No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
مولانا فضل الرحمن نے آج ایک تیر سے تین شکار کیے~خواجہ آصف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی ۔
پی ٹی آئی جو 2014 سے خواجہ آصف کے بارہ سال پرانے تاریخی جملے “کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے “ کا بوجھ اٹھائے پھر رہی تھی آج اس کا سکور اسی ہاوس میں مولانا نے برابر کر دیا۔جو ادھار پی ٹی آئی نہ چکا سکی تھی وہ مولانا نے چکا دیا اور خواجہ آصف بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے رہے۔
سنا جا رہا ہے کہ جھنگ ڈیزرٹ جیپ ریلی کے دوران سرکاری گاڑی کے غلط استعمال اور غلط پروٹوکول مطلب ثاقب چدھڑ کو سرکاری گاڑی/پروٹوکول دینے پر مریم نواز صاحبہ نے ڈپٹی کمشنر جھنگ بابا صاحب دین کو عہدے سے ہٹا دیا،اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے،ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا،لیکن یہ دوہرا معیار،یہ منافقت،اگر سرکاری گاڑی کے غلط استعمال پر DC عہدے سے فارغ ہو سکتا ہے تو مریم نواز صاحبہ خود سرکاری طیارے کے غلط استعمال کے باوجود اپنے عہدے پر کیوں ہیں اور مریم نواز کیوں فارغ نہیں ہوئیں،اگر غلط پروٹوکول دینے پر DC کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے تو آل اولاد تک کو پروٹوکول دینے پر حکمرانوں کو کیوں نہیں فارغ کیا جا سکتا اور پھر مریم نواز صاحبہ کی طرح DC جھنگ کو یہ آپشن کیوں نہ دیا گیا کہ سرکاری گاڑی کے غلط استعمال پر گاڑی استعمال اور گاڑی پٹرول کےپیسے دے کر خود کو بچا لو۔۔
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
عمران خان صاحب سے اڈیالہ میں کئی بار خیبر پختونخواہ حکومت کے حوالے سے بات ہوئی۔ خان صاحب نے ہر بار کہا کہ عوام سے رشتے اور حکومت کے درمیان انتخاب کرنا ہو تو ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے رہنا۔ بیساکھیوں کے ذریعے یا جبر کی گود میں بیٹھ کر حکومت کرنے والی جماعتوں کا حشر ہمارے سامنے ہے: مصنوعی فارم 47 کا اقتدار اور عوام کی دھتکار۔ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت کو عوام سے رشتہ نہ توڑنے کی وجہ سے سلب کیا گیا ہے۔ مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ پارٹی کو ہر سطح پر اپنے اندرونی نظم اور اتحاد کو قائم رکھنا ہے۔ پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی کو پارٹی کی رہنمائی کرنا ہے۔ مرکز اور صوبوں میں پارلیمانی پارٹیاں پارلیمان کے اندر پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی کی طے کردہ پالیسی کے تحت کام کرتی رہیں گی۔ پاکستانی قوم عمران خان کے عوام دوستی کے نظریے کے ساتھ کھڑی ہے۔
تیریاں ریساں کون کرے
علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔
غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
مراد سعید ملک کی طاقتور اور منافع بخش ترین وزارتوں میں سے ایک، وزارتِ مواصلات کے وفاقی وزیر رہے، مگر ان کا بھائی آج بھی خیبر پختونخوا حکومت میں گریڈ 9 کا ملازم ہے اور سرکاری کوارٹر میں رہتا ہے۔ کیا موروثی سیاست میں ایسی مثال مل سکتی ہے؟ یہی عمران خان کا پاکستان کے لیے تحفہ ہے؛ ایسے لوگ جو اقتدار میں آکر اپنی ذات اور خاندان نہیں، اصولوں اور عوام کی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ مراد سعید صرف ایک سیاست دان نہیں، دیانت داری اور سادگی کی علامت ہیں۔ یہی تحریکِ انصاف کی اصل پہچان ہے
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
In these challenging times for our nation, my prayers go out to Imran Khan for his health and safety. Pakistan needs unity and stability above all else right now. I have immense faith in our institutions and the Pakistan Army to guide our homeland toward a peaceful, strong, and united future. 🇵🇰 Always praying for progress.
