میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر تو اللہ تعالی نے بلند تر کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کل بھی نامراد تھے اور آج بھی نامراد رہیں گے۔
یا رب صل وسلم دآئما ابداً علی حبیبک خیر الخلق کلھم
#WeLoveMuhammad#boycottholland
@hyperRoguex ایک کوریر کا کام ڈیلیوری دینا ہوتا ہے کسٹمر کو اب اس کو کیا پتہ اس کے اندر کیا ہے آپ کو اگر پکڑنا ہے تو اس کو پکڑو جہاں سے اس نے آرڈر اٹھائے ہیں ان کو مارو یا پولیس کے حوالے کردو مگر ان کو گریبان سے پکڑنا یہ ہمارے معاشرے کی بے حسی ہے غریب کو بے عزت کرنا:-
@ImranRiazKhan خدانخواستہ ہندوستان کے ساتھ جنگ کا اعلان ہوا تو امید ہے یہ تب بھی ایسے ہی نعرے بلند کرے گی اکیلے کیونکہ اس وقت یہ عام عوام کے خلاف یہ نعرے بازی کی جارہی ہے:-
اس کی وردی پر میڈل دیکھو جیسے یہ سکندرِ اعظم کی اولاد آدھی دنیا فتح کر کے آیا ہو.
اب اس بدبخت کے کرتوت بھی پڑھ لو
یہ ایڈمرل منصور الحق پاکستان نیوی کا سربراہ تھا، یہ 10 نومبر 1994ء سے یکم مئی 1997ء تک نیول چیف رہا۔ منصور الحق پر ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 300 ارب روپے کی کرپشن کا الزام نیوی کے لیے خریدے گئے بحری جہاز، ہتھیار، آگسٹا آبدوزیں، نیوی اور نیشنل شپنگ کارپوریشن کے سکریپ بحری جہاز بیچنے کے دوران کمشن اور کک بیکس لینے پر لگا۔
میاں نواز شریف نے یکم مئی 1997ء کو اسے نوکری سے برخاست کر دیا اور اس کے خلاف تح��یقات شروع کرا دیں جبکہ منصور الحق 1998ء میں ملک سے فرار ہو گیا اور یہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں پناہ گزین ہو گیا۔
ملک میں اس کے خلاف مقدمات چلتے رہے، جنرل پرویز مشرف نے جب ’’نیب‘‘ بنائی تو یہ مقدمات نیب میں منتقل ہو گئے اور اتفاق سے اسی دوران امریکہ میں اینٹی کرپشن قوانین پاس ہو گئے، ان قوانین کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک کا کوئی سیاستدان، بیوروکریٹ یا کوئی تاجر کرپشن کے بعد فرار ہو کر امریکا آئے گا تو اسے نہ پناہ ملے گی اور نہ ہی رہائشی سہولتیں بلکہ یہ کرپٹ شخص امریکا میں گرفتار بھی ہوگا اور امریکی حکومت اس کے خلاف مقدمہ بھی چلائے گی۔
نیب نے اس قانون کی روشنی میں امریکی حکومت کوخط لکھا اور امریکہ نے 17 اپریل 2001ء کو منصور الحق کو آسٹن سے گرفتار کرکے اسے جیل میں بند کیا اور اس کے خلاف مقدمہ شروع کر دیا گیا ۔۔۔۔
منصور الحق کو جیل میں عام قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا تھا جہاں اسے قیدیوں کا لباس پہ��ایا گیا قیدیوں کے لیے مخصوص سلیپر دیے گئے، عام چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا، عام مجرموں جیسا کھانا دیا گیا اور اسے ہتھکڑی پہنا کر عدالت لایا جاتا‘ یہ سلوک نازوں کا پلا منصور الحق برداشت نہ کر سکا اور اس نے امریکی حکومت کو لکھ کر دے دیا کہ ’’مجھے پاکستان کے حوالے کر دیا جائے جہاں میں اپنے ملک میں مقدمات کا سامنا کروں گا‘‘ امریکی جج نے یہ درخواست منظور کرلی۔
یوں منصور الحق کو ہتھکڑی لگا کر جہاز میں سوار کر دیا گیا نیز سفر کے دوران اس کے ہاتھ بھی سیٹ سے بندھے ہوئے تھے مگر جوں ہی یہ جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو نہ صرف منصور الحق کے ہاتھ بھی کھول دیے گئے بلکہ اسے و�� آئی پی لائونج کے ذریعے ائیر پورٹ سے باہر لایا گیا اور نیوی کی شاندار گاڑی میں بٹھایا گیا، پولیس، ایف آئی اے اور نیب کے افسروں نے اسے سیلوٹ بھی کیا، پھر یہ سہالہ لایا گیا جہاں سہالہ کے ریسٹ ہائوس کو سب جیل قرار دیا گیا اور منصور الحق کو اس ’’جیل‘‘ میں ’’قید‘‘ کر دیا گیا۔
