سندھ اسمبلی میں بیٹا، بیٹی، کزن کوٹہ پر کئی ایم پی ایز بیٹھے ہوئے ہیں!ایم کیو ایم رہنما عثمان نے نام لینے شروع کیے تو اسپیکر نے روک دیا! پھر ایسا کیا جواب دیا کہ اسمبلی میں قہقہے لگ گئے
#PublicNews#PublicUpdates
تماشا بنا کر رکھ دیا ہے اس ملک کو پورے ملک کو برباد کر دیا ہے ۔ ہر جگہ لوٹ مار ہے ۔
اس خاتون کی دن بارہ بجے ٹکٹ تھی ائیر بلیو کی جب یہ ائیرپورٹ پر پہنچی تو کہا گیا ٹکٹ کینسل ہو گی ہے ۔
اس نے بحث کی تو اگے سے ائیر بلیو والی لڑکی کہتی ہے اب تم نے ویڈیو بنای ہے میری ۔ مجھے تم ائیر بلیو سے اسلام اباد جا کر دیکھاو ۔
لڑکی کی ہمت کو سلام ہے جو دن بارہ بجے سے رات کے اٹھ بجے تک اپنے حق کیلے اواز اٹھاتی رہی ۔۔
یہ رعونت تکبر سرکاری اداروں میں تو پہلے سے ہی تھا اب یہ ادھر بھی اگئی ہے ۔ کیونکہ انکو پتہ ہے یہ عوام کیڑے مکوڑے ہیں ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتے ۔۔
زیادہ سے زیادہ عدالت میں چلیں جائیں گے اور عدالتیں ایسے کیسز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہیں ۔۔
اس وقت ملک میں ان لوگوں کا راج ہے ۔
دنیا کے کس ملک میں یہ ہوتا ہے، وزیرِاعظم، نائب وزیراعظم، پوری کابینہ، گورنرز، چیئرمین سینیٹ، کس ملک کی سالگرہ کی تقریب میں پہنچ جائیں، انہیں کھڑا رکھا جائے اور اس ملک کی گریڈ بیس کی ایک افسر کرسی پر بیٹھی ہو؟ کیا یہ پروٹوکول کے مطابق ہے؟ کیا کسی اور ملک میں کسی نے ایسا دیکھا ہے، تو بتا دیں۔ ثناء اللہ خان
#pakistan @SanaullahDawn
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
چونیاں / الہٰ آباد واقعہ — چند اہم حقائق
گزشتہ کچھ دن قبل الہٰ آباد میں نوجوان طالبہ کی خود کشی کا پیش آنے والا افسوسناک واقعہ صرف ایک خاندان نہیں پورے معاشرے کے لئے دکھ اور تشویش کا باعث ہے۔ بچیاں واقعی سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور ایسے سانحات پر خاموش رہنا ممکن نہیں۔لیکن حقائق جاننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ابتدائی طور پر متاثرہ بچی کے ورثاء نے خود قانونی کارروائی سے انکار کیا اور تھانے میں بیانِ حلفی جمع کروایا۔ ایسے حساس معاملات میں جب متاثرہ خاندان مقامی میڈیا سے بات نہ کرے اور عزت و وقار کا حوالہ دے حقائق نہ بتائے اسے میڈیا پر نہ لانے کی ریکوئسٹ کرے تو مقامی میڈیا کے لئے احتیاط اور ذمہ داری لازم ہوتی ہے۔بعد ازاں ورثاء کی درخواست پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی جبکہ دوسری جانب الزام علیہ نے بھی پولیس سے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اب معاملہ قانون کے دائرے میں ہے۔سوال یہ ہے جب دونوں فریقین کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی مؤقف سامنے نہ ہو تو میڈیا قیاس آرائی کیسے کرے؟ میڈیا کا کام سنسنی نہیں سچ دکھانا ہے۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں انصاف کا ہے۔ قانون کو اپنا راستہ لینے دیا جائے۔ یاد رہے یہاں چند ناہنجار شہرت کے بھوکے سوشل میڈیا افلاطون بلا جواز مقامی صحافیوں کو مورد الزام ٹھہرانے پر تل گئے اور اگر ان کے اپنے گھر کے قریب کوئی بے بس ظلم کا شکار بنے یا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر دنگا ہوجائے تو انہیں پوسٹ لگانے ایک لفط لکھنے کی ہمت نہ رہے مگر واہ واہ کے لئے صرف دوسروں کو حرف تنقید بنانا ہی مشن ہو ان کے لئے اللہ سے ہدایت کے لئے دعا گو ہیں۔۔۔
امید ہے سچ سامنے آئے گا، اور جو بھی ذمہ دار ہوا قانون کے مطابق جوابدہ ہوگا۔
نارتھ ناظم آباد میں قائم فتح پارک سے لاپتہ ہونے والے 4 سالہ بچے کے والد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بچہ صرف بول سکتا ہے کہ میرا نام انس ہے، کسی کو ملے تو ہمارے نمبر 03138530028 پر رابطہ کرے، ایدھی یا پولیس اسٹیشن میں بتائے۔ والد کا کہنا ہے کہ میرا بچہ اتوار کی شام 7:30 بجے نارتھ ناظم آباد سے لاپتہ ہوا، پولیس نے احتجاج کے بعد ایف آئی آر لکھی، اس واقعہ کو 48 گھنٹے ہوچکے ہیں پولیس نے کارروائی کی لیکن بچہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔ واضح رہے کہ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں قائم فتح پارک سے لاپتہ ہونے والے 4 سالہ بچے کا تین روز گزرنے کے باوجود کوئی سراغ نہ مل سکا۔
#TOKAlert #Karachi #ChildMissing
1/2آج پشاور میں بیٹی کیلئے شوز خریدے، جسکی قیمت 3500 تھی کیشئیر نے کہا کہ آپ شاپنگ بیگ کے 30 روپے اضافی دینگے۔میں نے کہا میں نے آپ سے سودا لیا ہے۔ آپ مجھے کسی بھی پلاسٹک یا کاغذ میں ڈال کر دے دیں 30 روپے کیوں دوں، کہا یہ کمپنی کی پالیسی ہے۔ جب میں نے 30 روپے اضافی دئے تو اپنے
Another iconic scene of peaceful resistance against a brutal military dictator.
