ایٹمی دھماکوں سے قریبا ایک سال بعد ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے منہ سے یہ بات سنی تھی کہ جب انڈیا نے پانچواں دھماکہ 13 مئی کو کر لیا تو،
وزیر اعظم نوازشریف نے آرمی چیف، ڈاکٹر عبدالقدیر، اور مجھے وزیر اعظم ہاوس بلایا، یہ ٹاپ سیکرٹ میٹنگ تھی جس کا علم وزیراعظم کی کابینہ اور پرنسپل سیکرٹری تک کو نہیں تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر بہت زیادہ عالمی دباؤ ہے کہ پاکستان دھماکے نہ کرے میں اس دباؤ کا اکیلے مقابلہ کر سکتا ہوں بشرطیکہ آپ مجھے بتادیں کہ اگر ہم ٹیسٹ کریں تو کامیابی کے چانسز ہیں یا نہیں؟ ڈاکٹر ثمر کہتے ہیں میں اور عبدالقدیر خان نے ان کو بتایا کہ ان شااللہ کامیابی کے مو��قع 90 فیصد ہیں، فیل ہونے کے ٹینیکل چانسز ہوسکتے ہیں ویسے سب ٹھیک ھے، تو اس پر وزیراعظم کہنے لگے میں آپ لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ آپ دھماکوں کی تیاری کریں لیکن یاد رکھیں اگر ہم ناکام ہوئے تو اس کا مطلب پاکستان کی سالمیت اور آزادی کا خاتمہ ہے اُس صورت میں نہ آپ زندہ رہنا چاہیں گے نہ میں،
تیاری یہ سمجھ کر کریں کہ آپ کی اور میری زندہ رہنے کا انحصار ہی ان دھماکوں کی کامیابی پر ہے”
نواز شریف نے 13 مئی کی رات کو دھماکوں کی تیاری کا حکم دے دیا تھا اور پاک فوج کو دھماکوں سے پہلے انڈیا کے حملے کی صورت میں مکمل جنگ Full scale war کا حکم دے دیا۔ لیکن بظاہر انہوں نے کئی ممالک کے دورے کیے دوست ممالک سے رابطے کیے کیونکہ یہ بات کلئیر تھی کہ دھماکوں کی صورت میں اقتصادی پابندیاں لگنی تھی اور ہمیں تعاون کی بھی ضرورت پڑنی تھی۔
ڈاکٹر ثمر کے بقول وہ دھماکہ پروجیکٹ کے گراونڈ انچارج تھے اور 15 مئی کی رات تک چاغی میں تیاری شروع ہوچکی تھی بقول ان کے یہ ان کی زندگی کے سب سے زیادہ سٹریس فل دن تھے اوپر آسمان پر ۲۲ سیارے ان کی نگرانی کر رہے تھے اور ادھر وزیر اعظم دن میں کئی کئی بار فون کرتے۔بہرحال دھماکے کامیاب ہوئے۔
��واز شریف کی حکمت عملی حیران کن تھی سعودی شاہی خاندان امریکہ کے قریب ترین اتحادی ہونے کے باوجود نواز شریف کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوئے سالانہ 2 ارب ڈالر کا مفت تیل اور مجموعی قتصادی ترقی کے لیے بڑا پیکج دیا، اور امریکہ کی وسیع ترین پیش کش پاکستان نے ٹھکرا دی، جن جن حضرات کو مئی کا وہ مہینہ یاد ہے وہ جانتے ہیں کہ انڈین وزیراعظم واجپائی کی کھلی دھمکیوں نے پورے ملک کو پریشان کیا ہوا تھا ان دھماکوں نے پانچ منٹ میں ان دھمکیوں کو دوستی کی پشکش میں بدل دیا۔ اور اصل مسئلہ تو دھماکوں کے بعد پابندیوں سے نمٹنا تھا جو نواز شریف نے بخوبی انجام دیا۔۔ آج کے یوتھیے اور فلمی بلونگڑے کی�� جانیں۔
( طارق رحمن )
میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان مکمل طور پر چین کے کنٹرول میں ہے۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے، اور اس کے مختلف ممالک کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات ہیں۔ پاکستان کو چین کے ساتھ تعاون کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، لیکن چین کے ساتھ تعلقات تو دنیا میں ہر کوئی استوار کر رہا ہے۔ روسی صدر پیوٹن کا بھارتی صحافی کو جواب
🔴 ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے ترک بھارت تعلقات بارے کہا:
اگر بھارت کسی ملک کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پر ناراض ہوتاہے، تو دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔
ہمارا بھارت کے ساتھ دو طرفہ سطح پر کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ہم بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو کسی اور زاویے سے نہ دیکھے۔
دفتر خارجہ نے جمعے کو جاری بیان میں کہا کہ ’پاکستان نے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات سے متعلق انڈیا کے بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات کو واضح اور دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔‘
https://t.co/weF2Ps1U2v
