یہ بلوچستان کے علاقے چاغی کی تصویر ہے۔ یہاں سڑک بن رہی تھی۔ جس سے عام بلوچ عوام کو ہی فائدہ ہوتا۔ لیکن بی ایل ایف نے مشینری کو ہی آگ لگادی ۔
بلوچ عوام کا اصل دشمن یہی گروہ ہیں جو سولر پینلز ، موبائیل ٹاورز سمیت ہر اس مشینری کو آگ لگاتے ہیں جس سے بلوچ کو فائدہ ہو۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ماہرنگ بلوچ کے ای سی ایل کیس کی سماعت کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال سامنے آئی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
بات اس وجہ سے بگڑی کہ ایمان مزاری نے اپنی تقریر میں چیف جسٹس کو ڈکٹیٹر کیوں کہا تھا۔ چیف جسٹس نے فوراً سوال اٹھایا کہ اگر اب وہ کوئی آرڈر پاس کریں گے تو ایمان مزاری باہر جا کر یہ نہ کہیں کہ ڈکٹیٹر بیٹھا ہے۔ جواب میں ایمان مزاری نے ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی بات نہیں کی اور یہ ان کی ذاتی رائے تھی جس کا کیس سے تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت ہے اور وکلا کو زبان قابو میں رکھنی چاہیے۔ ایمان مزاری نے پھر کہا کہ انہیں آئین نے آزادی اظہار رائے دی ہے، اگر توہین عدالت کرنی ہے تو کر لیں۔ چیف جسٹس نے وارننگ دی کہ اگر معاملہ بڑھا تو کارروائی ہوگی اور ساتھ ہی وکیل ہادی صاحب سے کہا کہ اسے سمجھائیں ورنہ کسی دن پکڑ لوں گا۔
یوں لگ رہا تھا جیسے وکیل اور عدالت کے درمیان مکالمہ کم اور دھمکیوں کا تبادلہ زیادہ ہو رہا ہو۔ عام فہم زبان میں کہا جائے تو یہ وہ موقع تھا جب ایمان مزاری نے ججز کو سیدھا سیدھا للکارنا شروع کردیا۔ جج نے تحمل دکھایا مگر بار بار جواب ملنے پر معاملہ مزید تلخ ہوگیا۔
کیس میں ماہرنگ بلوچ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست زیر سماعت تھی، مگر سارا دن عدالت میں بحث کا مرکز ایمان مزاری کے ریمارکس اور رویے پر رہا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔
یہ صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا وکیل حضرات اب عدالت میں ججز کو دباؤ میں لانے کے لئے دھمکیاں دینے کے انداز اختیار کر رہے ہیں؟
امریکہ نے بھارت سے ریجن کی چودراہٹ واپس لے لی ہے۔ بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت ختم ہوئی اب نیپال میں بھارت نواز حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
بلوچستان میں بھی بی ایل اے جیسے گروہ اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔
آج ڈھاکہ یونیورسٹی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے ہیں۔ ان لوگوں کے وارث جیت گئے جو پاکستان کیلئے آخری سانس تک مکتی باہنی ��ور بھارتی فوج سے لڑے تھے۔
یہ ڈاکٹر اللہ نذر اور پوری بی ایل اے ،بی ایل ایف کیلئے پیغام ہے کہ آپ کا پروپیگنڈا بلوچ کے دل سے پاکستانیت اور دوقومی نظریہ یعنی تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ ختم نہیں کرسکتا۔
مشرقی پاکستان میں تو بھارتی پروپیگنڈا کامیاب ہو گیا تھا لیکن آج سوشل میڈیا کے دور میں بلوچ قوم کو گمراہ کرنا فتنہ الہندوستان کیلئے ناممکن ہے۔
ایمان مزاری کمال ڈھٹائی سے جھوٹ بولتی ہیں۔ بی وائی سی لیڈرشپ پر ایک نہیں کئی مقدمات ہیں۔ کوئٹہ سول اسپتال پر حملے کی ویڈیوز موجود ہیں۔دہشتگردوں کی لاشیں چھین کر لیکر جانے کی ویڈیوز موجود ہیں۔ پھر بھی کہنا کہ بیگناہ معصوم جیل میں بند ہیں سمجھ سے باہر ہے
پنجاب: 200 کلوگرام تک وزنی شخص کو ایئر لفٹ کرنے والی ڈرون سروس متعارف
دیگر صوبوں کو بھی ایسی سروس لانی چاہیے خاص کر بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں بہت ضروری ہے
یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے اور خواتین کیساتھ ایسے سلوک کا بلوچستان میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن پنجاب میں مسلسل ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ ان کے خلاف سخت ایکشن ہونا چاہیے
اسد طور کی باتیں سنیں تو پاکستان کو اب تک عراق بن جانا چاہیے تھا لیکن یہ لوگ اسلام آباد کے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر بلوچستان پر بریکنگ نیوز رپورٹ کرسکتے ہیں تو پھر کچھ بھی ممکن ہے۔