جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو سزا
ایک بہت ھی اچھا قدم ھے
ایک نیی روایت قائم ھوئ ھے
اب جو جنرل بھی ریٹائرڈ ھوگا اگر اس نے اپنی نوکری کےدوران سیاسی انجینرنگ میں حصہ لیا ھوگا
اس کا اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد مکمل احتساب ھوا کرے گا
انشاللہ اب ھر اس جنرل کا کورٹ مارشل آنے والا جنرل کرے گا
@GFarooqi "ان کی ضد تھی کہ سر جھکاؤ تبھی دستار بخشے گا
میں سر بچا لایا ہوں، اسی پر نازاں ہوں"
جن کو سزا ھوئ انہیں مبارکباد کہ انکا سر بچ
گیا ،جو بری ھوۓ وہ محنت کے باوجود سر بچانے میں کامیاب نہیں ھوۓمگر ھمت ھارنے کی ضرورت نہیں کوشش جاری رکھیں انشاللہ وہ بھی مبارکباد کے مستحق ھونگے
@hinaparvezbutt "ان کی ضد ت��ی کہ سر جھکاؤ تبھی دستار بخشے گا
میں سر بچا لایا ہوں، اسی پر نازاں ہوں"
جن کو سزا ھوئ انہیں مبارکباد کہ انکا سر بچ
گیا ،جو بری ھوۓ وہ محنت کے باوجود سر بچانے میں کامیاب نہیں ھوۓمگر ھمت ھارنے کی ضرورت نہیں کوشش جاری رکھیں انشاللہ تعالیٰ سرخرو ھونگے
افسوس نظام انصاف
افسوس نظام انصاف
آج توں مزید ننگا ھو گیا
پہلے نواز شریف نے تمہیں ننگا کیا اور اب
ایک شخص کی جرات نے تمہیں مزید ننگا کر کے عوام الناس کو دکھا دیا ھے۔
مفکرین کا کہنا درست ھے کہ یہاں انصاف اور جمہوریت نہ ھو وھاں ترقی نہیں ھو سکتی
ان کی ضد تھی کہ سر جھکاؤ تبھی دستار بخشے گا
میں سر بچا لایا ہوں، اسی پر نازاں ہوں
جن کو سزا ھوئ انہیں مبارکباد کہ انکا سر بچ
گیا،جو بری ھوۓ وہ محنت کے باوجود سر بچانے میں ناکام ھوۓمگر ھمت ھارنے کی ضرورت نہیں کوشش جاری رکھیں انشاللہ تعالیٰ وہ بھی جلد مبارکباد کے مستحق ھونگے
@Markhorr313@ChSApmln جو مرضی کر لو اس نے کالے انگریزوں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین کو ننگا کر کے بازار میں کھڑا کر دیا اور ساری عوام اب ان ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین پر تھو تھو کر رھی ھے جو کوئ نہ کر سکا وہ اکیلا کر گیا اب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین کی آگے موت ھے اور کچھ نہیں
کیا اس ملک جیسے پاکستان کہتے ہیں اس میں کبھی حقیقی جمہوریت آۓ گی جس میں ھر ادارہ عوامی نمائندوں کے عملی طور پر ماتحت ھو جس کے لیے قایداعظم نے پاکستان بنایا تھا
@ShamaJunejo کیا اس ملک جیسے پاکستان کہتے ہیں اس میں کبھی حقیقی جمہوریت آۓ گی جس میں ھر ادارہ عوامی نمائندوں کے عملی طور پر ماتحت ھو جس کے لیے قایداعظم نے پاکستان بنایا تھا
@CaptEmaan کیا اس ملک جیسے پاکستان کہتے ہیں اس میں کبھی حقیقی جمہوریت آۓ گی جس میں ھر ادارہ عوامی نمائندوں کے عملی طور پر ماتحت ھو جس کے لیے قایداعظم نے پاکستان بنایا تھا
یہ بلوچستان ہے…جہاں بڑی بڑی گاڑیاں دور دراز ویرانوں میں آتی ہیں،بڑی پگڑیاں بندوقوں سے فیصلے سناتی ہیں،اور جرگے بیٹیوں کی قسمت کا اعلا�� آبادیوں سے دور، بیابانوں میں کرتے ہیں۔یہاں شیتل کو لایا گیا .ایک لڑکی، ایک بیٹی،محض اس لیے کہ اُس نے محبت کی،اپنی مرضی سے جینے کی خواہش کی۔جرم؟شادی میں اپنی پسند کا اظہار۔سزا؟موت . غیرت کے نام پر۔لیکن موت سے لمحے بھر پہلےشیتل نے ایک جملہ کہا،بلوچی میں، مضبوط لہجے میں:"صرف سُم ئنا اجازت اے نمے"(یعنی، صرف گولی مارنے کی اجازت ہے)نہ التجا کی، نہ رحم مانگا .بس عزت سے کہا کہ تذلیل کی اجازت نہیں،میں گولی کی منتظر ہوں،مگر بےحیائی کی ہر رسم سے انکار کرتی ہوں۔شیتل الگ ہٹ گئی .اپنی ہی لاش کے قدموں میں کھڑی ہو گئی۔وہ مر گئی،مگر اُن پگڑیوں، اُن بندوقوں، اُن روایات کو شکست دے گئی جو عورت کی مرضی سے ڈرتی ہیں۔تم سمجھتے ہو تم نے غیرت بچا لی؟نہیں .شیتل تمہارے جھوٹے وقار کو بےنقاب کر گئی۔محبت کو کبھی بندوق سے خاموش نہیں کرایا جا سکا،نہ آج، نہ کل، نہ کبھی۔