سرگودھا کی ایک دکان کا بل۔
صرف شدہ یونٹ: 36
بجلی کی قیمت : 1347
میٹر کرایہ : 1000
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: 15:66
ایف سی سرچارج : 116.28
سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ: 12.61
بجلی ڈیوٹی: 20.41
جنرل سیلز ٹیکس : 449
انکم ٹیکس : 280
اضافی ٹیکس : 125
مزید ٹیکس: 100
ریٹیل سیلز ٹیکس 124.86
ایف پی اے پر جی ایس ��ی: 3.00
ایف پی اے پر اضافی ٹیکس: 1.00
ایف پی اے پر مزید ٹیکس: 1
ایف پی اے پر انکم ٹیکس: 2.00
ایف پی اے پر ریٹیل سیلز ٹیکس: 0.80
ایف پی اے پر بجلی ڈیوٹی (ED): 0.23
ٹوٹل ایف پی اے : 24
بل: 3600
You may not be visible amidst the dazzling lights of diplomatic errands, you may have been forgotten by people you put in power, you may be suffering because of not achieving what you would have wanted but remember
YOU ARE IN OUR HEARTS, IN OUR PRAYERS, AND PART OF OUR SMALL STRUGGLES
We will speak for you, pray for you, and do whatever we can because YOU DID WHAT YOU COULD ALL YOUR LIFE!
@ImranKhanPTI #imrankhan #ImranKhanHealthEmemrgency
آپ کا شکریہ کہ آپ جواب دے کر دام میں آ گئے۔
پہلی گزارش یہ کہ اس وقت ہر وہ شخص آپ کو پی ٹی آئی کا لگتا ہے جو موجودہ فسطائی رجیم یا اسٹیبلشمنٹ کے ماورائے آئین و قانون و اخلاقیات و انسانیت کاموں پر تنقید کرتا ہے یا مزاحم ہے سو یہ بات میرے لیے تکلیف دہ ہو یا نہ ہو پی ٹی آئی کے لیے خوش آئند اور ان کی جدوجہد پر مہر تصدیق ہے کہ وہ درست راستے پر ہیں۔
دوسری بات یہ کہ آپ نے اقرار کر لیا کہ آپ کا کل بیانیہ اور محاذ ہی پی ٹی آئی کا بیانیہ توڑنا ہے نا کہ اپنا بیانیہ و منشور پیش کرنا اور اس پر توانائیاں خرچ کرنا۔
آپ پی ٹی آئی پر ٹرولنگ کرتے ہیں اور جواد احمد کی سطح تک پہنچ کر شخصی و ذاتی حملے کرتے ہیں لہذا آپ کا استدلال قطعا کوئی علمی نہیں کہ آپ سے علمی بات کی جائے۔
اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عمران خان نہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت ہے
عدلیہ کی عملی معزولی ہے
آئین پر شب خون ہے
بدترین معاشی صورت حال ہے
بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں
ماورائے آئین و قانون اقدامات ہیں
تباہ کن خارجہ پالیسی ہے
لیکن آپ نے اپنی دکان پر بورڈ صرف اینٹی پی ٹی آئی اور عمران خان کا لگا رکھا ہے کیوں یا کم از کم تاثر یہ دے رکھا ہے۔
مزے کی بات بھی سن لیں۔
آپ کا پورا ایجنڈا اور طریقہ وہی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے ہر ٹاوٹ کا ہے۔
یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے لہذا اس پر سوچیے گا ضرور کہ ایسا کیوں ہے۔
آپ کی باتوں سے لگتا ہے جیسے آپ نے مارکیٹ میں کوئی نئی دکان کھولی ہے اور اب آپ پورا زور مارکیٹ میں سب سے زیادہ چلنے والی دکان کا امیج خراب کرنے پر لگا رہے ہیں۔
آپ یہیں سے غلط ہیں۔آپ اپنا انقلابی منشور پیش کریں اور لوگوں کو آگاہ کریں کہ آپ کا سیاسی اصلاحاتی معاشی معاشرتی اور فکری ایجنڈا کیا ہے۔
آپ صرف عمران خان سینٹرک کیوں ہیں؟
آخری بات یہ اپنے سیاسی پلیٹ فارم سے متعلق جو مبہم باتیں آپ کرتے ہیں ذرا اس میں خود کلئیر ہو جائیں کہ یہ ہی ہے یا شی۔
نام عوام راج پارٹی رکھ لیا لیکن ابھی یہ پارٹی نہیں تحریک ہے اور پارٹی بعد میں جا کر بنے گی؟
شو ون مین ہے لیکن آپ کا اس سے لینا دینا بھی کچھ نہیں نہ آپ نے کچھ بننا ہے۔
پارٹی بن گئی لیکن یہ پارٹی نہیں ہے؟
آپ امام خمینی کارل مارکس اور حسن البنا کی طرح ایک فکری تحریک چلا رہے جو آگے چل کر نظام کی داغ بیل ڈالے گی ؟
