I can’t even imagine that I have to write this.
My brother from another mother, my friend, my mentor, my adviser, has been martyred and is no longer with us.
آنا للہ وانا الیہ راجعون
@m_tahirqasim you left us so early
ہماری بیٹی زینب اور بیٹی آیت نور کے دو مختلف کیس
اور ان کا موازنہ
زینب 5 جنوری 2018 کو لاپتہ ہوئی اور اس کی لاش 9 جنوری کو ملی۔
پولیس نے ملزم عمران علی کو 22 جنوری کی رات گرفتار کیا۔ یعنی لاش ملنے کے تقریباً 13 دن بعد اور گمشدگی کے تقریباً 17 دن بعد۔
وزیراعلیٰ شہباز شریف نے 23 جنوری کو گرفتاری کا باضابطہ اعلان کیا اور کہا کہ یہ تقریباً 14 روز کی کوشش کے بعد ممکن ہوئی۔
DNA کے حوالے سے 1,150 افراد کے نمونے پروفائل کیے گئے۔ عمران علی ان میں 814واں شخص تھا جس کا نمونہ ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا۔
مختلف مراحل میں تعداد مختلف رپورٹ ہوئی: کیس کے دوران پہلے 600، پھر 800 کے قریب نمونوں کی خبریں آئیں، جبکہ گرفتاری کے وقت مکمل تعداد 1,150 DNA profiles بتائی گئی۔
وزیراعلیٰ فوراً قصور پہنچے تھے؟
جی، وہ زینب کی لاش ملنے کے اگلے روز، 10 جنوری کو قصور میں اس کے گھر پہنچے، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور تحقیقات کی نگرانی کا وعدہ کیا۔
بعد میں شہباز شریف نے بتایا کہ DNA میچ سامنے آنے کے بعد انہوں نے اگلی صبح لیبارٹری جا کر دوبارہ DNA ٹیسٹ اپنی موجودگی میں کروایا، جسے 100 فیصد میچ قرار دیا گیا۔
مختصراً: زینب کیس میں پولیس کو تقریباً دو ہفتے لگے، 1,150 افراد کے DNA profiles بنائے گئے، اور وزیراعلیٰ اگلے ہی دن قصور پہنچ گئے تھے۔
17 اکتوبر 2018 کو زینب کے والد کے سامنے اس کے مجرم کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئ
جبکہ
آیت نور ۴.۵ سال کی ہری ہور کی بیٹی
کوئ وارث نھیں
وزیراعلیٰ مصروف
صوبائ حکومت مصروف
صوبائ کابینہ مصروف
حلقہ کے ضلع میں موجود دو وزیر اور ایک ممبر صوبائ اسمبلی مصروف
کسی نے جنازہ تک میں شرکت کرنا گوارہ نھیں کیا.
@ShafiJanPTI@meherbokhari@DunyaNews@adiltanoli99@PTIofficial@pmln_org@CMShehbaz
A horrible incident AGAIN in the capital of the country. 20 innocent infants reportedly died in a nursery fire, and cherry on top, they’re not even providing the dead bodies to the families. How ridiculous is this? Where are those newborn flowers we’re supposed to protect?
#pims
Indeed, a black day. #AyatNoor was brutally murdered and thrown into a well in haripur. May Allah grant her family patience and strength.
