@iqrarulhassan یاد رکھیں آپ اب سیاست میں ہیں اور سیاست برداشت کا نام ہے، Imran Khan کے خلاف بھی بہت کچھ کہا گیا مگر انہوں نے کبھی ذاتی حملہ نہیں کیا، یہ تو ابھی شروعات ہے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے کیونکہ ابھی تو آپ نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔
@iqrarulhassan بھائی، اس نے آپ کی کوئی جیتی ہوئی سیٹ نہیں چوری کی، اس نے تو صرف اپنے کولیگ سے تبصرہ کیا تھا اور آپ کو براہِ راست مخاطب بھی نہیں کیا، لیکن آپ کو ویوز کے لیے ایک پوائنٹ مل گیا؛ آپ چاہتے تو اسے خوش اخلاقی سے بھی جواب دے سکتے تھے مگر اقرار سر کو کانٹینٹ چاہیے تھا جو مل گیا،
@alizaihere یہ جو بالٹی بلٹی کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ مشکل وقت میں تمہارے لوگ منظر سے غائب ہو جاتے ہیں، جبکہ عمران خان ہمیشہ عوام کے درمیان کھڑے ہو کر ڈٹ جاتے ہیں۔ تمہارے لیڈر بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے سے تقریریں کرتے ہیں، مگر خان صاحب بغیر کسی خوف کے، ہر خطرے کے باوجود،
@iqrarulhassan اگر عمران خان کے ساتھ لاکھوں لوگ ہیں تو اس کی وجہ ان کا وژن اور عوامی اعتماد ہے، نہ کہ صرف شخصیت۔
اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ صرف ایک شخص کی حمایت نہیں، بلکہ ایک سوچ اور نظریے کی حمایت ہے اور یہی کسی بھی بڑی سیاسی تحریک کی اصل طاقت ہوتی ہے۔
@iqrarulhassan مگر ہر دور میں کوئی نہ کوئی ایسا لیڈر ہوتا ہے جو عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے اور موجودہ دور میں یہ کردار عمران خان ادا کر رہے ہیں۔
لوگ کسی کے پیچھے اندھا دھند نہیں چلتے، بلکہ وہ امید، تبدیلی اور انصاف کی بات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
@iqrarulhassan کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ عوام کی وابستگی کو صرف "شخصیت پرستی" کہہ دینا ایک سادہ اور ادھورا تجزیہ ہے۔
عمران خان کی مقبولیت صرف ایک شخصیت ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے بیانیے، جدوجہد اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی وجہ سے ہے۔ برصغیر کی سیاست میں کئی بڑے نام آئے،
Warmest wishes to all Pakistanis in Dubai on Pakistan Day! 🇵🇰
From the heart of this vibrant city, we're celebrating with you. The Burj Khalifa shines bright with Pakistani pride, reminding us of the strength in unity and the beauty of heritage. May your day be filled with joy, reflection, and a deep sense of patriotism.
