ ہے کہ ووٹ دینے والے کو عزت دو نہ کہ ووٹ کو عزت دو.................................
پنجاب کا پیسہ مریم صاحبہ نے بلوچستان کو دیا ہے پنجاب کا پیسہ ابھی گلگت بلتستان کی کمپین کے وقت پتہ چلا کہ گلگت میں بھی دیا گیا وہاں گاڑیاں دیں ہسپتال دیئے مشینیں دیں اسی پنجاب کے پیسے سے وزیر ٹایگر فورس چلا رہے اشتہاری مہم چل رہی اربوں کے جہاز خریدے جا رہے مگر سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینشن کے لئے پیسہ نہی ہے
#بھتہ_خور_آئی_پی_پیز_نامنظور
بجلی صارفین سے گزارش ہے کہ شئیر کیجئے شکریہ اپنے حصے کا فرض نبھائیں... آواز بلند کریں جب تمام بھتہ خوروں کے نام پبلش نہیں کئے جاتے۔
جن بوتل سے باہر آ چکا ھے۔
اب سولر اور لیتھیم بیٹریز کا کامبینشن ایسا بن چکا ہے کہ حکومت جتنا مرضی ٹیکس لگا لے، اسے مکمل طور پر روکنا یا توڑنا آسان نہیں رہا۔ حکومت کو شاید ابھی بھی اس بات کا مکمل اندازہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے گھر، دکانیں، فارم ہاؤسز، فیکٹریاں اور
1/11
تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ اپنے بجٹ کو تہس نہس کر دینے والے ناجائز بجلی بلز کے خلاف سوشل میڈیا پر عوامی احتجاج میں بھرپور حصہ لیا جائے تمام دوست اس ہیش ٹیگ کو استعمال کریں
#بھتہ_خور_آئی_پی_پیز_نامنظور
بد سے بدترین فیصلہ. اپنی جیب سے لاکھوں روپے لگانے والوں کو بھی نہیں بخشا جارہا، صرف اور صرف IPPs والوں کے مزے ہیں، بجلی لیے بغیر سیٹھوں کو ��ربوں روپے دینے ہیں. @akleghari کوئی شرم و حیا بچ گئی ہے تو استعفیٰ دیکر جان چھوڑدو اس غریب ملک کے غریبوں کی
ہر سولر پینل لگانے والا بھی ایک ائی پی پی ہی ہے جو اپ سے کپیسٹی چارجز بھی نہیں لے رہا جبکہ بڑے بڑے آئی پی پیز آپ سے کپیسٹی چارجز گردن پر گھٹنا رکھ کر وصول کر رہے ہیں
ریاست کے پاس ہر کام کے سیکڑوں راستے ہوتے ہیں نیت ہونی چاہیے۔ آئی پی پیز کو بند کرنے کے بھی سو راستے ہیں بس نیت نہیں ہے
کون کون آئی پی پیز ختم کرنے کے لیے ٹرینڈ کا حصہ بنے گا تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ اپنی محنت کی کمائی پرائیوٹ پاور پلانٹس کے سیٹھوں کی جیب میں جانے سے بچانے کیلئے ہم سب مل کر ایک ٹرینڈ چلانے چاہتے ہیں کون کون اس کا حصہ بنے گا سامنے آئیں
کچھ دیر پہلے پشاور کے ایک سکول کئ ویڈیو لگائی بچیاں بغیر بجلی کے بیٹھی ہیں اب یہ ویڈیو ��یکھ لیں وزیراعلی سہیل آفریدی سرکاری گاڑیوں کا جلوس لے کر اڈیالہ جا رہا ہے صوبے کا بائیس سو ارب کا بجٹ ان کاموں پر لگتا اور آخر میں نسل پرستی بیچ دیتے کہ پنجاب کھا رہا
لوگ سوچ رہے واپڈا کا کنیکشن کاٹ دیں مگر جو حالات چل رہے انہوں نے اس بات پر بل بھیج دینا کہ واپڈا کے تار آپ کے گھر سے آگے سے گزر رہے اس کا بل ہے
سیٹھ کے آگے قوم گروی رکھ دی ہے ہر صورت تاوان دینا ہو گا
لوگ گرمی میں پنکھے نہیں چلاتے، کپڑے استری نہیں کرتے، فریج استعمال نہیں کررہے کہ کہیں غلطی سے یونٹ 200 کراس نا کرجائیں
اور اس قصائی کو فکر ہے کہ کہ 200 نان پروٹیکٹڈ یونٹ والے 300 ارب کی سبسڈی استعمال کررہے ہیں۔
