Senior Vice President Pakistan Muslim League N Social Media Team Bahawalpur Division.
Member Central Council PML-N Pakistan.
Member Provincial Council Punjab
وزیراعلیٰ مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر لاہور انتظامیہ نے شہر کی شاہراہوں کو جدید اور عالمی معیار کے مطابق ڈھال دیا ہے۔ سڑکوں کی بہترین صفائی، عمارتوں کی یکساں رنگت اور دکانوں کے سائن بورڈز میں ہم آہنگی نے شہر کے روایتی حسن کو ایک نیا اور منظم روپ دیا ہے۔ پائیدار ترقی کے وژن کے
قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا یہ فورم جس بجٹ کے سلسلے میں یہاں اکٹھا ہوا ہے، اس حوالے سے پچھلے کئی ہفتوں سے صوبوں کے ساتھ ہماری بھرپور مشاورت جاری تھی کہ مزید وسائل کہاں سے لائے جائیں۔ آج ہمارا سب سے بڑا چیلنج اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہماری پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے، خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، مائیں، بہنیں، بچے اور نوجوان اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ہماری قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج (Armed Forces) کے جوان اور افسران بھی دن رات قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم یکجاں اور متحد ہو کر اس دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کریں گے، اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ان عظیم قربانیوں، باہمی اتحاد اور اتفاق کے نتیجے میں ہم اس کا مکمل صفایا کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے، انشاءاللہ۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
Sent from WhatsApp
https://t.co/j5Xe9HmQI0
اسی طریقے سے اب معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر جو استحکام لانا ہے، اس سے عام آدمی کا کیا تعلق؟ عام آدمی کو تو غرض ہے روزگار سے، اچھے کام سے، زراعت اور صنعت کی ترقی سے اور اس بات سے کہ ہماری برآمدات کیسے بڑھیں گی۔ پھر ملازم پیشہ نوجوان، سرکاری ملازم یا پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ عام آدمی کو ہم کیا ریلیف دے سکتے ہیں؟ اور کارخانوں کو تیزی سے چلانے کے لیے کیا سہولت دی جا سکتی ہے؟ اس سب کے لیے ہمیں فنڈز اور وسائل چاہیے۔ اگر ہم نے ملک میں ترقی لانی ہے اور معیشت کو آگے بڑھانا ہے، تو ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے برآمدات بڑھیں، کارخانے دوبارہ بحال ہوں اور ہماری معیشت بہتر ہو۔
کل رات میں نے خود آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے بڑی تفصیل سے بات کی، انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بہت تعریف کی۔ میں آخری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے جو پورا ایک ڈیڑھ مہینہ صوبوں کے ساتھ مشورہ کیا، اس سلسلے میں سب سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور اپنے قائد میاں محمد نواز شریف صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کام میں پہلا قدم اٹھایا اور میں ان کا بہت مشکور ہوں۔
اس کے بعد میں صدر آصف علی زرداری صاحب، چیئرمین بلاول بھٹو صاحب، وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اسی طرح میں خیبر پختونخوا کے ہمارے نوجوان وزیراعلیٰ صاحب کا بھی شکر گزار ہوں اور میر سرفراز بگٹی صاحب کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں اس بات پر سب کا بہت ممنون ہوں کہ صوبوں اور وفاق کے اس باہمی تعاون اور مدد کے بغیر، اتنے بڑے چیلنجز کے باوجود ہم اس مقام پر کبھی نہ پہنچتے جہاں آج کھڑے ہیں۔ اب ہمیں آگے بڑی تیزی سے بڑھنا ہے، اللہ آپ سب کو ہمت دے۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
@PakPMO@CMShehbaz
مثال کے طور پر، حالیہ عالمی بحران کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں جس طرح آسمان کو چھونے لگیں، وہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ اگر وفاق اور صوبے باہم متحد نہ ہوتے، تو اس انتہائی مشکل وقت سے نکلنا ممکن نہ ہوتا۔ اس سلسلے میں، میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کا تہہِ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا۔
لیکن اس صوبائی معاونت سے بھی پہلے، وفاق اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود 128 ارب روپے عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر خرچ کر چکا تھا۔ بصورتِ دیگر، جو راشننگ اور پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں دیگر ممالک میں دیکھی گئیں، الحمدللہ پاکستان میں دور دور تک اس کا اثر بھی نظر نہیں آیا۔
اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ چاروں صوبوں اور وفاق کے مابین بہترین ہم آہنگی، باہمی افہام و تفہیم اور ایک ٹیم ورک موجود تھا۔ اسی مشترکہ حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا کہ پیٹرول پمپس پر لائنیں نہیں لگیں اور ہم عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی حد تک ممکنہ کوششیں کر سکے۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
Sent from WhatsApp
https://t.co/j5Xe9HmQI0
آج ہم قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اس فورم پر جمع ہیں۔ میں تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس پورے عرصے میں ہر مرحلے پر مشاورت اور معاونت فراہم کی۔ اسی طرح وفاق نے بھی پوری دلجمعی اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ہر معاملے پر صوبوں سے مشاورت کی، اور ہم نے پاکستان کے بہترین مفاد میں قومی فیصلے کیے۔
یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود، آج میکرو لیول پر ہماری معیشت مستحکم (Stable) ہے۔ تاہم، اب اس میں ترقی (Growth) کی شمولیت ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ روزگار کے مواقع، پیداوار، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا آج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس حوالے سے ہم سب نے مل کر کوشش کی کہ آئی ایم ایف (IMF) پروگرام پر عمل پیرا رہیں، حالانکہ اس دوران کئی مشکل مراحل بھی آئے۔ مثال کے طور پر، حالیہ عالمی بحران کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ اگر وفاق اور صوبے باہم متحد نہ ہوتے، تو اس انتہائی مشکل وقت سے نکلنا ممکن نہ ہوتا۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
Sent from WhatsApp
https://t.co/j5Xe9HmQI0
قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا یہ فورم جس بجٹ کے سلسلے میں یہاں اکٹھا ہوا ہے، اس حوالے سے پچھلے کئی ہفتوں سے صوبوں کے ساتھ ہماری بھرپور مشاورت جاری تھی کہ مزید وسائل کہاں سے لائے جائیں۔ آج ہمارا سب سے بڑا چیلنج اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہماری پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے، خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، مائیں، بہنیں، بچے اور نوجوان اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ہماری قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج (Armed Forces) کے جوان اور افسران بھی دن رات قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم یکجاں اور متحد ہو کر اس دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کریں گے، اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ان عظیم قربانیوں، باہمی اتحاد اور اتفاق کے نتیجے میں ہم اس کا مکمل صفایا کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے، انشاءاللہ۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
@PakPMO@CMShehbaz
مثال کے طور پر، حالیہ عالمی بحران کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں جس طرح آسمان کو چھونے لگیں، وہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ اگر وفاق اور صوبے باہم متحد نہ ہوتے، تو اس انتہائی مشکل وقت سے نکلنا ممکن نہ ہوتا۔ اس سلسلے میں، میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کا تہہِ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا۔
لیکن اس صوبائی معاونت سے بھی پہلے، وفاق اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود 128 ارب روپے عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر خرچ کر چکا تھا۔ بصورتِ دیگر، جو راشننگ اور پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں دیگر ممالک میں دیکھی گئیں، الحمدللہ پاکستان میں دور دور تک اس کا اثر بھی نظر نہیں آیا۔
اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ چاروں صوبوں اور وفاق کے مابین بہترین ہم آہنگی، باہمی افہام و تفہیم اور ایک ٹیم ورک موجود تھا۔ اسی مشترکہ حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا کہ پیٹرول پمپس پر لائنیں نہیں لگیں اور ہم عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی حد تک ممکنہ کوششیں کر سکے۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
@PakPMO@CMShehbaz
آج ہم قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اس فورم پر جمع ہیں۔ میں تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس پورے عرصے میں ہر مرحلے پر مشاورت اور معاونت فراہم کی۔ اسی طرح وفاق نے بھی پوری دلجمعی اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ہر معاملے پر صوبوں سے مشاورت کی، اور ہم نے پاکستان کے بہترین مفاد میں قومی فیصلے کیے۔
یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود، آج میکرو لیول پر ہماری معیشت مستحکم (Stable) ہے۔ تاہم، اب اس میں ترقی (Growth) کی شمولیت ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ روزگار کے مواقع، پیداوار، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا آج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس حوالے سے ہم سب نے مل کر کوشش کی کہ آئی ایم ایف (IMF) پروگرام پر عمل پیرا رہیں، حالانکہ اس دوران کئی مشکل مراحل بھی آئے۔ مثال کے طور پر، حالیہ عالمی بحران کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ اگر وفاق اور صوبے باہم متحد نہ ہوتے، تو اس انتہائی مشکل وقت سے نکلنا ممکن نہ ہوتا۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
@PakPMO@CMShehbaz
عالمی غیر سرکاری تنظیم باکو انیشی ایٹو گروپ نے سکھ فریڈم انٹرنیشنل کے حوالے سے دستاویزی فلم جاری کر دی
دستاویزی فلم میں جون 1984ء میں شری دربار صاحب میں بھارتی فوجیوں کی کارروائی، پنجاب بھر کے گوردواروں پر حملوں اور بعد ازاں سکھ مخالف فسادات کو سکھ تاریخ کے اہم واقعات کے طور پر پیش کیا گیا ہے
جون 1984ء میں بھارتی فوج نے شری دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) سمیت پنجاب کے 75 سے زائد گوردواروں میں کارروائیاں کیں
بھارتی حکومت نے اس کارروائی کو ”آپریشن بلیو اسٹار“ کا نام دیا جبکہ سکھر برادری اسے ”بیٹل آف امرتسر“ یا تیجا غلوخارا کے طور پر یاد کرتی ہے
دستاویزی فلم میں شری دربار صاحب کو سکھ برادری کی اجتماعی، مذہبی اور سماجی زندگی کا مرکزی مقام قرار دیا گیا
یہ مقام سکھوں کے اجتماع، قیادت اور سماجی فلاح کے تصور ”سربت دا بھلا“ سے جڑا ہوا ہے
جون 1984ء کے واقعات کے چند ماہ بعد نومبر 1984ء میں بھارت میں سکھ مخالف فسادات رونما ہوئے جن میں ہزاروں سکھوں کو نشانہ بنایا گیا
سکھ برادری کے گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں پر حملے بھی کئے گئے
ان واقعات نے عالمی سطح پر سکھ برادری میں خودمختاری، انصاف اور آزادی سے متعلق مطالبا
مسلم لیگ ن سوشل میڈیا کے ورکر اپنے قائد نواز شریف صاحب اور مریم نوازشریف
@MaryamNSharif
سے درخواست کرتے ہیں
کہ ہمیں اپنا کپتان رانا عاطف رؤف @Atifrauf79
کو دوبارہ مسلم لیگ ن سوشل میڈیا ونگ کا ہیڈ بنایا جائے
عاطف رؤف ایک سچے ورکر کی طرح مسلسل پارٹی کیلئے کام کررہا ہے