ملفوظات حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ:
حق تعالیٰ شانہ کی عطا پر نیاز کی ضرورت:
آدمی کو اپنی کسی چیز پر بھی ناز نہ کرنا چاہیے ۔ نہ علم و فضل پر، نہ عقل و فہم پر، نہ زہد و تقویٰ پر، نہ عبادت و اعمال پر، نہ شجاعت و قوت پر، نہ حسن اور جمال پر۔ یہ سب حق تعالیٰ کی عطا ہیں۔ پھر ناز کس بات کی ؟ ناز تو اپنے کمال پر ہوتا ہے۔ جب اپنا کمال کچھ بھی نہیں، سب عطاء حق ہے تو پھر تو نیاز کی ضرورت ہے اگر بے جا ناز کرے گا تو پھر خیر نہیں ۔
بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ عوام کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے۔
صوبائی اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمٰن نے بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے امن و امان، تعلیم، معیشت، صوبائی حقوق، سی پیک، بلدیاتی نظام، قبائلی اضلاع، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی فلاح جیسے اہم قومی و صوبائی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے زور دیا کہ حقائق پر مبنی منصوبہ بندی، مضبوط معیشت، بہتر طرزِ حکمرانی اور پائیدار امن ہی عوامی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ سٹیٹ، ب�� لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے، کوئی سر اٹھائے فنا کر دو، کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجئے، کونسی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پہ نگوشیٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو، ایک پوائنٹ بتایا جائے، جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے، یہ ہماری اٹھہتر سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
"پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کو دبانا جمہوریت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر حکومت اپنے مؤقف کو عوام تک پہنچا سکتی ہے تو اپوزیشن کو بھی برابر کا حق ملنا چاہیئے"
@AslamGhauriJUI@juipakofficial
اگر ایک خطاب سے ہی ایوان اقتدار لرزنے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ سچائی کی آواز کتنی طاقتور ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کا خطاب نشر کرنے کی جرات بھی اس نظام میں نہیں۔ افسوس
@MoulanaOfficial@adilshahzeb@AwanAslamAwan1
بلوچستان حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے آپ کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان میں لاشیں گننے والے بہت ہیں، مگر جانیں بچانے والا کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ صدی فکر و بصیرت کی اُس قیادت کو یاد رکھے گی،
جس نے ہر نازک موڑ پر سیاسی شعور، آئینی بالادستی اور عوامی آواز کی نمائندگی کی
اور اُس قیادت کا نام مولانا فضل الرحمن ہے۔
وہ صرف ایک سیاستدان نہیں، بلکہ پارلیمانی سیاست، دینی فکر اور قومی معاملات میں ایک مؤثر آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر تاریخ اُن کرداروں کو ضرور یاد رکھتی ہے ��و مشکل وقت میں اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہتے ہیں۔
اسلامی سماج اور دینی معاشرت کاعملی نمونہ۔
بونیر میں تیرہ ہزار غریب عورتوں کو ہماری ٹیم عید کے نئے کپڑے دے رہی ہے تاکہ عید کی خوشیوں میں ہمارے ساتھ شریک ہو جائے
@iFazliGhafoor
پشاور: جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخوا کے امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن اور صوبائی جنرل سیکرٹری سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش نے اعلان کیا ہے کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی اپیل پر کل بروز جمعہ صوبے کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں مہنگائی اور بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش نے کہا کہ کمر توڑ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ صوبائی اور وفاقی ح��ومتیں آئی ایم ایف کے دباؤ میں آ کر روزانہ کی بنیاد پر نئے ٹیکس عائد کر رہی ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقے کا جینا محال ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی آڑ میں پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ جنگ بندی کے بعد عالمی سطح پر حالات معمول پر آ چکے ہیں۔ دیگر متاثرہ م��الک نے بھی اپنی عوام پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا، جبکہ پاکستان کے نااہل حکمرانوں نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں عوامی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے سرگرم ہیں۔ اس مشکل وقت میں جمعیت علماء اسلام عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔
قیادت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر جمعیت علماء اسلام کی کال پر میدان میں نکلیں اور اپنی آواز کو مؤثر انداز میں حکام تک پہنچائیں۔
جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخوا
مہنگائی، بدامنی اور عوام دشمن ��الیسیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔
افغانستان کے حوالے سے، حضرت ہم دو پڑوسی ملک ہیں اور جب ہندوستان تقسیم نہیں ہوا تھا، اس وقت بھی ہم پڑوسی تھے، پاکستان بن گیا تو اس کے بعد سے بھی ہم پڑوسی چلے آرہے ہیں اور افغانستان پاکستان کے بیچ میں تحفظات بھی رہے، لیکن ڈیورنڈ لائن جو ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل ایک بارڈر ہے اس پر دونوں طرف پشتون قوم رہتی ہے، ایک بھائی کا گھر ادھر ہے تو دوسرے بھائی کا گھر ادھر ہے، ایک ہی گھر کا صحن ایک طرف ہے تو کمرے دوسرے طرف ہیں، ایک ہی مسجد کا محراب افغانستان میں ہے تو اس کے مقتدی پاکستان میں کھڑے ہوتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے لئے ناگزیر بھی ہیں، لیکن ایک دوسرے سے ہم شاک�� بھی رہے ہیں۔ ہمیں تلاش کی اس بات تھی کہ افغانستان میں کوئی ایسی حکومت وجود میں آئے کہ جو پرو پاکستانی ہو، اب اگر ہم شکایت کرتے ہیں برہان الدین ربانی سے، پھر ہم طالبان کو وہاں کے افغان طالبان کو اپنا پرو پاکستانی سمجھتے ہیں، پھر جب ان کی حکومت آتی ہے تو ہم ان کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور بطور سفیر بھی ان کو جگہ دیتے ہیں اور پھر جب نائن الیون ہوتا ہے تو ہم امریکہ کے اتحادی بن کر ان پر حملہ آور ہوتے ہیں، پاکستان میں امریکہ کو اڈے بھی دیتے ہیں، فضائیں بھی دیتے ہیں، وہاں بمبارمنٹ بھی ہوتی ہے، اور دوسری طرف ہم غلاف کے نیچے ان کو پاکستان میں جگہ بھی دیتے ہیں۔ بیس سال جنگ ہوئی، ��ب ظاہر ہے بیس سال جنگ کے بعد جب وہ افغانستان میں داخل ہوئے اور وہاں کی حکومت پر انہوں نے گرفت حاصل کی، تو بہت سے مسائل ان کے اور ہمارے بیچ میں تھے، مشکلات بھی تھی، ہمارے درمیان مہاجرین کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان باہمی تجارت کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان سرحدات کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان مسلح گروہوں کا مسئلہ تھا، جب یہ ہماری ہی لوگ مسلح ہوکر افغانستان جا رہے تھے تو ہم نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا، جب وہاں انہوں نے بیس سال جنگ لڑی اور وہ ایک جنگجویانہ مہارت اس حد تک حاصل کر سکے تو وہ سٹیٹ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آگئے، آج ہم نے ان کو ایک مسئلہ بنا دیا ہے۔ سو اس وقت بھی میں گیا تھا الیکشن سے پہلے اور تمام مسائل حل کر کے آیا، یہاں میں نے بریفنگ دی سب کو اور میں نے جو کچھ حاصل کیا تھا ان کے سامنے رکھا، انہوں نے مجھے اپریشیٹ کیا، لیکن الیکشن میں دھاندلی کے نتیجے میں، میں نے پی ڈی ایم چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ اب میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سفارتی رول اتنا کمزور کیوں ہیں کہ تم پرو پاکستانیوں کو بھی اینٹی پاکستان بنا رہے ہو اور سفارتی ذرائع سے آپ مسئلے کے حل کی صلاحیت سے محروم ہیں، وہاں بمباریاں آپ کر رہے ہیں۔
میں اپریشیٹ کروں گا اپنی حکومت کو، اگر افغانستان میں ان کو پاکستان دشمن مسلح گروہوں کے مراکز معلوم ہیں اور وہاں پر وہ سٹرائک کر سکتے ہیں تو خود پاکستان کے اندر ان کے مراکز ان کو معلوم کیوں نہیں ہے؟ اور جو کچھ بنوں میں ہو رہا ہے، لکی مروت میں ہو رہا ہے، جو ٹانک میں ہو رہا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہو رہا ہے، وزیرستان میں ہو رہا ہے، وہاں پر جو صورتحال ہے اس میں سٹیٹ کو کس قدر مشکل درپیش ہے اس وقت، یہ ساری صورتحال اپنی طور پہ ایک بڑا سوال ہے اور جس کا ان کے پاس سفارتی حوالے سے کوئی جواب نہیں، صرف طاقت کا استعمال، اور صرف طاقت کا استعمال، اور اس وقت ہمارے پاس دو سرحد ہیں ایک انڈیا سرحد ایک افغان سرحد، باقی تو کوریڈورز ہیں۔ ان دو بڑی سرحدات یہ دونوں بند ہو گئی ہیں، دونوں سرحدات پر آپ کی تجارت بند ہے، ایران اس وقت آپ کے اچھے کا نہ برے کا، چائنہ کا اس وقت آپ بے اعتبار نہیں رہا ہے، اس کے سی پیک کے پورے پی��ج کو آپ نے تباہ و برباد کر دیا ہے، ملک کو کہاں کھڑا کر دیا ہے اور اسی لیے میں نے عرض کیا تھا کہ پارلیمنٹ کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور ہمیں ذرا بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے اس وقت؟ ہم تشویش میں ہیں، پارلیمنٹ تشویش میں ہیں، لیکن ان میں ہمت نہیں ہے کہ وہ ان کیمرہ اجلاس میں بھی پارلیمنٹ کا جو زیادہ تر انہی کی منشاء کا ہے وہ ان کا سامنا کر سکے اور ان کو مطمئن کر سکے۔ تو میں تو ابھی بھی کہتا ہوں کہ ان کیمرہ اجلاس بلاو، ہمیں بتاؤں کہ تمہارے سفارتی کوششیں کیوں ناکام ہیں، افغانستان ہمارا پڑوسی اور مسلمان ملک میں ہے، برادر ملک ہے، وہ کیوں ہمارے ساتھ دشمنی کی طرف چلا گیا ہے؟ اور ہم ان شکایات کا کس طرح ازالہ کر سکتے ہیں؟ یہ اب بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی کراچی میں میڈیا سے گفتگو