چوری کے 700 ارب، کپیسٹی چارجز کے4500 ارب کی اس کو فکر ای کوئی نہیں
اویس لغاری نے کا نیا کارنامہ سامنے آیا ہے ۔
اب آپ بجلی بالکل بھی استعمال نہ کریں ۔ پھر بھی بھاری بل دینے پڑیں گے۔
حکومت کیپسٹی چارجز کے نام پر عوام سے کھربوں روپے لے چکی ہے ۔ اور لے رہی ہے ۔
یعنی آئی پی پیز وغیرہ جتنی بجلی بنارہے ہیں ۔ حکومت اس کے پیسے عوام سے ل�� رہی ہے ۔ چاہے عوام وہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں ۔
اس پر لاہور ہائیکورٹ میں غیر استعمال شدہ بجلی یونٹس کی مد میں کھربوں روپے کی وصولی کیخلاف ایک شہری نے درخواست دائر کردی ہے۔
نواز شریف صاحب کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ان کے بھائی نے کی ان کی حکومتی کارکردگی نے کی ہے اور گلگت بلتستان میں میاں صاحب عرفان صدیقی صاحب کی لکھی پرانی تقاریر کر رہے ہیں جو زمینی حقائق سے بالکل اس وقت کٹی ہوئی ہیں
مجھے کیوں نکال گیا والا سوال اب اہم نہی رہا جنہوں نے نکالا تھا آنہوں نے چار سال سے شہباز شریف کو مکمل اقتدار اور سپورٹ دے رکھی ہے پنجاب بھی مریم نواز کے پاس وہ مکمل سیاہ سفید کی مالک ہے
سوال اب یہ کہ نون لیگ کو تو اقتدار واپس مل گیا مگر عوام کو کیا م��ا ہے ؟ ان کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے ؟ ان کی زندگی کیوں مہنگائی کے جہنم میں جلا دی ہے؟
حکومت کا صاف صاف اعلان ہے کہ آپ بجلی استعمال کریں نہ کریں، سولر لگائیں، بجلی بند کر کے بیٹھ جائیں، آپ نے سیٹھ کے لگائے نجی بجلی گھر کا بھتہ ہر حال میں دینا ہے۔ فکسڈ چارجز اسی کا نتیجہ ہیں۔ آر اے شہزاد @RShahzaddk
سولر پر حکومتی تکلیف کی اصل وجہ کیا ہے ؟
پاکستان میں پیدا یا استعمال ہونے والی بجلی کا تقریباً 25% سولر پاور پر منتقل ہو چکا ہے۔
نیٹ میٹرنگ کے ذریعے نیشنل ��رڈ سے منسلک سولر کی صلاحیت 5,300 سے 6,200 میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اور لاکھوں گھر، دکانیں اور ٹیوب ویل جو نیٹ میٹرنگ سے منسلک نہیں۔ وہ شامل کریں تو یہ صلاحیت 24,000 سے 32,000 میگا واٹ کے درمیان ہے۔
دوسری طرف پرائیویٹ سیکٹر اور آئی پی پیز کی کیپیسٹی 18,500 سے 19,000 میگا واٹ بنتا ہے۔یعنی سولر کی کل صلاحیت سے بھی کم
پاکستان میں بجلی کی طلب سردیوں میں تقریباً 12,000 میگا واٹ اور گرمیوں میں 30,000 میگا واٹ تک ہوتی ہے، اس لیے ان پلانٹس کی اصل پیداوار سردیوں میں کم ہو جاتی ہے مگر حکومت کو انہیں پیسے پورے دینے پڑتے ہیں
اب اصل ایشو کیا ہے جس کی وجہ سے وزیر بجلی اور حکومت پٹ سیاپا کر رہی ہے؟
اصل ایشو یہ ہے کہ سولر سے بجلی کی کل پیداواری صلاحیت آئی پی پیز سے بھی بڑھ چکی ہے اس وجہ سے نیشنل گرڈ سے بجلی کا عام خریدار کم ہو گیا ہے۔ اب ہائیڈل اور نیوکلیئر سورسز سے بنی سستی بجلی دینے کے بعد آئی پی پیز کی بنائی بجلی کہاں بیچیں ۔ کیونکہ۔پیسے تو انہیں دینے ہیں
اس لئے حکومت ایک طرف بجلی کی قیمت یا اس پر ٹیکس بڑھاتی ہے یا پھر سولر کے استعمال پر ماتم شروع کر دیتی ہے
ایسی واہیات حکومت پر بندہ کیا کہے اور کیا نہ کہے