#PakistanDay #Dubai #UnityInDiversity 🇵🇰🇦🇪 @GovtofPakistan@PakinDubai_@PakPMO@PakinUAE_
@iqrarulhassan@BilalRajpoot52 سب سے بڑا دوکاندار تو تم ہو اہک ہفتہ عمران خان کا نام اپنے اکاؤنٹ پے نہیں لینا پر تم کو پتا لگ جائے گا اپنے اوقات کا۔ عمران خان کی وجہ سے تو تمہارا بھی اچھا خاصا دکان چل رہا ہے۔
@RShahzaddk ہاہا یہ بچو کا کام نہیں تمہاری نون لیگ بشمول تمام پارٹیاں کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ جناب عمران خان کو ہاتھ بھی لگائے اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ عمران خان کو لمبی زندگی عطا فرمائے تاکہ پٹواریوں کا مکمل خاتمہ ہو سکے اور ایک روشن اور ترقی یافتہ اور پر امن ��اکستان کی بنیاد رکھی جائے ۔
@iqrarulhassan@Shahana808 بے شرم انسان، دیکھو جمائما کیا کہہ رہی ہے۔ تم دوبارہ بھی پیدا ہو جاؤ تو بھی عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ آپ کو صرف بغضِ عمران کی بیماری لاحق ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ سچ بولنے کی ہمت تم لوگوں میں ہے ہی نہیں۔
#ImranKhanNeedsProperCare#PTI#ImranKhan
@iqrarulhassan@zoyaArshad5 پالتو تمہارے جیسا ہوتا ہے جس کو 11 پارٹیاں جس نے ملک کو تباہ برباد کر دیا اس پے تمہارا منہ نہیں کھلتا لیکن جیل میں قید عمران خان کہ خلاف ہر وقت بکواس کرتے رہتے صرف دوسروں کو خوش کرنے کے لئے۔ مرد کا بچہ ہو تو باہر جب آئے خان حلقہ تم منتخب کرو اور پر دیکھوں کس طرح اپ کسا چو چو بند
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیر��باد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپ��یا جا رہا ہے؟
میرے پاکستانیوں!!!
عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے۔ اُن کی صحت پر نا میں خود سیاست کرونگا اور نا ہی کسی کو کرنے دونگا۔ پوری قوم میں عمران خان صاحب کے لیے بے انتہا محبت کی وجہ سے جو اس وقت غم اور غصہ پایا جا رہا ہے اُس کا مُجھے بخوبی احساس ہے۔ لیکن اس کو ہم نے اپنی کمزوری نہیں اپنی طاقت بنانی ہے۔ ہمیشہ سخت اور نازک وقت میں آپ کو اعصاب مضبوط رکھ کر حکمت سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ ایسے وقت میں آپ کی پوشیدہ حکمت عملی ہی آپ کی بہترین طاقت ہوتی ہے۔
عمران خان صاحب کوئی معمولی شخص نہیں وہ پاکستان کا سابقہ اور موجودہ وزیر اعظم ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین ہے۔ اُن کی صحت کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے جو ناقا��ل معافی فعل ہے۔ اب اس وقت ��ُن کا بہترین علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ کوئی ہرگز یہ نا سوچیں کہ میں عمران خان صاحب کے علاج تک آرام سے بیٹھونگا۔
اس وقت جو ورکرز بغیر کسی آفیشل کال کے اپنی مدد اپ نکلے ہیں تو جہاں پر ہے وہی پُرامن رہے اور نزدیک ورکرز اُن کا ساتھ دیں۔ آپ سب نے آگے بھی پُرامن رہنا ہے۔ عمران خان صاحب کے مخالف جنہوں نے اُن کے ساتھ طبی دہشتگردی کی ہے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ہم میں اپنے انتشاری لوگ شامل کر کے ہمارے پُرامن احتجاج کو کسی دوسری طرف لے جا کر ہمیں ہی نشانہ بنائینگے۔ آپ نے تمام انتشاری لوگوں پر نظر رکھنی ہے اور پُرامن احتجاج جاری رکھنا ہے۔ کسی بھی منفی اور جھوٹے پروپیگنڈ�� پر یقین نہیں کرنا جب تک عمران خان صاحب کی فیملی اور جماعت کسی بھی خبر کی تصدیق نا کرے۔
تمام پاکستانیوں کو میں یہ اعتماد دلاتا ہوں کہ انشاء اللّٰہ آپ سب کے اعتماد، اتفاق و اتحاد اور سپورٹ سے عمران خان صاحب کا علاج ذاتی معالج کی نگرانی میں اور فیملی کو اعتماد میں لے کر جلد از جلد ہوگا۔ یہ آپ سب کے ذہن میں ہونا چاہئے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے ساتھ ساتھ ہم نے اُن کی سیکورٹی کا بھی خیال رکھنا ہے۔ کچھ چیزیں بتا کر کی جائینگی اور کچھ چیزیں شاید فلحال ہمارے سامنے نا آئیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کا علاج 16 فروری تک ہوجانا چاہیے۔