قربان جاؤں نبی کریم ﷺ پر۔
مکہ سے مدینہ کا فاصلہ تقریباً 450 کلومیٹر ہے۔ آج کے دور میں یہی سفر بس کے ذریعے چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے، لیکن جب انسان اس راستے کے بیابان، ریگستانی علاقے اور پتھریلے پہاڑ دیکھتا ہے تو ذہن فوراً اس بات کی طرف جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے وقت یہ کٹھن سفر کس طرح صبر اور استقامت کے ساتھ طے فرمایا ہوگا۔ اُس وقت نہ سہولتیں تھیں، نہ آسان راستے، اور سفر بھی اونٹوں پر کیا گیا تھا، سخت گرمی اور دشوار گزار حالات کے ساتھ۔
نبی کریم ﷺ نے مکہ میں تیرہ سال تک اسلام کی دعوت دی، لیکن کفار کی مخالفت دن بدن بڑھتی گئی یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے سخت دشمن بن گئے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کا فیصلہ ہوا۔
مدینہ روانگی سے قبل نبی کریم ﷺ نے اپنے قریبی ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غارِ ثور میں تین راتیں قیام فرمایا۔ اس دوران حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہ مکہ کی خبریں خفیہ طور پر پہنچاتے رہے، حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا نہایت احتیاط سے کھانا غار تک پہنچاتی رہیں، جبکہ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اپنے ریوڑ کے ذریعے قدموں کے نشانات مٹاتے رہے تاکہ دشمنوں کو سراغ نہ مل سکے۔
ایک موقع پر جب دشمن غار کے بالکل قریب پہنچ گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے، اس پر نبی کریم ﷺ نے اطمینان دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ واقعہ قرآن مجید کی سورۃ التوبہ کی آیت 40 میں بھی ذکر ہوا ہے۔
بعد ازاں ایک ماہر رہنما، عبداللہ بن اریقط، کو راستے کی رہنمائی کے لیے ساتھ لیا گیا، جس نے نبی کریم ﷺ کو ایسے غیر معروف راستوں سے مدینہ کی طرف رہنمائی کی تاکہ قریش کی نظر سے محفوظ رہا جا سکے۔
مدینہ پہنچنے سے پہلے نبی کریم ﷺ کچھ دن قبا میں مقیم رہے، جہاں پہلی مسجد یعنی مسجد قبا کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا، اور پھر وہ مبارک لمحہ آیا جب مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی، جو آج پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک دینی اور روحانی مرکز ہے۔
اُمت کے لیے ہمارے آقا ﷺ نے کتنی کتنی مشقتیں برداشت کی ہیں ہم کبھی بھی اُن کا حق ادا نہیں کر سکتے 🥺🥺
Do you doubt that the Almighty can solve your problem? The Lord of the Worlds can turn night into day, what makes you think He can’t turn your burdens into blessings?