Police must ensure a flawless investigation and legal process, leaving no loophole that could benefit these monsters. Justice must be served
جناب اقرار الحسن! سب سے اہم پہلو آپ کی نظر سے اوجھل رہا یا پھر آپ نے جان بوجھ کر فکری بدیانتی کی، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال، چونکہ آپ نے تقابلی جائزہ لیا ہے، تو آئیے اسے مکمل دیانتداری کے ساتھ دیکھتے ہیں:
کیپیٹل ہل حملے میں ملوث افراد کو سزائیں کسی فوجی عدالت نے نہیں بلکہ امریکہ کی فیڈرل سویلین کریمنل کورٹ، یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ضلعی عدالت برائے ضلع کولمبیا نے سنائیں۔ جہاں مکمل طور پر شفاف ٹرائل ہوا، وکلاء موجود تھے، جرح ہوئی، شواہد پیش کیے گئے اور تحریری فیصلے جاری ہوئے۔ یہاں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے آج بھی تحریری فیصلوں کے منتظر اور رجیم کے چنتخب ججز کے آئینی بینچ کے فیصلے کے مطابق آزادانہ اپیل کے حق کے لیے قانون سازی کا انتظار کر رہے ہیں۔
کیپیٹل ہل حملے میں ملوث ملزمان کو سزا کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا مکمل حق ملا اور ان اپیلوں کی باقاعدہ سماعت بھی ہوئی۔ یہاں دو برس سے زائد عرصے کے بعد بھی اپیلیں لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کی منتظر ہیں۔
کیپیٹل ہل حملے میں پورے عمل کے دوران نہ امریکہ کا قانونی ڈھانچہ بدلا، نہ کوئی آئینی ترامیم کی گئیں اور نہ ہی ججز کو دباؤ میں لانے کے لیے ان کے گھروں پر کریکر حملے کیے گئے۔
کیپیٹل ہل حملے کے ملزمان کو یہ رعایت نہیں دی گئی کہ وہ پریس کانفرنس کر کے کسی سیاسی شخصیت کے خلاف بیان دے اور اس کے بدلے میں اسے جرم سے آزادی مل جائے۔
کیپیٹل ہل حملے کے معاملے میں قانون پوری طرح متحرک ہوا، لیکن اسے سیاسی ہتھیار نہیں بنایا گیا۔ نہ سیاسی جماعت توڑی گئی نہ وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، نہ لوگوں کو جبری لاپتہ کیا گیا اور نہ ہی بعد میں انہیں میڈیا پروگرامز کے ذریعے “برآمد” کروایا گیا۔ 9 مئی کے واقعات میں سب سے بڑا المیہ یہی رہا کہ اسے خالص قانونی انداز میں نمٹانے کے بجائے فیصلہ سازوں نے سیاست زدہ کرکے وقتی فائدے کیلئے مستقل نقصان کو دعوت دی۔
اور آخر میں، سب سے اہم نکتہ، کیپیٹل ہل حملے کی باقاعدہ تحقیقاتی کارروائی امریکی کانگریس میں ہوئی، یعنی January 6 Committee Hearings جہاں گواہوں کو طلب کیا گیا، حلفیہ بیانات لیے گئے، حملے کی ویڈیوز اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا گیا، ذمہ داروں کا تعین کیا گیا اور پھر مفصل رپورٹ سفارشات کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کی گئی۔
اہم بات یہ کہ یہ تمام کارروائی براہِ راست ٹی وی پر نشر ہوئی اور عوام نے ہر مرحلہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
یہ صرف چند چیدہ چیدہ تضادات ہیں، ورنہ مکمل تقابل کیا جائے تو حقائق کی ایک طویل فہرست سامنے آ سکتی ہے۔ آپکی آدھی سچائی وقتی بیانیہ تو گھڑ لے شائد، مگر حقیقت کو زیادہ دیر چھپا نہیں سکتے۔
Another marriage ends in divorce, not because it couldn’t be saved, but due to ego and social media views. Private conflicts became public drama, fueled for attention. Sadly, an innocent woman and a newborn child are the real victims.
#rajabbutt
ظالمو !! کچھ خدا کا خوف کرو۔ خدا کی قسم میں روزانہ ایسے خاندانوں سے مل رہا ہوں جن کے پاس کبھی سحری میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا اور کبھی افطاری مانگ کر کرنا پڑتی ہے۔۔۔ اور ملکۂ عالیہ کے گیارہ ارب کے جہاز کے لیے غیرملکی پائلٹس پر بیس کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔۔۔ مرنا یاد نہیں؟
@muqadasawann یہاں ہمارے بھائی صدیق جان کی لنڈے کی کوٹ سے مراد عمران خان صاحب تھے یعنی مقابلہ پی ٹی آئی اور عوام راج کے درمیان تھا۔ تیس سال پرانے سیاسی کلٹ کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ایک ورکر کی ٹائم لائن پر، دو مہینے پرانی تحریک اگر پانچ فیصد ووٹ لے رہی ہے تو نتیجہ بُرا نہیں ہے۔