منصور الحق کی ’’جیل‘‘ میں نہ صرف اے سی کی سہولت بھی تھی بلکہ اسے خانساماں بھی دیا گیا۔
بیگم صاحبہ اور دوسرے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت بھی تھی اورمنصور الحق لان میں چہل قدمی بھی کر سکتا تھا۔
نیب اور ایف آئی اے کے دفتر نہیں جاتا تھا بلکہ تفتیشی ٹیمیں اس سے تفتییش بھی اس کے بیڈ روم میں ہی کرنے آتی تھی۔ مگر یہ بھی آن ریکارڈ ہے کہ تفتیش کرنے والی ٹیمیں آپ کیلئے تازہ پھل اور جوس ساتھ لیکر آتی تھیں۔
مزید ستم ظریفی دیکھئے کہ 300 ارب روپے کی کرپشن کا ملزم صرف 45 کروڑ 75 لاکھ واپس لے کر پلی بارگین کے نام پر رہا کر دیاگیا۔
2012 میں اس کا ضبط شدہ گھر اور مرسیڈیز گاڑی کی مالیت 10 لاکھ ثابت کرتے ہوئے ایک لیفٹیننٹ کرنل کے جنبش قلم ��بارک سے واپس ہدیہ تبریک کے طور پر اسے پیش کر دی گئیں۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی 2013 میں موصوف نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کی کہ مجھے میرا ملٹری رینک بمع پینشن اور دیگر مراعات واپس کیا جائے جس پر معزز عدالت نے کمال انصاف ��سندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکو فور سٹار رینک بمع پینشن اور دیگر مراعات مرحمت فرما دیا۔
یہ ہیں میرے وطن کے بہادر سپوت جرنیل جن کے سینے تمغات سے سجے ہوئے ہیں۔
اور باقی سب غدار، را کے ایجنٹ، کافر، اور واجب القتل کیونکہ وہ ان پر سوال اٹھاتے ہیں۔
موسم گرما کی چھٹیاں شروع ہو گئی ہیں۔ اپنے 10 سال سے اُوپر کے بچوں کو یہ دو کورسز کروائیے https://t.co/ZwJbzFrlOm کے پلیٹ فارم سے۔
یہ دو کورسز ان کا کردار بنائینگے۔ ان میں خواعتمادی لائینگے۔ مُشکلات کا سامنا کامیابی سے کرنا سکھائینگے۔ لیڈرشپ کے اصُول سکھائینگے۔ اور 16 م��تلف کردار کو سنوارنے کے طریقہِ کار سکھائینگے۔
تمام کورسز تک رسائ حاصل کریں ف��ط Rs 1999 رُوپے میں۔ ایک سبسکرپشن فیس اور رسائ تمام کورسز کی۔
سبسکرائیب کرنے کے لئیے https://t.co/ZwJbzFrlOm پر کِلک کریں۔
لیبیا کے معمر قذافی کا اصل ولی عہد اس کا بیٹا سیف الاسلام قذافی تھا جس کی دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم کے ساتھ گہری دوستی تھی۔ سیف الاسلام دبئی کے ماڈل سے بہت متاثر تھا اور چاہتا تھا کہ لیبیا کے دارلحکومت ٹریپولی کو بھی دبئی کی طرح ماڈرنائز کرسکے۔ اس مقصد کیلئے ضروری تھا
کہ لیبیا پر عائد امریکی پابندیاں ختم کی جاتیں۔ چنانچہ سیف الاسلام نے اپنے باپ کرنل قذافی کو مجبور کرنا شروع کردیا کہ وہ امریکی مطالبات مان کر اپنے تعلقات بحال کرلے۔
2003 میں لیبیا نے باضابطہ طور پر امریکہ کے ساتھ رابطے استوار کرنا شروع کردیئے اور ایک ایک کرکے تمام شرائط مانتے
گئے جن کے بعد لیبیا پر امریکی پابندیاں ختم ہوجاتیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ لیبیا امریکہ کو اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کے بارے میں مکمل آگاہ کرے گا اور جن زرائع سے یہ ٹیکنالوجی حاصل کی گئی، ان کے بارے میں بھی بتائے گا۔