یعنی کچھ بھی اقرار بھائی یعنی کچھ بھی ؟
اقرار بھائی یہ ملغوبہ باتیں اپنی گلی میں ریڑھی والے سے کیا کریں۔نکل آئیں سر عام کی ذہنیت سے۔یہاں لوگ بڑا بڑا کچھ سمجھ گئے ہیں آپ کا چورن تو شے ہی کوئی نہیں۔
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
��وری میں نے آپ کا ٹویٹ ابھی دیکھا کیونکہ میں نے ٹاوٹس اور موجودہ نظام کے حامیوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس میوٹ کیے ہوئے ہیں ،
میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں جہالت میں یہ ��مجھتا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ صرف انہیں کو اٹھاتی ہے جنہوں نے کوئی جرم کیا ہو ،
میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں جہالت کی بنیاد پر سمجھتا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کبھی کسی بے گناہ کو نہیں اٹھاتی ،
میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں جہالت کی بنیاد پر یہ سمجھتا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اگر کسی کو اٹھاتی بھی ہے تو وہ ملک کی خاطر اٹھاتی ہے ،
میں اپنی اس جہالت پر کئی بار معافی مانگ چکا ہوں ،
عمران ریاض خان صاحب کے ساتھ جا کر پریس کلب کے باہر موجود بلوچ لاپتہ افراد کی فیملیز سے بھی معافی مانگ چکا ہوں ،
یہ بھی اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ کسی ایجنسی سے ڈائ��یکٹ یا ان ڈائریکٹ کوئی مالی فائدہ نہیں لیا،
آپ یہ بتائیں کہ آپ نے اگر سیاسی جماعت ملک کا نظام بدلنے کے لیے بنائی ہے تو اسٹیبلشمنٹ تو کبھی نہیں چاہتی کہ موجودہ نظام بدلے ،
وہ آپ کو اے آر وائی پر پروگرام اور ملک بھر میں تقریبات کیسے کرنے دے رہے ہیں؟؟؟
فواد چوہدری صاحب ،
فوج سے سپیس عوام نے لے کر دینی تھی اور عوام نے آٹھ فروری کو ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا
مطلب خان کی سیاسی حکمت عملی کی عوام نے تائید کر دی
ایک فریق آئین کو ہی نہیں مان رہا تو کیا اسے آئین کا تابع ہونے کا مشورہ دینے کی ضرورت ہے یا عوامی مینڈیٹ والوں کو غیر آئینی اقدام کرنے والوں کا تابع ہونے کا؟
ملک آئین کے مطابق چلانا ہے یا چند جنرلوں کی خواہشات کے مطابق ؟
کبھی ایوب کبھی یحییٰ کبھی ضیاء کبھی مشرف اور کبھی عاصم منیر ؟
کیا دائرے میں ہی گول گول گھومنا ہے ؟
اور اگر جرنیلوں کے سامنے بھاؤ تاؤ کر کے ہی ملک چلنے ہیں تو پھر عمران خان سیاست میں آئے ہی کیوں ؟ جب اس بھاؤ تاؤ کر کے سپیس لینے کے ماہر نواز زرداری سیاست میں موجود تھے -
آپ نے سارا وقت جنرل باجوہ سے انگیجمنٹ کی۔ انہوں نے آپکے پلے کیا چھوڑا ؟
آپ بار بار کہتے ہیں فوج سے رابطہ ختم نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ آپ کا جنرل باجوہ سے بھرپور رابطہ تھا۔ کیا انہوں نے آپکے رابطے کا احترام کیا۔ انکے لگائے ہوئے سارے جرنیلوں نے آپ کے حلقے سے ایک سیاسی نابالغ کو فارم 47 پر جتوا کر اسمبلی میں بھجوا دیا۔ آپ تو انگیجمنٹ والا رویہ رکھتے تھے۔ انکا احترام بھی کرتے تھے۔ سیاسی رموز سے بھی واقف تھے۔ پھر انہوں نے آپکی جگہ پر ایک نابالغ کو چنا۔
کئی بار میز پر بیٹھ کر ہارتے جانا اور بیٹھے رہنے سے ہار کر میز سے اٹھ جانا بہتر ہوتا ہے۔
باقی یقین کریں ملک سے باہر ایک ایک دن مشکل گزرتا ہے۔ دعا ہے خان صاحب جیل سے باہر آئیں اور ہم بھی آپکے برابر والی چھت پر پتنگ چڑھائیں تُنکے ماریں پیچے لڑائیں۔ کیوں پاکستان سب کا ہے۔ اس کی رجسٹری ہمیں ملک بدر کرنے والے جرنیلو�� نے نہیں کروا رکھی۔
