ایک انسان جن کی وجہ سے آپ کو شہرت اور وزارت ملی اور بدلے میں آپ نے کیا دیا ؟ ایک محب وطن پاکستانی بے گناہ جیل میں ہو تو ان کی بہنیں باہر آکر ان کے حق کے لیے آواز اٹھائے تو یہ کونسی موروثی سیاست ہو گئی؟ آگے بڑھ کر ساتھ نہیں دے سکتے حوصلہ نہیں دے سکتے تو خاموش تو رہ سکتے ہیں !
While Imran Khan rots in Pakistani jail, Indian legend Kapil Dev gets emotional: Imran Ke Haalat Ko Dekh Kar Dukh Hota hai. No way for Pakistan to treat their former Prime Minister.
Watch this. Full podcast drops Sunday 7pm on @sports_tak@therealkapildev@ImranKhanPTI
#ImranKhan
معید پیرزادہ کیساتھ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے ایک بات پر بحث چل رہی تھی کہ کشمیر میں پاکستانی جرنیل ایسے حالات کیوں پیدا کر رہے ہیں
معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کیساتھ پانی کے معاملے میں مکمل پھس چکے ہیں اور مزاکرات چاہتے ہیں اس سلسلے میں یہ امریکہ کا استعمال کر رہے ہیں لیکن یہ اتنے زیادہ نعرے لگا چکے ہیں کہ ہم سانس بند کر دیں گے مار کے رکھ دیں گے کہ اب ان کے پاس واپسی کا راستہ مشکل ہے اور بھارت ان کی بات ایسے کیوں مانے گا
بھارت ان سے یہ چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں یہ مکمل طور پر دستبردار ہو جائیں اور بھارت کو یقین دلا دیں کہ کشمیر سے یہ اپنے ہاتھ اٹھا چکے ہیں اس سلسلے میں یہ کشمیر کو بھی گلگت بلتستان کی طرح ایک صوبہ بنا دیں گے
معید پیرزادہ پچھلے چند ہفتوں سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو مزاکرات کی خبریں بہت جلدی سننے کو مل جائیں گی اور امریکہ اس سلسلے میں ان کی مدد کرے گا
آج طلعت حسین اور جاوید چوہدری نے بھی وہی بات کہی کہ پاکستان بھارت کیساتھ پانی پر مزاکرات کر رہا ہے اور امریکہ ان مزاکرات کو فسلیٹیٹ کر رہا ہے یہ بات معید پیرزادہ پچھلے ڈیڑھ مہینے سے ہمیں کہہ رہے تھے
معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جرنیلوں نے جان بوجھ کر حالات خراب ہونے دیے تاکہ کل کو انہیں ایک بہانہ مل جاۓ اور کشمیر کو یہ صوبہ بنا کر بھارت کو مطمعن کر دیں اور اس فیور کے بدلے اپنا پانی کھلوا لیں
شہباز شریف ہم آپ کی پیشکش کو قبول کرتے ہیں۔ 2018 الیکشن کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ 2024 الیکشن کے فارم 47 کی بھی تحقیقات کرائی جائے۔ ہمت کریں اور آزادانہ جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کریں۔ جیسے عمران خان نے اسمبلی کے فلور پر 2018 الیکشن کی آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی جس پیشکش سے تم بھاگ گئے تھے۔ حالانکہ 2018 الیکشن میں 35 ایسے حلقے تھے جن پر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو پانچ سو سے کم ووٹ پر ہرایا گیا۔ 8 فروری کے الیکشن میں آپ کی جھوٹی اڑان کے بیانیے کو عوام نے مسترد کیا اور عمران خان کو 180 سے زائد نشستوں پر کامیاب کرایا۔ تم جعلی وزیر اعظم اور چور دروازے سے آئے ہوئے مسلط شدہ ٹولا ہو۔
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری حکومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشاء اللّٰہ یہ خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی بدلو۔
پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں فتح مبارک۔ خصوصی مبارکباد خالد خورشید اور انکی ٹیم کو۔
تمام فسطائیت کے باوجود گلگت بلتستان کی عوام کا شاندار کام۔ کیا شاندار اور دلیر قوم ہے۔ گلگت بلتستان آپکا شکریہ۔
A leaked Pakistani diplomatic cable has reignited controversy surrounding the removal of former Pakistan Prime Minister Imran Khan, with his supporters claiming the document supports allegations of US involvement in his ouster.
Investigative outlet Drop Site published what it described as the original classified “cypher” repeatedly referenced by Khan as proof of a foreign conspiracy against his government.
The document reportedly details a meeting between Pakistan’s then ambassador to Washington and senior US State Department official Donald Lu shortly before Khan was removed through a no-confidence vote in April 2022.
