سائل : کیا جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
عمومی جواب : جی ٹوٹ جاتا ہے !
غامدی صاحب کا جواب : علمِ اصولِ فقہ اور مباحثِ علمِ حدیث کے عمیق مطالعے سے یہ امرِ واقع روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ شریعتِ مطہرہ کے احکامات کا استنباط ہمیشہ نصوصِ قطعیہ پر مبنی ہوتا ہے۔ محدثینِ عظام اور فقہائے کرام نے روایات کی اسنادی حیثیت اور متن کو پرکھنے کے لیے جو کڑے معیارات مقرر کیے ہیں، ان کی رو سے احادیثِ صحیحہ او�� روایاتِ ضعیفہ کے مابین ایک نہایت واضح خطِ امتیاز کھینچا گیا ہے۔ مزید برآں، احکاماتِ شرعیہ کی حتمی تفہیم کے لیے ناسخ اور منسوخ کا علم از بس لازمی ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی متروک یا منسوخ روایت کو بنیاد بنا کر کوئی غیر مدلل موقف اختیار کر لیا جائے۔ مفسداتِ صوم (روزہ توڑنے والے عوامل) کے باب میں جب ہم دلائلِ شرعیہ کا بغور جائزہ لیتے ہیں، تو ائمہ مجتہدین کا مدلل و مبرہن موقف ان تمام قیاس آرائیوں کو یکسر باطل کر دیتا ہے جو محض شاذ آراء پر استوار ہوں۔ چنانچہ قرآنِ مجید کی نصوصِ صریحہ، احادیثِ صحیحہِ ثابتہ اور اجماعِ امت کی روشنی میں کی جانے والی اس تمام تر عالمانہ بحث و تمحیص کا حتمی، قطعی اور ناقابلِ تردید نتیجہ یہی مستنبط ہوتا ہے کہ حالتِ صوم میں دانستہ طور پر عملِ جماع (مباشرت) کا ارتکاب کرنے سے روزہ قطعی طور پر فاسد ہو جاتا ہے (یعنی روزہ ٹوٹ جاتا ہے)، اور اس فعل پر قضا کے ساتھ ساتھ شرعاً کفارہِ مغلظہ بھی واجب الادا ٹھہرتا ہے۔۔۔!
73 سال کی عمر اور قید تنہائی میں ڈھائی سال گزارنے کے بعد عمران خان کا یہ ایک جملہ تاریخ کی لوح پر کندہ ہو گیا ہے کہ “میری جیل میں کوئی خواہش نہیں سوائے اس کے کہ مجھے جینے کیلئے بنیادی ضروریات پوری کر دی جائیں”
یہ ایک جملہ ریاست کی 4 سالہ فسطائیت، زمینی خدا بننے کے لامتناہی حربوں اور اندھی طاقت کو بہا لے گیا ہے، یہ ایک جملہ اس ہائبرڈ نظام کے غرور اور تکبر کو زناٹے دار طمانچہ ہے اور یہ ایک جملہ اس ملک کے در و دیوار سے بازگشت کی طرح ٹکراتا رہے ��ا کہ جس شخص کو توڑنے کیلئے زمین و آسمان کی تمام بلائیں گرا دی گئیں وہ 30 ماہ کی بدترین قید کے بعد بھی اپنا سر اونچا کر کے کہہ رہا ہے کہ مجھے ان سے کچھ نہیں چاہیے۔
عمران خان اور فیض احمد فیض: اذیت کا وہی اسکرپٹ، بس وردی پرانی اور دہائی نئی۔
قید تنہائی — 1951 سے عسکری اشرافیہ کا آزمودہ ہتھیار، گوانتاناموبے طرز کی ریاستی بربریت۔
اُس زمانے میں فیض صاحب کو راولپنڈی سازش کیس میں اس لیے گھسیٹا گیا کہ جنرل اکبر خان نے دس گھنٹے تک اپنی ’’عظیم‘‘ بغاوت پر خود ہی داد وصول کی۔ سب نے شائستگی سے کہا، ’’نہیں جی، شکریہ‘‘ — اور نکل لیے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ جرنیلوں کو اختلافِ رائے ہضم نہیں ہوتا۔ چنانچہ فیض اور ان کے ساتھیوں کو پھر بھی گرفتار کیا گیا۔ لیاقت علی خان کو یہ سبق پڑھایا گیا کہ انصاف وہی ہے جو سلاخوں کے پیچھے دفن ہو۔ اسمبلی کو دھمکا کر خصوصی ٹربیونل ایکٹ ایسے پاس کروایا جیسے آئین کوئی فضول کاغذ ہو۔ نتیجہ؟ فیض ساہیوال میں تین قیدِ تنہائی میں رکھے گئے—انسانی وجود توڑنے کی کلاسیکی مشق۔
جب انہیں حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا تو فیض مسکرا رہے تھے، بہت خوش تھے۔ وجہ؟ کہا کہ"تین ماہ بعد انسانی چہرے دیکھنا میرے لیئے عید ہے۔" یہ تھا ریاستی جبر کے منہ پر زوردار طمانچہ۔ مقدمہ ہوا، کچھ ثابت نہ ہوا، 1954 میں رہائی۔ سجاد ظہیر کو ملک بدر کیا گیا—بھارت کا تاحیات ویزا، تاکہ سچ وطن سے دور رہے۔
اب فاسٹ فارورڈ کریں: قیدی نمبر 804۔ چھ ماہ سے زیادہ تنہائی کی قید—اقوامِ متحدہ جسے کھلے لفظوں میں تشدد کہتی ہے۔ وہی پرانا نسخہ، دماغ بالکل خالی۔ جتنا دباؤ بڑھاتے ہیں، اتنی ہی مقبولیت بڑھتی ہے۔ ایٹمی بم بھی یہاں بیکار۔ لاٹھیاں الٹا نقصان۔ دباؤ؟ ہمارے لیے مفت تشہیر۔ یہ آدمی مصیبت کو ایندھن بناتا ہے۔ جتنا دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اتنا اوپر اُبھرتا ہے۔ یہ منظر مضحکہ خیز نہیں تو کیا ہے—مچھلی کو ڈبونے کی کوشش کبھی کامیاب ہوئی ہے؟
اور پردہ پوشی؟ یہ تو ریاستی ڈی این اے ہے۔ 1951 میں لیاقت علی خان قتل، قاتل کو فوراً خاموش کر دیا گیا—کوئی سرا نہیں چھوڑنا۔ جائے واردات دھو دی گئی۔ پھر بے نظیر۔ پھر 26 نومبر اسلام آباد۔ پھر ٹی ایل پی کے قتل۔ ایک ہی سانچہ: مٹا دو، دھو دو، سی سی ٹی وی غائب کردو۔
قائداعظم نے یہ ناسور 1948 ہی میں پہچان لیا تھا۔ کوئٹہ میں فوجی افسران سے کہا کہ صبح مجھے پتہ چلا کہ چند نہایت اعلیٰ افسران حلف کے مطلب سے ہی ناآ��نا نکلے۔ اور پھر دو ٹوک فیصلہ کن جملہ: "تم عوام کے خادم ہو۔ سیاست اور ریاستی امور سے تمہارا کوئی تعلق نہیں—یہ شہریوں کا دائرہ ہے۔"
لیکن یہاں پتھر پر لکھی باتیں کون پڑھتا ہے؟ پانچ مئی کے بعد جناح ہاؤس کی پوجا زیادہ اچھی سپن ہے، آئین کی اطاعت نہیں۔
یہ فوج نہیں جو بدنام ہوتی ہے—یہ چند جرنیل ہیں جو ہر نسل میں ریل پٹڑی سے اتاردیتے ہیں: ایوب، یحییٰ، ضیاء، مشرف، اور اب ایف ایم عاصم منیر اور ان کی چاپلوس منڈلی، جو ہر عقلمند آواز کو روند رہی ہے۔
میں نے بھی بار بار کہا اور دنیا چیخ رہی ہے کہ ’’خدا کے لیے بات کرو—اس سے پہلے کہ ریاست کے پہیے مکمل طور پر ٹوٹ جائیں۔‘‘
ہم ��ہری بھی سب سے بڑے سہولت کار۔ ہم نے ہی اِنہیں بچایا کیونکہ فوج ہماری ہے۔ بھٹو نے حمودالرحمٰن رپورٹ دفن کی۔ قدیر خان نے دوسروں کے گناہ اپنے دامن میں ڈال دیئے۔ اب بہت ہو چکا۔
جیسا کہ فیض نے اسی حیدرآباد کی کوٹھڑی سے 1952 میں لکھا—
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا، کچھ دور تو نالے جائیں گے
موجودہ غاصبوں آپ بھی ۔۔۔ اب چلتے بنو اور عمران خان کو راستہ دو ۔۔۔
https://t.co/izqV7acgcA
ایک مردِ مومن نے دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر کھڑے ہو کر پوری جرات اور وقار کے ساتھ اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی ناموس کا دفاع کیا اور اللہ ربّ العزت کی مخلوق کا مقدمہ لڑا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُس دن کے بعد قدرت نے ساری عزتیں اسی ایک نام کے نام کر دیں۔
نام ہے: عمران احمد خان نیازی ❤
@PTIofficial
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب حقائق کو مسخ کرنے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اور ایک ایک چیز تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ پوری قوم کو آج بھی عمران خان کی للکار یاد ہے جو انہوں نے بطور وزیراعظم انڈیا کے حملے کے جواب میں دی تھی کہ “ پاکستان retaliate کرنے کا سوچے گا نہیں پاکستان retaliate کرے گا”۔
“دیکھیں ISPR صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو!
جب war on terror ہوئی اور پاکستان کی مٹی پلیت ہوئی دنیا میں اور کہا گیا کہ فوج دوغلی ہے، جھوٹی ہے، تو دیکھیں کس نے اپنی فوج کی سب سے زیادہ حفاظت کی، کون انٹرنیشنل میڈیا پر فوج کے ساتھ کھڑا ہوا!
آپ بیٹھ کر فرعون کی طرح فرمان پاس کر رہے ہیں، اور یہ کہنا کہ عمران خان جھوٹ بول رہا ہے، آپ کو شرم آنی چاہئیے! عمران خان کو پچاس سال سے یہ قوم جانتی ہے!”
- عمران خان
”عمران خان ایک زبردست انسپیریشن ہے، لوگ اُنکے عزم اور ہمت کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ کوئی بھی چیلنج آئے، وہ اُسے چیلنج سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ اِنہوں نے پارٹی سے ملاقاتیں روکیں، تاکہ کوئی پیغام اندر نہ جا سکے، مگر یہ انکی اپنی گھبراہٹ ہے۔ یہ لوگ حوصلے توڑ نہیں رہے، بلکہ بڑھا رہے ہیں، پاکستانی ہر آزمائش اور مشکل کے بعد مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ ہم تاریخ بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔“
علیمہ خان
#VictoryForImranKhan