یہ شخص ٹیچر عثمان ہے، جس نے اکیلے پچھلے 4 سالوں میں ماحولیاتی آلودگی اور پانی بچانے پر وہ کام کیا ہے، جو ہماری وزارت ماحولیات وسائل کے باوجود نا کرسکی۔
میری حکومت سے گزارش ہے کہ اس شخص کی خدمات پر سول ایوارڈ دیا جائے، ایسے لوگوں کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔
یہ معصوم بچہ کار صاف کرتا ہے اس کا والد نہیں ہے ۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے جب اس سے پوچھا کہ رات کے دو بج گئے ہیں ابھی تک گھر نہیں گئے تو اس بچے نے جواب دیا کہ میری امی نے کہا ہے کہ 100 روپے ، چائے والے پاپے اور دودھ لیکر گھر آنا ورنہ نہیں آنا ۔
کیا حکمران یہ سمجھتے ہیں کعبے کا طواف کرنے اور مسجد نبوی ﷺ میں اعتکاف بیٹھنے سے وہ بخشے جائیں گے ؟ اور ان سے ایسے بچوں کا سوال نہیں ہوگا
If this were Iran, the world would be calling it oppression.
German police brutally assaulted a peaceful pro-Palestine woman.
Horrific scenes, and they are doing this on behalf of Israel.
اس کمینے کا نام شفقت عباس ہے
اور یہ لعنتی اپنے آپ کو سجدے کرواتا ہے
اور یہ اپنے آپ کو عزت دار اور بااثر کہلواتا ہے
اللہ پاک کی رضا کیلئے اس معاملے میں کوئی ساتھ دے یا نہ دے میں اس کا اس وقت تک پیچھا کروں گا جب تک یہ اس کام سے توبہ نہیں کر لیتا
I often think about the people who first built Islamabad, the planners and architects who didn’t just draw roads but imagined shade, air, and greenery. The ones who cared for green belts, planted those trees, and made this city feel like it belonged to the Margallas. They were really great men. Look around now and it’s like we have treated the place like disposable land. Every year a little more concrete, a little less canopy, a little more neglect dressed up as development.
کہتے ہیں ہم ترقی کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے سروے کے مطابق غریب آدمی دس دن میں اک انڈا کھا سکتا ہے۔ مہینے میں پچاس گرام مٹن جو شاید اک بوٹی بنتی ہے، چھٹانک چکن اور اس سے بھی کم غزا۔ ہم بھوکے مر رہے ہیں۔ اس سندھ ساگر کی دھرتی میں پانچ ہزار سال میں ایسی بھوک نہی آئی۔ سلام ہے شہباز شریف اور مریم نواز کو انہوں نے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ٹک ٹاک سے اس غربت کے داغ نہی چھپائے جا سکتے۔
اسلام آباد میں ترقی کے نام پر جگہ جگہ بے ہنگم تعمیرات کے ذریعے فطری حسن کو بے دردی سے کچلا جا رہا ہے۔ سرسبز و شاداب پہاڑیاں، کھلے میدان اور درخت کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف ماحولیاتی توازن متاثر ہو رہا ہے بلکہ اس شہر کی اصل شناخت بھی مٹتی جا رہی ہے۔
آپ اسلام آباد کی ماحولیاتی بربادی میں اس ملک کے اکلوتے دانشور وزیر احسن اقبال اورامریکہ پلٹ ذہین ترین وزیر ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک کا “نیوٹرل” رہنا ملاحظہ فرمائیں۔
دونوں وزیر شام کو روز ٹی وی شوز میں سیاسی بھاشن دیتے نظر آتے ہیں۔ اپنی وزارت کے موضوع اور ذمہ داریوں کے علاوہ یہ ہر موضوع کے ماہر ہیں۔