عمران خان کو مذاکرات کے نام پر جو خاموشی آفر ہوتی ہے ، جو مصالحت آفر ہوتی ہے ، جو جلاوطنی آفر ہوتی ہے وہ وہی ہے جو بارہا بینظیروں ، زرداریوں اور نواز شریفوں نے حاصل کی۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ پیپلزپارٹی سندھ کے کچھ وڈیروں کی جماعت ہے زرداری ، گیلانی اور پورا شریف خاندان جعلی نشستوں اور جعلی ووٹوں پر اقتدار میں ہے۔ کیا عمران خان اس لعنت زدہ مصالحت کو ��بول کرلے؟
رجیم چینج کے بعد عمران خان نے دو دفعہ ایوان صدر میں جنرل باجوہ سے ملاقات کی۔ گرفتار ہونے سے پہلے گرفتار ہونے کے بعد جیل سے بار بار مذاکرات کا اعلان کیا۔ کئی دفعہ مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ اس وقت بھی عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا ٹاسک دے رکھا ہے۔ یعنی وہ مذاکرات جس میں عمران خان کو اس کا مینڈیٹ واپس دیا جانا چاہیے ، اس ملک میں جمہوریت کی راہ ہموار ہونی چاہیے اسکے لیے عمران خان آج بھی تیار ہے۔
پھر اسکے ساتھ ساتھ عمران خان کے پاس مقبولیت ہے۔ عمران خان کے پاس عوام کا دوتہائی مینڈیٹ ہے۔ عمران خان کے پاس تین سال کی حکومت کے زبردست اعداد و شمار ہیں۔ چھ فیصد گروتھ ریٹ ، ریکارڈ ایکسپورٹس ، ریکارڈ ترسیلات زر ، ریکارڈ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ہے ، ریکارڈ جاب کرئیشن اور امن و امان کی بہترین صورتحال جیسے معجزے ہیں۔
دوسری سائیڈ کے پاس کیا ہے؟ ملک برباد کردیا ہے ، گروتھ ریٹ آدھے سے بھی کم کردیا ہے۔ انویسٹمنٹ ساری بھاگ چکی ہے۔ ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں ، تین سال میں تین ہزار فوجی مروا دیے ہیں ، ایک صوبہ علیحدگی کی نہج پر پہنچ چکا ہے دوسرے میں فوجی قافلے سخت سیکیورٹی میں حرکت کرتے ہیں ، ایک ٹانگ اسرائیل میں اڑائی ہوئی ہے دوسری سعودی عرب میں ، تیسری ٹانگ امارت نے گھسا رکھی ہے۔
آپ نے باون شہداء کا ذکر کیا ، آپ نے چونتیس ہزار گرفتار شدگان کا ذکر کیا لیکن آپ نے خفیہ کیمروں کا نہیں بتایا ، برہنہ ویڈیوز کا نہیں بتایا ، بہن بیٹی بچے اغواء کرنے کا نہیں بتایا ، گھر توڑنے کا نہیں بتایا ، خواتین کے نام پر بلیک میل کرنے کا نہیں بتایا۔ عمران خان ان باون شہداء کی ، ان چونتیس ہزار جیل جانے والوں کی اور ان کروڑوں لوگوں کی امید ہے۔ وہ سسکتے ہوئے ، وہ دل ہی دل میں روتے ہوئے ح��اب کے انتظار میں ہیں وہ مذاکرات کے انتظار میں نہیں ہیں۔
اگر سیاست فوج سے سپیس لیکر وزیراعظم بننے یا وزیراعلی بننے یا صدر بننے کا نام ہے تو اس لعنت کا نام شہباز، مریم اور زرداری ہے۔ اگر سیاست اس سپیس کی وکالت کا نام ہے تو ایسے مہروں کا نام فیصل واوڈا اور فواد چوہدری ہے ، اسد عمر ہے اور عمران اسماعیل ہے۔
جن مذاکرات سے آپ جیسوں کی وزارتیں سیدھی ہونی ہیں ، جن مذاکرات کی سے اقتدار کی باریوں کا کھیل آگے چلنا ہے ، ان مذاکرات کے لیے عمران خان تیار نہیں عوام تیار نہیں۔ جن مذاکرات سے ملک میں جمہوریت آنی ہے ، انصاف کا نظام بحال ہونا ہے ، سزا و جزا ہونی ہے اس کے لیے فوج تیار نہیں ہے۔ عمران خان فوج کے پسندیدہ مذاکرات سے انکار کی قیمت صعوبتوں کی شکل میں برداشت کررہا ہے۔ فوج عوام کے پسندیدہ مذاکرات سے انکار کرکے اس ملک کو برباد کررہی ہے۔
جتنا زور ادھر منہ کرکے لگاتے ہیں اتنا زور دوسری طرف منہ کرکے لگائیں۔ بلکہ نہیں ہمارا ماحول آلودہ ہوگا۔ آپ جدھر ہیں ادھر بیٹھ جائیں۔
ریماصاحبہ
ایک گذارش 🙏
آپ بڑی سیانی ہیں اور سندر بھی۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ راجکماری گندی ویڈیوز سے لوگوں کو بلیک میل کرتی ہیں؟
اور بات بات پر یہ عورت کارڈ نہ نکال لیا کیجیے۔ عمیری کی گرل فرینڈ ثابت کر چکیں کہ اب پاکستانی مسلم خواتین مردوں سے کم نہیں 😊
@reema_omer
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report: