Multiple Palestinians have been killed by Israeli attacks on the al-Mawasi area in Gaza's Khan Younis, where the PRCS has a field hospital, according to Palestinian media.
🔴 LIVE updates: https://t.co/TfPE70qQmM
Sam Droege is the keeper of the bee lab, a 40-year government employee who has been warned not to speak publicly about the lab's potential closure.
That warning isn't stopping him.
https://t.co/7BDK4wJy44
Nationwide, bees are in trouble. Native bees are experiencing population declines, and honeybee hives are dying at high rates.
Despite this, President Trump's budget proposal may shut down a leading lab studying the insects. https://t.co/7BDK4wJy44
سابق وزیراعظم عمران خان کا پیغام
میں نے تاریخ میں قاضی فائز عیسیٰ جیسا متنازعہ اور بدترین چیف جسٹس نہیں دیکھا۔ ایکسٹینشن مافیا گینگ آف تھری کا حصہ ہے۔ قاضی نے اپنی ذاتی مفاد اور ایکسٹینشن کیلئے آئین پاکستان، سپریم کورٹ، جمہوریت اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ قاضی نے لندن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے اور بھرپور کوشش کی ہے کہ لندن پلان کے مطابق تحریک انصاف مکمل طور پر کرش (تباہ) ہو، نواز شریف کے تمام کیسز معاف ہوں اور میں جیل میں ہی رہوں۔ لندن پلان کے مطابق قاضی نے تحریک انصاف کو کرش ہونے دیا اور بلکل اسی طرح خاموش رہا جیسے مغربی طاقتیں اسرائیل کو اہلِ فلسطین کو کرش کرنے کی کھلی چھوٹ دے کر خود خاموش بیٹھی ہیں۔ اپنی طرف سے تحریک انصاف کو مکمل کرش کرنے کے لئے پہلے سکندر سلطان راجہ کو استعمال کیا گیا اور پھر قاضی فائز عیسیٰ اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ کمشنر راولپنڈی نے ان دونوں کی ملی بھگت سے پردہ اٹھایا اور ساری سازش کو بے نقاب کر دیا۔ کمشنر راولپنڈی کا ہر الزام درست ثابت ہوا ہے۔ قاضی اور سکندر سلطان نے مل کر ایسا ماحول بنایا کہ تحریک انصاف کو میدان میں رہنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا۔ کسی بھی سیاسی جماعت سے اگر انتخابی نشان واپس لے لیا جائے تو اس جماعت کو کالعدم ہی تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے ووٹرز کو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے بیلٹ پیپر پر نشان ہی مہیا نہیں کیا جاتا۔ کمشنر کے الزامات کے مطابق پہلے سکندر سلطان راجہ نے اپنی بدنیتی ظاہر کرتے ہوئے ہم سے انتخابی نشان چھینا اور پر قاضی نے ۱۲جنوری کو سکندر سلطان کے فیصلے کو تحفظ دیتے ہوئے آخری کیل ٹھونکا۔ جب تک ان کو یقین نہیں ہوا کہ تحریک انصاف مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے انہوں نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ 8 فروری کے الیکشن کے موقع پر انہیں یہی گمان تھا کہ اب تحریک انصاف کبھی بھی جیت نہیں پائے گی کیونکہ ظاہری طور پر اپنا انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے جماعت میدان میں موجود ہی نہیں تھی لیکن عوام نے ان کی تمام تر منصوبہ سازی کو ناکام بنا دیا اور 8 فروری کو ایک انقلاب آیا۔
اس وقت قاضی 8 فروری کے مینڈیٹ چوری کو تحفظ دینے کیلئے مکمل ڈھٹائی کے ساتھ کبھی الیکشن ٹربیونل سلطان راجہ کی مرضی سے لگانے کا فیصلہ دیتا ہے کبھی سارے قواعد و ضوابط کو رد کر کے غیر قانونی بنچ تشکیل دیتے ہوئے ہارس ٹریڈنگ کو قانونی جواز مہیا کرتا ہے تاکہ ہمارے بندے توڑ کر اس غیر قانونی ترمیم کو پاس کروا سکے۔ اس ترمیم کے ساتھ اس کی اپنی ذاتی ایکسٹنشن منسلک ہے اور یہ کھل کر بے نقاب ہو چکا ہے۔ یہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی بھی حد تک گرنے کو تیار ہے۔ یہ ایک ایسی پارلیمنٹ جو کہ فارم ۴۷ اور این آر او ٹو کی پیداوار ہے اور جسے آئینی ترمیم کرنے کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز حاصل نہیں ہے۔ یہ اس پارلیمنٹ کو اپنی اور اپنے گینگ کی ایکسٹنشن کی خاطر ہارس ٹریڈنگ جیسی بدنام زمانہ جمہوری روایت کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ پی ڈی ایم اس ایکسٹنشن مافیہ کے گینگ آف تھری کی چوتھی ممبر ہے اور ان سب کے مفادات ایک ہیں۔ ان تمام مفاد پرستوں کے ذاتی پیسے اور جائیدادیں بیرون ملک ہیں۔ محسن نقوی کے پاس اپنا سکوٹر تک نہیں جبکہ اسکی بیوی دبئی میں پانچ سو ملین ڈالر کی جدائیداد کی مالکن ہے جو کہ دبئی لیکس میں سامنے آ چکی ہے، اس کے پاس اتنی جائیدداد کہاں سے آئی؟۔ اسی طرح شریف خاندان یا زرداری خاندان کا سارا پیسہ، کاروبار اور جائیدادیں ملک سے باہر ہیں۔ اب یہ سب مل کر سپریم کورٹ سے غلط فیصلے لیکر آئینی ترمیم کا سوچ رہے ہیں اور ہمارے لوگوں کے اغوا کو قانونی بنا کر اس 8 فروری کی چوری کو ہضم کرنا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کو ایکسٹنشن دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اسکا راستہ روکیں گے کیونکہ یہ عوام کو غلام بنانے کی سازش ہے۔
اپریل ۲۰۲۲ میں جب ہماری حکومت سازش کر کے گرائی گئی تو الزام لگایا گیا کہ پاکستان دنیا میں مکمل طور پر تنہا(آئیسولیٹ) ہو چکا تھا جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا تھا، ہمارے دور میں پاکستان میں دو اسلامی کانفرنس ہوئیں جن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے شرکت کی۔ اس نوعیت کی کانفرنسز پاکستان میں 17 سال کے بعد منعقد ہوئیں۔ ان کانفرنسز میں چین کے وزیر خارجہ نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ اگر سعودی ولی عہد عزت ماب جناب محمد بن سلمان کے ہماری حکومت کے ساتھ تعلقات بہترین نہ ہوتے تو ان کانفرنسز کا انعقاد ناممکن تھا۔ یہ سارا جھوٹا پراپیگنڈا جنرل باجوہ نے پھیلایا۔
1/2
@SaleemKhanSafi You are right behtar to ye tha k sab mil k yani sunni breli shia or tamam mazhabi party mil kr aik mutaqqi shakhs k hath pr baith kr sary maslay hal hojaingy
@BTCST2020 Y is this project not promoting and explaining any improvement in technology. Can we trust blindly. Management must share information to ensure trasnsperncy.
@ImranKhanPTI Ndd a vry rich heritge bt stil v hvn't prvidd facilities tht it nded i obsrv as its my hmtwn, tht mny forgnrs cme here & wr vry upst regarding lck of fciltys lk hotls & othr modification. I hrd frm ppl tht thy wsh it as fasinating,atrctve,&tht reflcts more respect to the place