ان کی وزیر ہونے کے ناطے جو ڈیوٹی ہے اس پر ان کی حیران کن خاموشی دیکھیں۔ ایک موصوف پلاننگ کا وزیر ہے دوسرا ماحولیات کا۔ ان کا فرض ہے وہ شہر کو محسن نقوی اور محمد علی رندھاوا سے ماحولیاتی قہر سے بچائیں لیکن دونوں مصلحت یا ڈر کے مارے خاموش ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف تو ویسے ہی اب عالمی لیڈر بن چکے اسلام آباد کی تباہی پر ان کی نظر کیوں پڑے گی۔ انہیں تو ویسے بھی انہیں سموگ زدہ شہر اچھے لگتے ہیں۔
ان کا وہی حال ہے
آگ لگے بستی میں
ہم اپنی مستی میں۔
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@DrMusadikMalik@betterpakistan@CDAthecapital@PalwashaKhan18@fawadchaudhry@DrTariqFazal@sherryrehman@SenatorMushtaq
This is sheer hypocrisy on part of @GBertrand_UE, @eu_eeas Head of the Pakistan & Afghanistan Division & EU officials who are mum silent over inhuma treatment of former PM of Pakistan @ImranKhanPTI his wife his nephew and thousand of party workers who are imprisoned on false charges. Scores of them were trialed in military courts. Thousands’ home were vandalised. Women children elders are harassed even elderly women and young girls were given rap threats. But neither EU Union @EURightsAgency@UNHumanRights@HumanRightsCtte@UN never ever raised voices showed concern.
We condemn this HYPOCRISY and demand to come forward and play your part against this state brutality.
آج جن بچوں کی ضمانت منظور ہوئی ہے ان کی ہتھکڑیاں کھلنے کے بعد انھیں پولیس والے CRO کے لئے لے گئے تھے جہاں ان کے ہاتھوں کی انگلیوں کے نشان لئے گئے اور تصویریں بنائی گئیں
وہ نرم نرم انگلیاں، جو کتابوں کے صفحے پلٹنے کے لئے بنی ہیں، آج وہی انگلیاں مجرموں کے ڈیٹا بیس پر اپنے نشان چھوڑ آئی ہیں
ان کے فنگر پرنٹس اُسی خانے میں محفوظ کر لئے گئے جہاں برسوں سے بدترین مجرموں کے نام دفن ہیں. ان کے چہرے اسی کیمرے نے قید کر لئے جس کے فریم نے بیگناہی پہچاننا سیکھا ہی نہیں.
تصویریں بنا دی گئیں، انگلیوں کے نشان محفوظ کر لئے گئے. ایک ایسا کریمنل ریکارڈ جو اب سوالیہ نشان کے طور پر ان کے نام کے آگے ہمیشہ کے لئے کُندہ ہو چکا ہے
آج وہ چھوٹے چھوٹے قدم واپسی پر جب گھر کی طرف بڑھ رہے تھے تو ان میں اعتماد نہیں تھا. وہ ہر کسی کے منہ کی طرف ایسی نظروں سے دیکھتے تھے جیسے پوچھ رہے ہوں "انکل آپ بھی ہمیں مجرم تو نہیں سمجھ رہے؟" انکل ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہم اتنا بڑا جرم کرکے جا رہے ہیں کہ ہمیں منشیات فروشوں اور ڈاکوؤں کے ساتھ ایک ہی زنجیر میں جڑی ہتھکڑی لگا کر پیش کیا جائے گا"
آج یہ قدم لڑکھڑا رہے تھے. مجھ سے ان بچوں کی آنکھوں میں دیکھا نہیں جا رہا تھا. یہ ننھے دل ان چوبیس گھنٹوں کے دُکھ کو ساری زندگی نہیں بھلا پائیں گے.
یہ ایف آئی آر انصاف کے کاغذ پر لکھا وہ دکھ ہے جس پر ان بچوں کی زندگی کی سب سے پہلی سزا تحریر ہو چکی ہے.
حضور والا!
آپ کا اقبال بلند رہے..
آپ کے مزاج میں جو آئے، کرتے رہیں
ہم اپنے دُکھوں کے ساتھ جینا سیکھتے جا رہے ہیں