Imran Khan's fight for Pakistan's democracy has introduced many new heroes to the nation.
#LongLiveTheResistance
اڈیالہ جیل کے سامنے دسمبر کی یخ بستہ رات میں عمران خان سے ملاقات کی منتظر بہنوں پر واٹر کینن کے ذریعے یخ بستہ پانی پھیننا محض جسمانی تشدد نہیں، بلکہ نفسیاتی تشدد کا بھیانک مظاہرہ ہے۔
یہ ظلم اس سے کہیں گہرا ہے جو آنکھیں دیکھتی ہیں —
یہ ذہنوں کو مرعوب کرنے، عزتوں کو پامال کرنے اور مزاحمت کی روح کو برفانی پانی میں ڈبو دینے کا نفسیاتی اپریشن تھا۔
تشدد کرنے والے نفسیاتی مرض میں مبتلا ہیں — ان کے ضمیر نے شرم حیا رخصت کر دی ہے، ان کی انسانی درد سے شناسائی ختم ہو چکی ہے۔ وہ سردی میں پانی چلا کر یہ پیغام دے رہے تھے کہ ہم صرف جسم نہیں، تمہاری امیدوں، توقعات اور مزاحمت کو بھی یخ بستہ کر سکتے ہیں۔
اور وہ بہنیں؟
وہ ملاقات کی امید لیے کھڑی تھیں — ایک بھائی سے ملنے کی سادہ خواہش۔ ان کا وجود ہی مزاحمت کی تصویر تھا۔ اور جب پانی کی برفانی لہروں نے انہیں ڈھانپا، تو وہ مزاحمت کا استعارہ بن گئیں — نہ صرف ایک خاندان کی، بلکہ ہر اس انسان کی جو انصاف کے دروازے پر دستک دیتا ہے اور ظلم کا پانی پیتا ہے۔
یہ رات تاریخ میں محفوظ ہوگئی — نفسیاتی تشدد کے بے نقاب ہونے کی رات۔
اور وہ بہنیں — مزاحمت کا نشان، مظلومیت کا استعارہ۔
#نفسیاتی_تشدد
#ظلم_کی_سرد_روایات
#مزاحمت_کی_تصویر
اس بچے نے @Ahmad_Noorani کی شائع کردہ رپورٹ پہ مبنی سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے اثاثوں بارے ایک مستند سوال کیا۔ اسکے بعد فوجی صاحب نے پہلے بات پھیرنے کی کوشش کی کیونکہ غالبا آگاہ ہونگے کہ سٹوری تو درست تھی پھر سوال کے دہرانے پہ بالآخر آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔
اس پوسٹ کو لگانے مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اچھی مستند انوسٹیگیشن پہ مبنی سٹوری دیرپا اور پر اثر ہوتی ہے اور جھوٹ اتنا ہی کھوکھلا جتنا جواب تھا
جب افغانستان کی باری تھی، تب عراق والوں نے، جب عراق کی باری تھی، تب لیبیا والوں نے، جب لیبیا کی باری تھی، تب شام والوں نے، جب شام کی باری تھی، تب لبنان والوں نے، جب لبنان کی باری تھی، تب ایران والوں نے، اور اب، جب ایران والوں کی باری ہے، پاکستان والوں نے بھی یہی سوچا، اور شاید ابھی بھی سوچ رہے ہیں کہ ہماری باری کبھی نہیں آئے گی۔ لیکن، اب سوچنا پڑے گا! اسد ملک
@asadmaliklive #AsadMalik
https://t.co/cxbGW6TArA
ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ عاصم منیر ایران کے معاملے میں ان سے اتفاق کرتے ہیں تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حملہ کیا فیلڈ مارشل کی مرضی سے ہوا
فیلڈ مارشل نے جلد بازی دکھائی اور ٹرمپ کو نوبل پیس پرائز کے لیے نامزد کر لیا اور آج پاکستان کو ایران پر حملے کی مذمت جاری کرنی پڑی
کیا یہ محض اتفاق ہےکہ وہ بھارتی صحافی برکھا دت جو حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان پر تابڑ توڑ زبانی حملےکرتی دکھائی دیں
وہ پاکستان آئیں اور صرف نواز شریف سے ملاقات کر کے چلی گئیں
نوازشریف سے بھی بھارتی جارحیت کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا جاتا۔ آخر کیوں؟