باجوڑ آپریشن کے خلاف پختون خواتین بھی امن کی خواہاں بن کر گھروں سے باہر نکل آئیں۔ احتجاجی ریلی کی جانب روانگی شروع ہو گئی۔
پورے پشتون خطے میں نوجوان، بزرگ، خواتین اور بچے پشتو زبان میں امن کے نعرے لگا رہے ہیں، سفید چادریں لہرا رہے ہیں اور پرامن زندگی کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔
مگر ریاستی اداروں کی جانب سے ان کی آواز کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں
#BajaurUnderStateAttack
باجوڑ میں آپریشن کی بنیادی وجہ 760 کھرب روپے مالیت کا 5850 ملین ٹن ماربل ہے، تقریباً 200 ملین ٹن گرینائٹ اور 10 لاکھ ٹن کرومائیٹ مینگنیز، نیفرائٹ، گارنیٹ، عقیق، ��وارٹز اور زمرد جیسی معدنیات پائی جاتی ہیں جن کی کل مالیت تقریباً ایک ہزار کھرب روپے بنتی ہے
#BajaurUnderStateAttack
#BajaurUnderStateAttack
Pakistan’s army can’t win a war abroad, so it wages endless war in Pakhtunkhwa. It feeds on Pashtun blood like a parasite, all while parading fake medals.
#BajaurUnderStateAttack
باجوڑ ماموند میں آج ایک بار پھر ریاستی دہشتگردی کی انتہا کر دی گئی! آپریشن کے نام پر نہتے، بے گناہ پشتونوں کو نشانہ بنایا گیا ہیں۔
ملی مشر منظور احمد پشتین نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ:
“ریاست ہمیشہ کی طرح پشتون علاقوں پر بمباری اس لیے کرتی ہے تاکہ ہماری نسلیں بے گھر ہو جائیں، مزدوری کے لیے دربدر پھریں، اور جب کبھی ہم اپنے گھروں کو دوبارہ آباد کریں، تب یہ درندہ صفت فوج آکر انہی گھروں کو تباہ کرے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے تاکہ پشتون کبھی سر نہ اٹھا سکیں، کبھی امن کا مطالبہ نہ کریں۔
لیکن اب بس بہت ہو چکا ہے!
پشتون اب ریاستی ظلم کے خلاف آخری حد تک لڑیں گے!
کیونکہ ہر ظالم کے خلاف آواز اٹھانا، لڑنا، اور مزاحمت کرنا جہاد ہے!
#BajourUnderStateAttack
#BajaurUnderStateAttack
We are watching history repeat itself. The same tactics used in Waziristan and Swat are now unleashed on Bajaur. The same excuses. The same bloodshed. The same refusal to listen to those on the ground.
#BajaurUnderStateAttack
دا هغه غيرتي مشر ملک نصير ده
چې دپنجاب رياست په وړاندې نيغ ودريد او واضحه ورته وويل:
که داځل ديخوا راغلئ
قسم که پخپلو چوڼيو کې رانه پاتې شئ
تاريخ به دده ميړانه هيره نه کړي
اس ویڈیو کے آغاز میں جیٹ طیاروں کی بمباری کی دل دہلا دینے والی داستان سنائی گئی، جس میں ایک ہی خاندان کے 23 افراد شہید ہوئے۔ اسی طرح ایک اور گھر ہے جس کے سات افراد لاپتہ ہیں۔ یہ محض ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پورے علاقے کی اجتماعی مصیبت کی نمائندگی کرتی ہے، اور درحقیقت یہ مسئلہ ہر گھر کا ہے۔ اس صورتِ حال کے تمام گواہ آپ خود ہیں۔
اگر لاپتہ افراد کی بات کی جائے تو 6,700 سے زائد لوگوں کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے، جن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ میرے بزرگوں، اس پر سوچیں، جو مشران کل تک ہمارے ساتھ کھڑے تھے، انہیں ہی فیصلے کرنا ہیں، اور وسائل پر بھی بات ہوگی۔
پاکستانی فوجی آپریشنز کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنرل کیانی جیسے افراد آج آسٹریا میں جزیروں کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے دنیا میں جنت بنا لی، جبکہ ہمارے بچے اور خاندان بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح، جنرل راحیل شریف نے اپنے لیے خلیج میں محل بنا لیے، اور پھر ایک اور جنرل، پرویز مشرف، جس کا نام لینا بھی گوارا نہیں، اس کو ایسی عبرت ناک سزا ملنی چاہیے جو تاریخ میں کبھی دیکھی نہ ہو۔ اور قمر جاوید باجوہ، جو 12 ارب ڈالر لے کر فرار ہوا، اس نے ہمیں صرف یتیم بچے اور بیوہ عورتیں چھوڑیں۔
اب چین اور امریکہ کی زیرِ زمین جنگ کی طرف بڑھتے حالات ہمیں دوبارہ داخلی نقل مکانی (IDPs) کے کرب میں مبتلا کرنے کا خدشہ ہے۔ لیکن ہماری بقا کا واحد راستہ اتفاق میں ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر یہ جیرگہ بلایا گیا ہے۔
یہاں 20 سے زائد سیاسی جماعتیں، تحریکیں، اور 60 سے زائد اضلاع کے مشران جمع ہیں، جو اپنی رائے دیں گے۔ ہر پارٹی اپنا مؤقف پیش کرے گی، جس کے لیے کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ یہ پیغام آپ سب کو پھیلانا ہے کہ سیاست اپنی جگہ، لیکن جب تک عوامی مفاد میں مشترکہ حل نہیں نکالا جاتا، کوئی پیش رفت نہی�� ہو سکتی۔ آج اور کل کی مشکلات اُس دن کی تکلیف سے کہیں بہتر ہیں جب ہم پچھتاتے ہوئے فریاد کرنے پر مجبور ہوں۔
#په_خیبر_ننګ_وکړئ @ManzoorPashteen
#StateDeclaresWarOnPashtuns
#PashtunNationalCourt11October