جب تک عمران خان زندہ ہے اس کا متبادل پیدا کرنا ممکن نہیں۔
ہم یا عمران خان کی مخالفت کرسکتے ہیں یا اس کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کوئی عمران خان نہیں بن سکتا۔
پاکستان تحریک انصاف کاعمران خان ایڈیشن سے اسٹیبلشمنٹ خوفزدہ ہے،یہی لوگ مزاحمت کا پرچم اٹھائے رکھے ہوئے ہیں یہ ایڈیشن اسٹیبلشمنٹ کو ناقابل قبول ہے اس لئے پاکستان تحریک انصاف کا اسٹیبلشمنٹ پسندیدہ ایڈیشن تیار کرنے کی کوشش میں ہیں،یہ مشرف دور کی ق لیگ کی طرح عسکری لیبارٹری میں تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب پارٹی ہوگی اسی لئے سہیل آفریدی نشانے پر ہیں،پاکستان تحریک انصاف کے مخلص،وفادار ممبران پارلیمنٹ، لیڈرشپ کی اغواء، گرفتاری اور جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔اس وقت پاکستان کا پورا سیاسی سپیکٹرم بوٹوں کے سامنے جھک چکا ہے۔۔مزاحمت کا چراغ جیل میں قید عمران خان اور اس کے خاندان نے جلائے رکھا ہے اور معاشر میں تحریک انصاف کے مخلص وفادا پارلیمنٹرینز اور لیڈرشب نے۔۔۔مجھے یقین ہے کی عمران خان کا مخلص اور قربانی دینے والا ورکر اسٹیبلشمنٹ کی اس جمہوریت دشمن کوشش کو ناکام بنا دے گا اور یہ ٹابت کردے گا کہ پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ ن نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقی مزاحمتی پارٹی ہے اور جیل میں موجود اپنے قائد سے مخلص اور وفادار ہے۔
سب کو ختم کر کے زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیار حاصل کرنے کی ہوس بہت مہنگی پڑتی ہے۔
کیوں ؟
اس لیے کہ جیسے جیسے آپ دوسروں کو ختم کرتے چلے جائیں گے ویسے ویسے ان کی ذمہ داریاں خود بخود آپ کے سر پڑتی جائیں گی۔ اب ہر نقصان،عذاب اور محرومی آپ کے سر پر ہے۔
لیں لطف اب تمام طاقت،اختیار کا۔
جو ذمہ داری عائشہ گلالئی کو دیگئی تھی ، وہی ذمہ داری اس بار مریم نواز اور عظمی بخاری کو دیگئی ہے ، لیکن فلم وہی ، اسکرپٹ وہی ، ہدایت کار وہی ، بس کردار اپڈیٹ ہوگئے، نئے فنکاروں اور اداکاروں کو مبارک ہو۔۔
سپہ سالار کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر پاکستانی کا دل دکھا دیا،،(مریم نواز ٹویٹ)
مریم صاحبہ : یاد کیجئیے، کل جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر نام لے کر آپ کے پاپا نوازشریف کی تنقید سے آپ محظوظ ہوتی تھیں،بلکہ لطف اندوز ہوتی تھیں،،
یہ آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے ذریعہ بنی جعلی ویڈیوز کا دور ہے لیکن نواز شریف کی طرف سے شفیع نقی جامی صاحب کو BBC کے لئے دئیے گئے انٹرویو کی یہ ویڈیو اصلی ہے جس میں نوازشریف صاحب سے پوچھا جا رہا ہے کہ ANP اور PPP پر حملے ہوتے ہیں PML-N اور PTI پر حملے کیوں نہیں ہوتے جواب میں نواز شریف صاحب کہتے ہیں زرداری حکومت نے طالبان سے مذاکرات کیوں نہیں کئے؟