اسے کہتے ہیں منہ انگلیاں سر دھڑ سب کچھ کڑاہی میں~یہ بجلی گھر بجلی پیدا کریں یا نہ کریں انہیں اربوں کی ادائیگی ہوتی ہے۔ان کا آڈٹ نہیں ہوسکتا۔اب انکشاف ہوا ہے ان کو چار سالوں میں 7000 ارب روپے کی کیپسٹی چارجز کی مدد میں ادائیگی ہوئی ہے اس پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ بلکہ کسی کمائی پر ٹیکس نہیں ہے۔😳
سب بھاری ٹیکس، چارجز، لیوی، بلز، عوام نے دینے ہیں۔۔ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں جنہیں اتنا کچھ دیا جارہا ہے۔۔
پاکستان کی موجودہ تباہی (مہنگائی )کے پیچھے یہ تین ماسٹر مائنڈ ہیں !
اور انکے لٹل ماسٹر سچن شہباز شریف فریم سے باہر ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ تر ملک سے بھی باہر ہی ہوتے ہیں۔
میاں نوازشریف صاحب ، میڈم چیف منسٹر صاحبہ آپ کے ووٹوں کی تہس نہس کرنے میں یہ چاروں لوگ شبانہ روز محنت
1/2
ظلم کے اس استحصالی نظام کے سامنے جب تک عوام اپنا ایک عوامی جمہوری سیاسی نظام نہیں بنائیں گے، فوجی اور سیاسی اشرافیہ اسی طرح عام لوگوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مارتی رہے گی۔ کبھی مہنگائی سے، کبھی گولی سے اور کبھی ذلت آمیز سلوک سے۔۔۔ یاد رکھیں جو آج اس نظام کا حصہ ہیں وہ کل جعلی انقلابی بنے ہوئے تھے، جو آج انقلابی بنے ہوئے ہیں وہ کل اس نظام کا حصہ تھے، ان سے امیدیں لگاؤ گے تو ہمیشہ شکست کھاؤ گے۔
عام لوگو !! اگر اپنی تقدیر بدلنی ہے تو کھڑے ہو جاؤ، کسی ایک شخص کے پیچھے نہیں، کسی خاندان کے پیچھے نہیں، ایک نظریے کے پیچھے اور وہ نظریہ ہے خاندانی اور موروثی علتوں سے پاک جمہوریت، مڈل کلاس کا اقتدار، اداروں جیسی جمہوری سیاسی جماعتیں، غریب کے بچوں کے پاس بھی اقتدار تک پہنچنے کا برابر حق۔ بخدا مجھے اقتدار نہیں چاہئے، میں کبھی آپ سے ووٹ نہیں مانگوں گا، کبھی کوئی سیاسی یا حکومتی عہدہ یا اختیار اپنے پاس نہیں رکھوں طا۔۔۔ لیکن خدا کا واسطہ ہے کہ صرف اپنی طاقت کو سمجھ جاؤ، اپنے لیے کھڑے ہو جاؤ، متحد ہو جاؤ، اپنے اقتدار کے لیے، عام آدمی کی حکمرانی کے لیے اور عوام کے راج کے لیے۔
فوجی راج کا مقابلہ بھٹو راج، شریف راج یا خان راج سے نہیں۔۔۔۔ صرف عوام راج سے کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان زندہ باد
کشمیر پائندہ باد
Deadly clashes have erupted in Pakistan-administered Kashmir after weeks of protests and road blockades.
Protesters are demanding political reforms, including the removal of disputed assembly seats ahead of legislative elections.
اخے عوام ٹیکس نہی دیتی ہے اور کاروبار ریاست تو جیسے شہباز شریف رات کو ٹوپیاں سی کر بیچتے اس کمائی سے چلتے ہیں
یہ بند بجلی گھروں کے اربوں روپے یہ لگثری جہاز یہ لامحدود مراعات سب اسی کمائی سے آتی ہیں
At least 20 people have been killed in Pakistan-administered Kashmir after security forces fired guns and tear gas at people protesting over regional elections.
Al Jazeera's Kamal Hyder reports.
پنجاب پولیس میں کالی بھیڑوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اٹارنی جنرل کے گھر چھاپہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں پنجاب پولیس اکثر جان بوجھ کر صرف چھاپے نہیں مارتی بندے بھی مار دیتی ہے بعد میں کہتی ہے غلطی ہو گئی راولپنڈی میں ارشاد خان قتل کیس میں CCD کا ایک SHO خود قتل کروانے میں ملوث ہے
@Aadiiroy2 sir sab kashmiri jhot bolnrahe hain kya sirf reyasat government or pmln sachi hai baki
awam syasi party sab jhoti hain media to wese hi kuch report nahi kerta like #tlp
🚨فرعون وقت نے پھر پیٹرول کی قیمت کم کرنے سے انکار کر دیا
آج عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود تقریباً دو روپے لیٹر تیل اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے ڈیزل ایک دو روز میں 400کا لیٹر ہو جائے گا
جس وقت یہ روز روز والا سسٹم لائے تو چمچے کڑچھے لکھ رہے تھے شفافیت پر مبنی نظام اور عوام کو فوری فائدہ ہو گا
شہباز شریف کے ہوتے عوام کا فائدہ ہو جائے یہ ممکن ہی نہی ہے
ہاتھوں سے لگائی گرہیں، دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں۔
منصور عثمان اعوان انتہائی پیاری، ملنسار، محبتی اور مہذب شخصیت ہیں۔ گزشتہ 1 دہائی کے تعلق کے دوران کبھی تصور میں بھی نہیں آیا کہ انکی زبان، ہاتھ یا ذات کسی کو نقصان پہنچا ہوگا۔
اگر لاہور جیسے شہر (جہاں میڈیا، سوشل میڈیا بہت متحرک ہے) میں پنجاب پولیس کے اہلکار اٹارنی جنرل کے گھر میں گھسنے کے جرات کر گئے ہیں تو صرف اس ایک واقعہ سے اندازہ لگا لیں کہ پنجاب بھر کے عوام پسماندہ شہروں (جہاں میڈیا سوشل میڈیا کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے) میں پولیس کے کیسے بے رحمانہ سلوک اور لوٹ مار کا سامنا کر رہی ہوگی۔
کئی ماہ سے مسلسل نشاندہی کر رہا ہوں کہ پنجاب میں پولیس اہلکاروں اور افسروں کی اکثریت اب پیشہ ڈاکوئوں اور بھتہ خوروں کا روپ دھار چکی ہے، ایک فون کال پر بھتہ مانگا جا رہا ہے، بلاجواز شہریوں کو اغواء کر کے خفیہ تھانوں، ٹارچر سیلوں میں رکھا جاتا ہے اور ڈیل کے بعد چھوڑا جاتا ہے۔
نہ جانے عوام پر یہ ظلم کہاں جا کر رکے گا۔
Instead of taking the wounded who were fighting for their lives to the hospital.
Pak police reportedly loaded them into their vehicles and took them to the police station.
This is the height of brutality and state terror.