جنہوں نے عمران خان کے ڈر سے آئین بدل دیا، سپریم کورٹ کا سٹرکچر بدل دیا اور اب نئے صوبوں کی صورت میں ملک کا نقشہ بدلنے جا رہے ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی سپریم کورٹ سے کیوں ڈریں گے؟
الحمد اللہ رب العالمین !
ایک عرصے سے فجر کے بعد قرآن کا مطالعہ کرنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے
وہ ایسا وقت ہوتا ہے جب قرآن آپ سے باتیں کرتا ہے
میرے دل میں اٹھنے والے خدشات اور سوالات کا جواب مجھے یوں ملتا ہے کہ جیسے قرآن میری دلی کیفیات سے آگاہ ہے
اور قرآن مجھے بتاتا ہے کہ ظالموں اور ان کے حامیوں کے لئے اللہ نے کہیں کوئی خیر باقی نہیں رکھا
اس لئے میں کبھی مایوس نہیں ہوتا
میں کبھی پریشان نہیں ہوتا
مجھے سو فیصد یقین ہے کہ پاکستان پہ مسلط رجیم عبرت ناک انجام سے دوچار ہو گی
کچھ مہلت اور مل سکتی ہے مگر عذاب ٹل نہیں سکتا
#عمران_خان_استقامت_کا_استعارہ
انتہائی اہم 🚨🚨🚨🚨
یہ آج سے کوئی نو مہینے پہلے کی بات ہے اندازہ لگائیں نینسل منڈیلا رولز کے مطابق 15 دن اگر کسی کو قید تنہائی میں رکھا جائے
وہ فزیکل ٹارچر میں اتا ہے خان صاحب پچھلے نو سے 10 مہینے تک قید تنہائی میں ہے
مجھے سمجھ نہیں اتا ہم کس سے ڈر رہے ہیں جب یہ لوگ ہر ایک قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور خان صاحب کی جان لینے کی بہت قریب ہیں
ہم ابھی بھی کس بات سے ڈر رہے ہیں کون سے قانون سے ڈر رہے ہیں
کون سی بے عزتی سے ڈر رہے ہیں
جب انہوں نے دنیا کے کسی قانون کو ہی نہیں مانا
تو ان لوگوں کو ان کے اوقات میں رکھ کے جیل کی دیواریں توڑنے کا حکم دیا جانا چاہیے
حبیب جالب کی بیٹی کو ٹھیلا لگانے کے لیے بھی اگر کسی کی تصویر لگانے کی شرط یا مبینہ بھتہ دینا پڑے تو یہ سوال صرف ایک خاندان کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔
جالب نے ساری زندگی عام آدمی کے حق، عزت اور آزادی کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ آج اگر اُن کی بیٹی روزگار کے لیے بھی طاقتور لوگوں کی اجازت اور مبینہ بھتے کی محتاج ہو جائے تو یہ اُس نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جالب کی شاعری آج بھی زندہ ہے، مگر افسوس اُن کا خوابِ انصاف کہاں ہے؟
معصوم فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم اور ناانصافیوں کے سامنے خاموش رہنا انسانیت کا ایک قرض ہے۔انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی خاطر، ہمیں ظلم کو بے نقاب کرنے کے لیے آواز بنتے رہنا چاہیے۔
کسان اتحاد نے 25 ستمبر کو راولپنڈی اسلام آباد میں ملین مارچ کا اعلان کردیا
یعنی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے ٹھیک 2 دن پہلے
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
یہ لوگ صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اب بھی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ ورنہ اس نظام کا حصہ بن کر نئی آئینی ترامیم کروانے کی قیمت لینے کے بجائے استعفے دیں اور سڑکوں پر نکلیں
I am an Imran Khan man
The dictatorship in Pakistan can no longer pretend Imran Khan does not exist, now that the court has ordered him moved to hospital. The regime has tortured or slow poisoned him almost to death
Watch #MOATS Live every Sunday & Wednesday 7PM London Time
Follow @moatstv 579 #ImranKhan #Pakistan #dictatorship
🚨جاوید ہاشمی صاحب نے بڑا اعتراف کر دیا ہے جاوید ہاشمی صاحب جیسے شخص کی بات غلط ہو ہی نہیں سکتی
عمران خان اوٹ اف سلیبس آیا ہے ایسٹیبلشمنٹ کو عمران خان جیسے آزاد سوچ والے قبول نہیں بوٹ پالیشیا چاہیے ہم جیسے دکھی لوگوں کو عمران خان کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں
100% درست 💯✌️
ایک مرتبہ وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ کر کے باہر نکلے تو جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ اسد صاحب عمران خان ہمیشہ مجھے کہتے ہیں کہ میں 22 سال اسٹرگل کر کے آیا ہوں جیسے مجھے سیاست کا پتہ ہے تمہیں نہیں پتہ یار ان سے کہیں ہم 75 سال سے یہی کام کر رہے ہیں ! اسد عمر ۔۔
تمہاری اوقات کیا ہے دو ٹکے کے ہو تم اور عمران خان پر بات کرتے ہو وہ تمہارا ورلڈ کپ وننگ کیپٹن ہے۔
اس عمر میں بھی اگر ڈی جی ائی ایس پی ار عمران خان کے پاس اکیلا چلے جائے تو عمران خان اتنا دلیر ہے کہ تمہارا جبڑا نہیں ملے گا۔۔
یہ تو چھترول کا الگ ہی لیول ہو گیا 😂
I guess I am the only Turkish person defending Imran Khan internationally since IK was ousted from the office but these days the supporters of Imran Khan keep targeting me and Türkiye. Yet I will keep raising my voice for Imran Khan.
پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ چینی کی کمی پوری کرنے کے لیے جو چینی امپورٹ کی گئی تھی اب اس چینی کو ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے
ان سے پوچھا جانا چاہیے آپ نے چینی کتنے میں امپورٹ کی اور اب کتنے میں ایکسپورٹ کر رہے ہو
اطہر کاظمی
پاک فوج کی ٹوٹل اوقات۔ہر دور میں ہر دہائی میں۔
سات لاکھ فوج پاکستان پالتا ہے پھر جرنیل اربوں ڈالر قرض لیکر عیاشی کرتا ہے
وہ قرض بھی پاکستانی قوم اتارتی ہے
جب پہلا جرنل عبرت ناک موت مر جاتا ہے اسکی جگہ دوسرا آجاتا اور سرکل پھر سے شروع 😅
🚨"میرے لوگوں کو بتاؤ، یہ مجھے مرسی کی طرح مارنا چاہتے ہیں"
"میرے لوگوں کو بتاؤ، مجھ پر دس مہینے سے تشدد ہو رہا ہے"
وہ دیوار سے نہیں بول رہا
وہ تم سے بول رہا ہے
چوہتر سال کا آدمی، اندھیری کوٹھڑی، اور آخری امید پھر بھی تم ہو۔
ایک ضروری کالم
فوج کو پنڈی میں کیوں لگایا گیا ہے :
جس طرح عاصم منیر اپنی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں اور ایک مُطْلَقُ الْعِنان شہنشاہ بننا چاہتے ہیں ، ظاہر ہے باقی سارے ادارے اور افسر انکو مجبوری میں قبول کر رہے ہیں اور وہ لمحہ بہت جلد آنے والا ہے جسے انگریزی میں کہتے ہیں اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ، یعنی ایک دیوار پر اتنا بوجھ ڈال دیا جائے کہ اسکے بعد ایک اینٹ یا تنکا اور ڈالا گیا تو دیوار دھڑام سے بیٹھ جائے گی - عاصم منیر نے اپنے آپ کو ہر طرف سے محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے - مگر کیوں ؟
سب سے پہلے تو ظاہر ہے عاصم منیر کو خفیہ رپورٹیں ملی ہونگی کہ آپکی جان کو خطرہ بہت بڑھ گیا ہے اور آپ نے بہت زیادہ جرنیلوں اور فوجیوں کو زبردستی نقصان دیا ہے اور دشمن بنا لیا ہے - تو اپنی حفاظت کریں -
پھر سب کو پتا ہے عاصم منیر اپنے پورے فوجی کیریئر میں ایک بالکل اوسط درجے سے نیچے (below average ) افسر تھے یہاں تک کے انکو کسی دنیا کے مشہور فوجی ٹریننگ کے ادارے جیسے برطانیہ کا Sandhurst یا امریکا کے وار کالج میں کورس کرنے کا داخلہ نہیں ملا بلکے انہوں نے ملیشیا کے وار کالج سے کورس کیا جو ایک گمنام کالج ہے - مگر انکو سازشوں سے موقعہ مل گیا کے فوج کے چیف بن گئے تو احساس کمتری تو کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے -
تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ چند ہی دنوں میں عاصم منیر کو نئے جرنل لگانے ہیں ، بے شمار جرنیلوں کو ترقی دینی ہے اور آی ایس آی جیسے اداروں پر اپنے بندے بٹھانے ہیں - جیسے انکی عادت ہے وہ کسی قابل اور اپنے سے زیادہ باصلاحیت اور لائق جرنل کو آگے نہیں لا سکتے تو ہر نکمہ مگر ذاتی وفادار جرنل اوپر آئے گا - نتیجہ یہ ہوگا کہ درجنوں جرنل ریٹائر ہو کر انکو کوستے ہوے گھر جایئں گے اور فوج کا مزید حشر خراب ہوگا -
جن نکمے جرنیلوں کو وہ ترقی دیں گے انکے خاندان ، بچے اور زمینیں ، گاڑیاں سب نشانے پر ہونگی، بچے اغوا بھی ہو سکتے ہیں اور انھیں بچانا بھی ضروری ہے - اور یہ سب پنڈی ہی میں رہتے ہیں اور جتنے ناراض جرنیل ہونگے اتنا ہی خطرہ زیادہ ہوگا -
تو تین کمپنیاں تو کافی نہیں ہونگی ابھی اور اپنی گرفت مضبوط کریں گے - مگر -
وقت ہوا چاہتا ہے آخری اینٹ یا آخری تنکے کو اونٹ کی کمر پر رکھنے کا اور پھر تماشا دیکھیں کیسے یہ کاغذی محل نیچے آتا ہے -