جوہری ہتھیار نہیں تھے تولیبیا میں قذافی حکومت کا تختہ الٹ کر قتل کر دیا گیا اور ہیلری کلنٹن ٹی وی پر دیکھ کر خوشی منا رہی تھی۔ ایران پر حملہ کیا گیا، وینز��یلا کا صدر اغوا کر لیا گیا ، مگر جوہری ہتھیار تھے تو شمالی کوریا کو کچھ نہیں کہا گیا، ورنہ وہ بھی مٹ چکا ہوتا۔ روسی وزیرخارجہ
اس ہفتے ہونے والی ایک تلخ ٹیلیفون کال، جس میں صدر ٹرمپ نے وزیراعظ�� کو ’پاگل ‘ کہا، پہلے میڈیا میں لیک ہوئی اور بعد ازاں خود ٹرمپ نے بھی اس کی تصدیق کر دی، جس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی کشیدگی کو واضح کر دیا۔
https://t.co/DEKahpBqFv
پاکستان کے ساتھ صدر ٹرمپ کا طر زعمل براہ راست، ذاتی اور نتیجہ خیز رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کو یقینی بنانے کا سہرا وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ک�� دیا، اور انھیں اوول آفس میں خوش آمدید کہا۔ یہ دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر ذاتی تعلقات اور صدر ٹرمپ کی پاکستانی قیادت کے لیے غیر معمولی اعتماد و احترام کا ثبوت ہے۔ نٹالی بیکر، امریکی ناظم الامور
اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات جدید تاریخ کا سب سے شاندار لمحہ تھا۔ بہت سے پاکستانیوں نے بھی کہا کہ یہ ناقابلِ یقین لگا۔ یہ پاکستان کا لمحہ تھا، اور پاکستان اس پر پورا اترا۔ اس دوران پاکستانی شراکت داروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور خاموش عزم کسی سے کم نہ تھا۔ مجھے آپ کے ساتھ خدمت کرنے پر فخر ہے۔ نٹالی بیکر، امریکی ناظم الامور
وہ لمحہ جب پاکستان کے کمانڈر نے دہلی سے واشنگٹن تک ہل چل مچادی ، تاریخ کا بہادر کمانڈر جس نے بھارت کو بھی روند ڈالا۔
7 مئی 2026 کو لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جوائنٹ سروسز پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پاکستان نے بھارت کو ابھی صرف 10 فیصد طاقت دکھائی ہے۔ ان کے پیچھے
1/9
پہلے آپ گلگت سے سکردو کتنی دیر میں جاتے تھے ؟ سر 9 گھنٹے میں اور اب کتنے گھنٹے میں جاتے ہیں 3 گھنٹے میں آپ لوگوں کو ہمی دعائیں دینی چاہیے ہم نے آپ کے پانچ گھنٹے بچائے ہیں
#GBSherKa#SherGBMein
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث رہا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے کئی مواقع پر جنگ کو روکا۔ ان کوششوں کو پورے یورپ میں بہت زیادہ تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ پاکستان کے تعاون سے، اب مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہر مز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ کاجا کالاس، سربراہ خارجہ امور یورپی یونین
اس سال بھی قوم نے تقریبا 1800 ارب روپے ایسی بجلی کے ادا کیے جو پیدا ہی نہیں ہوئی۔ آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور غیرضر وری ادائیگیاں بند کی جائیں
حافظ نعیم الرحمن کا مطالبہ
یہ ہیں وفاقی وزیرِ محافظِ کپیسٹی پیمنٹس اویس لغاری
ان حضور کے مطابق جو آدمی اپنی چھت پر سورج کی روشنی قید کر کے بجلی کا بل کم کرے، وہ 'بوجھ' بن جاتا ہے، اور جو قوم کی جیب سے اربوں ��ھینچ کر بند پڑے کارخانوں اور بجلی گھروں کے معاہدے پالے، وہ معیشت کا محسن کہلاتا ہے۔
اصل جرم بجلی بچانا نہیں، ان ہاتھوں سے نکل جانا ہے جو برسوں سے عوام کی جیب کو اپنی جاگیر سمجھتے آئے ہیں۔ اب رعایا نے سورج سے دوستی کر لی ہے تو دربار کو تکلیف ہو رہی ہے۔"
حکومت کے اپنے ادارے بتا رہے کہ پاکستان میں مہنگائی ریکارڈر سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ نون کے وزیر روزانہ منہ پکا کر کے کہہ رہے کہ حکومت نے مہنگائی کم کر دی ہے
جانے کونسی دنیا میں یہ وزیر بستے ہیں جو حقائق سے اتنے کٹ چکے ہیں
اپنی عوام کے لیے دو وقت کی روٹی نہیں ہے، انسانی حقوق کا جنازہ نکل چکا ہے، لیکن پاکستان دشمنی میں اندھے ہو کر اربوں ڈالرز کے سودے کیے جا رہے ہیں۔ جو حکومت اپنے معصوم بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتی، وہ پاکستان کو "ٹو-فرنٹ" پر کیا مصروف رکھے گی؟ یہ صرف بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش ہے۔