@pdakpk نہ ایک دن میں منصوبہ بنتا ہے نہ فنڈز جاری ہوتے نہ ٹینڈر جاری ہو کر کنٹریکٹ دیے جاتے تو صاف ظاہر ہے یہ سب پہلے سے ہو رہا تھا۔
ورنہ گورنر کوئی زکوٹا جن کا بچہ تھوڑی ہے کہ راتوں رات یہ سب ہو گیا ہوگا۔
23 سال پہلے وزیراعظم شہباز شریف کا دیا لیپ ٹاپ آج بھی میرے پاس ہے 23 سالوں میں پہلی بار اسکی بیٹری تبدیل کروائی ہے حکومت کا شکریہ ہمیں اتنا اچھا گفٹ دیا جبکہ 22 سالہ یدویہد والے نے قوم کو 9 مئی کا تحفہ دیا تھا
میڈم کا واقعہ سنیں۔ اجمل جامی چھوٹا بھائی ہی نہیں نہایت با ادب اور وضع دار نوجوان ہے، وہ گواہ ہے۔
لاہور میں ایک دوست کے گھر دعوت میں اسے بتایا کہ اسلام آباد جانا ہے اس نے کہا میں نے بھی جانا ہے۔ مجھ غریب کے پاس گاڑی نہ تھی تو اس نے کہا کہ میں آپ کو گھر سے لے لوں گا اور واپس بھی لے آوں گا۔
میڈم اس وقت چین کے دورے پر تھیں، انگریزی میں ایک گھٹیا تقریر فرمائی، ان کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجا کہ برائے مہربانی ایسی تقریر فرمانے سے پہلے کچھ پریکٹس کر لیا کریں، بڑے سے بڑا مقرر بھی ہوم ورک کرتا ہے۔ بات بات پر ہکلانا، غلط تلفظ کے ساتھ، کیوں اپنا مذاق بنواتی ہیں ؟ اس وقت جامی اور میں نے لاہور سے اسلام آباد کا سفر شروع کیا تھا۔
دس منٹ بعد بعد جواب آیا، آپ نے چینیوں کی تعریف نہیں سنی کہ وہ میری تقریر پر کیسے خوش تھے ؟
جامی سے پوچھا ، کہ اپنا سر گاڑی کی دیوار پر ماروں یا موٹر وے پر ؟
پھر پیغام بھیجا کہ میڈم وہ میزبان تھے انہوں نے تعریف ہی کرنی تھی، اس کو سنجیدگی سے مت لیں، قائد اعظم بھی مقدمہ لڑنے س�� پہلے تیاری کرتے تھے۔ ہوم ورک میں کوئی خرابی نہیں۔
جواب آیا ایک گھنٹے بعد کہ اچھا ، سیکھ لوں گی۔
طنز اور صرف طنز۔
میڈم کا مسلہ یہ ہے کہ وہ غلطی بھی کریں تو بھی تعریف لازم ہے۔ جو بھی مجھ ایسی گستاخی کرے گا وہ حاسد ہے، یا جلتا ہے۔
اب جان لیں میڈم کے آس پاس رہنے والوں کا ہنر کیا ہے ؟
مریم اورنگزیب کا حوصلہ ہے کس طرح وہ اس حماقت کو اپنا باس بنا کر خاموش رہتی ہے لیکن اسی کو سیاست کہتے ہیں۔
@BalochNadir5 ڈاکٹر نے بستر تو نہی لگانے ہسپتال میں۔ لواحقین کا دکھ تکلیف اپنی جگہ لیکن ڈاکٹر ان کی گالیاں کھانے کے لیے تو ساری نوعمری کتابوں میں گھسے رہتے۔