#ImranKhan #Pakistan #US #PakistanPolitics #ImranKhan
Long after Imran Khan said there is proof of #US meddling in #Pakistan's affairs, the cables documenting this interference are now out for public records. https://t.co/fKF7KIyQ0R
میرا رب سچ کا خُدا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیشہ حق اور سچ پر رہنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ آج سائفر کی حقیقت سامنے آگئی۔ عمران خان صاحب نے ہمیشہ سچ بولا ہے۔ ہمیشہ حق بات کی ہے۔
عمران خان صاحب نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں کی سالمیت اور خودمختاری کی بات کی ہے۔ اپنی قوم کی عزت نفس کا خیال رکھا ہے۔ غلامی قبول نہیں کی۔ وہ ایک آزاد شخص ہے اور اپنی قوم کو بھی آزاد دیکھنا ان کا خواب ہے۔ جو ہر صورت پورا ہوگا انشاء اللّٰہ
اڈیالہ کی دیواریں کچھ وقت کے لئے انہیں قید تو رکھ سکتی ہے لیکن دیواروں کے پیچھے بھی وہ ایک آزاد شخص ہیں۔ انشاء اللّٰہ یہ دیواریں ایک آزاد شخص کو زیادہ دیر قید نہیں رکھ پائینگی۔ ناجائز طریقے سے کرسیوں پر بیٹھے بیرونی غلام آزاد ہو کر بھی غلام ہیں۔
پاکستانیوں کا مینڈیٹ چوری کر کے نااہلوں کو ملک پر مسلط کیا گیا ہے۔ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ عوام پر قرضوں، مہنگائی اور بیروزگاری کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ پاکستان دن بدن تباہی کی طرف جا رہا ہے لیکن کچھ لوگوں کا مفاد اور مقصد عمران خان صاحب کو جُھکانا اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنا ہی ہے اور یہ خواب انشاء اللّٰہ کبھی پورا نہیں ہوگا۔
یہ نااہلوں کا ٹولہ اب مزید ملک پر اور مُلک پر مسلط کرنے والوں پر بوجھ بن گیا ہے۔ عمران خان صاحب واحد شخص ہے جو پاکستان کو بچا سکتا ہے۔ جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیرونی طاقتوں سے پاکستان کے لیے فیصلے کر سکتا ہے۔ بیرونی غلامی کو Absolutely Notبول سکتا ہے۔ معیشت بہتر کر سکتا ہے۔ قوم کو اکٹھا کر سکتا ہے۔ قوم کو صرف اس پر اعتماد ہے۔ عمران خان صاحب نے اب آنا ہے۔ یہ قوم کی ضد ہے اور ملک کی ضرورت۔
سائفر کی اصل کاپی امریکہ میں شائع ہوگئی
جنرل باجوہ مریم نواز جلسوں میں سائفرکو جھٹلاتےرہےحقیقت واضح ہوگئی کہ بیرونی حکم پرپاکستان کی اینٹ سےاینٹ بجادی گئی اب اگرفوج میں واقعی احتساب کا قانون ہے تو جنرل باجوہ کیخلاف مقدمہ چلایا جائیگا؟؟؟
تشدد کرکے زبردستی جھوٹے بیانات دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بنی گالا کا نام زبردستی شامل کروایا جا رہا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ صرف ایک گندے نظام کی نشانی نہیں بلکہ سیاسی انتقام اور اداروں کے غلط استعمال کی بدترین مثال ہے۔ پہلے سے گندا نظام اب مزید ننگا ہو چکا ہے۔
Today, I spoke with my counterpart, the Minister of Foreign Affairs for Pakistan, His Excellency Mohammad Ishaq Dar.
South Africa welcomes Pakistan’s mediation efforts in the Middle East.
We continue to call for a cessation of all hostilities and strict adherence to international law to prevent further regional escalation.
We note the ongoing initiatives aimed at a comprehensive, just, and lasting peace. The sovereignty and territorial integrity of all nations must be respected, and in accordance with international humanitarian law, civilians and infrastructure must never be targeted.
South Africa urges all parties to engage in good faith negotiations.
We reaffirm our support for impartial mediation and commend Pakistan’s leadership in restoring the primacy of diplomacy in the region.
🚨 باكستان بلد جميل ولديه طبيعية خلابة. اتمنى رؤية السياح السعوديين بين اخوتهم في باكستان. كما اتمنى تواجد استثمارات سعودية في قطاعات الزراعة والصناعات والتكنولوجيا.
PAKISTAN: The unlawful detention of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) supporters yesterday, who were protesting outside Adiala jail, Rawalpindi, is yet another example of the repression of the right to protest in the country. Among those detained were former Prime Minister Imran Khan’s sisters, Noreen Niazi and Uzma Khanum, who had gathered outside the Adiala jail premises as part of court-mandated weekly family visits which have been denied since 2 December 2025.
Instead of facilitating lawful visitation, authorities responded with arbitrary detention, tear gas and baton charge. Imran Khan’s sisters and other women protesters were forcibly confined for hours in a closed shop near the jail, while dozens of others were detained in the open air for nearly five hours in torrential rain.
This incident is part of a pattern of targeting PTI supporters and former Prime Minister Imran Khan’s family by criminalizing peaceful protest and using sweeping and arbitrary bans through section 144 of the Code of Criminal Procedure as a blanket tool to silence dissent.
Amnesty International urges the Pakistani authorities to immediately end their crackdown on peaceful protests, respect the rights to freedom of expression and peaceful assembly and ensure unhindered access to court‑mandated family visits for Imran Khan.