2003 کی آخری سہ ماہی میں کرنل قذافی نے فائلوں کا ایک پلندہ
امریکہ کے حوالے کردیا جس میں بتایا گیا تھا کہ لیبیا نے شمالی کوریا اور روسی انڈرورلڈ تنظیموں کے زریعے بھاری معاوضے کی ادائیگی کے بعد پاکستان سے نیوکلئیر ٹیکنالوجی کی خریداری شروع کی تھی۔
اس انکشاف کے بعد پاکستانی حکومت پریشر میں آ گئی ۔ اس وقت سول حکومت بھی نہیں تھی لہذا ان کے
پاس بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ انڈر ورلڈ تنظیموں کے زریعے اپنی دفاعی معلومات بیچنے والوں نے پوری قوم کے سامنے ڈھٹا��ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ سب ڈاکٹر عبد القدیر خان پہ ڈال دیا۔ انھیں عالمی اسٹبلشمنٹ کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور پھانسی لگانے کی
دھمکیاں بھی ملیں۔ ڈاکٹر صاحب کو عمر کے اس حصے میں اسٹیبلشمنٹ نے اغوا کیا اور قید خانے میں لے گئے ۔ انھیں کہا گیا کہ پاکستان کےلیے قربانی دی جائے ۔ ان سے جبری پریس کانفرنس کروائی گئی جس میں انھیں ایک پرچہ تھمایا گیا ۔ انھوں نے قوم سے معافی مانگی کہ انھوں نے قومی راز چرا کر بیچے ہیں
ڈاکٹر قدیر ایک غدار کے روپ میں سر جھکائے پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔ یہ سلسلہ بڑا پرانا ہے۔
ڈاکٹر قدیر کو پریس کانفرنس کروا کر چھوڑا نہیں گیا کیونکہ وہ بیان دے سکتے تھے ۔ انھیں نظر بند کر دیا گیا۔ حکومت نے ان کے تحفظ کے نام پہ یہ نظر بندی سول حکومتوں میں بھی جاری رکھی۔
امریکہ نے اس دوران ڈاکٹر قدیر کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا لیکن یہ جانتے تھے کہ راز کھل جائے گا لہذا یہاں غدار کی تحقیقات کرنے اور ٹرائل کرنے کے نام پہ نظر بند کیے رکھا۔ عمر کے آخری حصے میں انھیں جنگ میں کالمز لکھنے کی اجازت ملی جس میں ہر کالم سینسر کیا گیا ۔
اپنے ہی ملک میں وہ قومی مجرم کی زندگی گزارتے رہے ۔ قومی راز چرا کر بیچنے والے کے پاس دولت کا بھی کوئئ سراغ نہیں ملا اور وہ حکومتی فنڈ پہ کسمپرسی کی زندگی گزار کر اس دنیا سے چلا گیا۔ ۔ آج پھر انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے شہریوں کے بنیای حقوق چھین کر جبری پریس کانفرنسز کروائی
جا رہی ہیں ، جیلوں میں سیاسی ورک��ز اور عورتیں ظلم و تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں اور ایٹمی قوت بننے کے ڈنکے بجائے جا رہے ہیں !!! تحریر
@2Kazmi جناب وہ زندہ قوم ہے اور وہاں کی پولیس اپنے شہریوں پر طاقت کا استعمال نہیں کرسکتی کیونکہ وہ انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیتے ہیں اور ہمارے ہاں حرامزادے حرام کھاتے ہیں کیونکہ ہمارے والے زیادہ تر حرامی ہوتے ہیں حلالی اپنی تنخواہ حلال کرتے ہیں
(پنجاب پولیس)
جتوئی: پولیس تشدد سے نوجوان جاں بحق
صفدر نامی ش��ص کافی دنوں سے غیر قانونی طور پر پولیس کسٹڈی میں تھا۔
صفدر کو گزشتہ رات پانی کا پائپ منہ میں دیکر واٹر پمپ چلا دیا گیا پانی کے پریشر کی وجہ سانس بحال نہ ہوئی جس سے موت واقع ہوئی😥
افواج پاکستان کے معزز اور جری جرنل متوجہ ہوں۔
یہ کسی سیاستدان کی گفتگو ہے نہ کوئی سیاسی اجتماع!
عام آدمی کے جذبات کیا آگر آپ تھوڑی سوچ سے کام لیں تو یہ ویڈیو کافی ہے۔
خدارا فوج کے عظیم ادارے کی ان پالیسیوں کو درست کریں جن کی وجہ سے عوام اور فوج میں خلیج اس حد تک بڑھ چکی ہے۔