Gen. Secretary Pakistan Journalist Association PJA (karachi)
Bureau Chief Daily CNN
Sr. Rep QH News
Digital Media Coordinater JUI District Central
#TeamJUISindh
زیارت میں مزید 9 بے گناہ افراد کی لاشوں کی برآمدگی بلوچستان میں امن و امان کی سنگین ابتری اور شہریوں کے تحفظ میں ریاستی ناکامی کا انتہائی افسوسناک مظہر ہے۔
#JusticeForBalochistan
عوام سے کیے گئے تمام تر وعدوں کے باوجود چھاؤنی کے عین پہلو میں مسلح گروہ ایک بار پھر دندناتے ہوئے حملہ آور ہوئے، قیمتی جانیں ضائع ہوئے، بےگناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ حکومت کی امن و امان برقرار رکھنے کی دعویداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
#JusticeForBalochistan
ہنہ اوڑک کوئٹہ میں نام نہاد کالعدم تنظیم کی نہتے شہریوں پر فائرنگ کھلی دہشت گردی ہے، انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں: جمعیت وکلاء فورم
#JusticeForBalochistan
جتنا چاہے رو لیں، جتنی چاہے ایک دوسرے پر تنقید کر لیں، جب تک ہم ان حالات میں اپنے درمیان وحدت، اتفاق اور اتحاد پیدا نہیں کریں گے، تب تک ہمارے علاقے اسی طرح تباہ ہوتے رہیں گے۔
صوبائی امیر سنیٹر مولانا عبدالواسع کا احتجاجی کیمپ سے خطاب
#JusticeForBalochistan
ابابیلوں!
ایک بار پھر 11 جولائی کو قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کے زیرِ صدارت قصور (پنجاب) کی فضاؤں میں جمعیت کے نعروں کی گونج سنائی دیں گی۔
#JusticeForBalochistan
اپنے نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ وہ کسی کے ایجنڈے کا حصہ نہ بنیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم آپ کو کلاشنکوف اور پیسہ دینگے آپ لشکر بنائیں”
اگر ہمیں خود ہی لشکر کشی کرنی ہے، تو پھر ہم آپ کو ٹیکس کس بات کا دیتے ہیں؟
صوبائی امیر بلوچستان مولانا عبدالواسع
#JusticeForBalochistan
جتنا چاہے رو لیں، جتنی چاہے ایک دوسرے پر تنقید کر لیں جب تک ہم ان حالات میں اپنے درمیان وحدت اتفاق اور اتحاد پیدا نہیں کریں گے۔
تب تک ہمارے علاقے اسی طرح تباہ ہوتے رہیں گے۔
امیر جےیوآئی بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع صاحب
#JusticeForBalochistan
:ہنہ آپ کی فوجی چھاؤنی سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، آج ہنہ کے شہداء کا حساب معلوم نہیں۔ پھر آپ باقی بلوچستان کی حفاظت کیسے کریں گے؟ گوادر اور واشک کے عوام آپ سے اپنی حفاظت کی توقع کیسے رکھیں؟
#JusticeForBalochistan
ہنہ اوڑک کوئٹہ میں نام نہاد کالعدم تنظیم کی نہتے شہریوں پر فائرنگ کھلی دہشت گردی ہے، انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں: جےیوآئی وکلاء فورم
#JusticeForBalochistan
بلوچستان پاکستان کا اہم حصہ ہے۔ وہاں کے عوام بھی وہی چاہتے ہیں جو ہر شہری چاہتا ہے: امن، روزگار، تعلیم اور محفوظ زندگی۔ریاست کی ناکام پالیسیوں نے حالات کو اس دہانے پر لاکھڑا کیا ہے
#JusticeForBalochistan
بلوچستان میں ہر روز بہنے والا خون ایک سوال بن چکا ہے۔ آخر اس بدامنی کا ذمہ دار کون ہے؟ عوام صرف ایک مطالبہ کرتی ہے: امن، تحفظ اور انصاف۔
#JusticeForBalochistan
اسلام آباد: سرابرہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی وفد کے ہمراہ سینئر سیاسی خاندان سیف اللہ برادران کی رہائش گاہ پر آمد
سابق وفاقی وزیر سلیم سیف اللہ خان نے سرابرہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کااستقبال کیا
ملاقات میں ملکی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
ملاقات میں علاقائی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت اور تشویش کا اظہار
باہمی اتحاد سے علاقے کی بدامنی کا مقابلہ کرنے کا عزم
اپنی عوام کو دہشتگردوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا سکتا ۔رہنماؤں میں اتفاق
ملاقات میں سینیٹر مولانا عطاء الرحمان، مولانا اسجد محمود، مولانا محمد انور، مولانا عبد الحق،انجنئیر امیر نواز خان
شریک
ملاقات میں ہمایون سیف اللہ خان، سلیم سیف اللہ خان،انور سیف اللہ خان،عثمان سیف اللہ شریک
ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، ہم اسٹیبلشمنٹ کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمارے سامنے ایک آئین بھی ہے، ہمارے سامنے ایک قانون بھی ہے، جو ہمارے دائرہ کار کا تعین کرتا ہے، ہمارے اختیارات کے دائرے کو متعین کرتا ہے، اگر وہ اپنے دائرے میں رہے ہمارے سروں کے تاج ہیں۔
لیکن اگر وہ سیاست میں فریق بن کر سامنے آتے ہیں، انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرتے ہیں اور بلوچستان میں اور گلگت میں حال ہی میں جو کارنامے دکھائے گئے ہیں اور جس طرح نتائج تبدیل کیے گئے ہیں میرے خیال میں اگر وہ سیاست میں آئیں گے تو پھر سیاست میں ہم ہیں اور سیاست میں ان کو جواب بھی دیا جائے گا۔
اگر وہ اپنے فرائض تک محدود رہتے ہیں ہم نے جب انڈیا کے ساتھ لڑائی ہوئی سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور ہم نے کہا ہم ایک قوم ہیں، اگر آپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور میں اچھے کاموں کا اچھی بات کہوں گا۔
لیکن اگر آپ غلط راہ پہ چلیں گے تو ہم گونگے نہیں ہیں کہ ہم گونگے شیطان کی طرح خاموش رہیں، پھر ہم پارلیمنٹ میں بھی بات کریں گے اور پارلیمنٹ آباو ہے، پارلیمنٹ سپیرئیر ہے، پارلیمنٹ میں ہر ایک بات کی جا سکتی ہے، دفاع کی قوت ہو وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، یہاں پر کوئی بھی ادارہ ہو اسٹیبلیشمنٹ ہو، بیوروکریسی ہو، وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، اگر پارلیمنٹ آج بجٹ پاس کر رہی ہے اور بجٹ میں ہم اپنے اداروں کو جو یہاں سے پیسہ جائے گا، یہاں سے بجٹ جائے گا اور اس بجٹ سے اس کو غلط طور پر استعمال کریں گے تو اس پر تنقید پارلیمنٹ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ لہذا پارلیمنٹ کو آزاد رہنے دیجیے، پارلیمنٹ کو سپیرئیر رہنے دیجیے، اس کو سپریم رہنے دیجیے اور کسی کو بالاتر ہونے کا تصور نہیں ہے، ہم کوئی ایسی تنقید نہیں کر رہے ہیں خدا نخواستہ کہ ہم ان کا کوئی مزاق اڑا رہے ہیں، کوئی برے الفاظ سے ان کو یاد کر رہے ہیں، ہم ان کے کردار، ان کے ایٹیچیوڈ، ان کے موقف، ان کے رویوں پر اپنی شکایت ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، تو وہ ہم ریکارڈ پر لا رہے ہیں۔
میاں شہباز شریف صاحب وزیراعظم ہے، تشریف فرما ہے، کیا جب ہم اکٹھے ایک سٹیج پر ہوتے تھے تو انہوں نے اس زمانے میں فوج کے سربراہ کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اس وقت جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا اس وقت انہوں نے فوج کی ادارہ کو محکمہ زراعت نہیں کہا تھا؟
تو یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ ذرا اپنی ماضی کو بھی پہلے دیکھ لیا کریں اس کے بعد آپ ہماری تنقید کو اتنا سخت ردعمل دیں۔
قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔
یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔
بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب