میری ماں ہر مہینے کے آخری دنوں میں بیمار پڑ جاتی تھیں😓
اور مجھے پچیس سال کی عمر میں جا کر معلوم ہوا کہ وہ بیماری نہیں تھی۔ 🥹🥹
میں چودہ سال کا تھا۔
ہر مہینے ایک عجیب بات ہوتی۔
جیسے ہی مہینہ ختم ہونے لگتا، امّی کی طبیعت خراب ہو جاتی۔
کبھی سر درد۔
کبھی متلی۔
کبھی کہتیں:
"آج دل نہیں چاہ رہا، تم لوگ کھانا کھا لو۔"
ہم سمجھتے واقعی طبیعت خراب ہے۔
ابو فکر کرتے۔
چائے بنا دیتے۔
ہم بچے کھانا کھا لیتے۔
اور امّی خاموشی سے چارپائی پر لیٹ جاتیں۔
دو تین دن بعد تنخواہ آتی، راشن آتا، اور امّی کی طبیعت بھی اچانک ٹھیک ہو جاتی۔
یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا۔
مگر بچپن سوال نہیں کرتا۔
وہ صرف مان لیتا ہے۔
وقت گزرا۔
میں بڑا ہو گیا۔
نوکری لگ گئی۔
اور ایک دن گھر کے پرانے صندوق میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے ایک چھوٹی سی ڈائری مل گئی۔
عام سی ڈائری۔
پیلا پڑا ہوا کاغذ۔
مدھم سیاہی۔
میں نے یونہی کھول لی۔
پہلے صفحے پر لکھا تھا:
"آج گھر میں صرف پانچ لوگوں کے کھانے جتنا آٹا ہے۔
ہم چھ ہیں۔
میں نے بچوں سے کہہ دیا ہے طبیعت خراب ہے۔"
میں چند لمحے ساکت بیٹھا رہا۔
پھر دوسرا صفحہ کھولا۔
"چاول کم ہیں۔
بچوں کو کھلا دیے ہیں۔
شکر ہے بیماری کا بہانہ ابھی بھی چل جاتا ہے۔"
پھر اگلا صفحہ۔
پھر اگلا۔
پھر اگلا۔
پورے تین سال...
ہر مہینے کے آخری دنوں میں...
میری ماں بیمار نہیں ہوتی تھیں۔
وہ صرف اپنا حصہ چھوڑ دیتی تھیں۔
اور ہم اتنے مطمئن تھے کہ واقعی اُن کی بیماری پر یقین کرتے رہے۔
میں کافی دیر اُس ڈائری کو ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔
بعض سچائیاں انسان کو ایک لمحے میں کئی سال بڑا ��ر دیتی ہیں۔
اُسی شام میں امّی کے پاس گیا۔
وہ جائے نماز پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
میں اُن کے سامنے خاموش بیٹھ گیا۔
پھر آہستہ سے پوچھا:
"امّی... آپ کو مہینے کے آخر میں ہمیشہ بیماری کیوں ہو جاتی تھی؟"
اُن کے ہاتھ رک گئے۔
تسبیح کے دانے خاموش ہو گئے۔
اُنہوں نے میری طرف دیکھا۔
پھر نظریں جھکا لیں۔
اور دھیرے سے پوچھا:
"تمہیں ڈائری مل گئی؟"
بس اتنا ہی۔
کوئی وضاحت نہیں۔
کوئی صفائی نہیں۔
کیونکہ بعض قربانیوں کو الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
میں اُن کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔
اور پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ ہم جن عورتوں کو ساری زندگی عام سمجھتے رہتے ہیں...
وہ اکثر اپنی بھوک، اپنی خواہشیں، اپنے حصے کی خوشیاں خاموشی سے دفن کر کے گھر آباد رکھتی ہیں۔
ہم سمجھتے رہے کہ امّی بیمار ہیں۔
اور امّی شکر کرتی رہیں کہ بچے بھوکے نہیں سوئے۔
بعض مائیں کھانا نہیں چھوڑتیں...
وہ اپنی بھوک چھپا لیتی ہیں۔۔۔😔
اللہ سب ماؤں کو لمبی زندگی دے اور جنکو نہیں ہے ان کو جنت الفردوس دے آمین ثم آمین ❤️🩹
*بشیرے کافی پلا دے!*
بشیرا بیس منٹ بعد کافی کا مگ سیڑھیاں چڑھ کر لاتا ہے, تو چوہدری صاحب پوچھتے ہیں
*"بشیرے! سات برس ہو گئے, تم روز سیڑھیاں چڑھ کر کافی لاتے ہو, حالانکہ تم لنگڑے بھی ہو مگر کافی کبھی چَھلکی نہیں؟"*
بشیر جھینپ کر کہتا ہے *"سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں ایک بڑا سارا گھونٹ بھر لیتا ہوں"*.
چودہدری صاحب ناراض ہو کر کہتے ہیں *"بشیرے! تم کرپشن کرتے ہو؟"*
بشیرا گبھرا کر *"نہیں, چوہدری صاحب! سیڑھیاں چڑھنے کے بعد میں وہ گھونٹ واپس مگ میں ڈال دیتا ہوں"*.
اسے ریلیف کہتے ہیں۔
" پٹرول سستا "
ایک پریگنیٹ عورت اپنے شوہر سے پوچھتی ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں، بیٹا یا بیٹی؟؟؟
شوہر جواب دیتا ہے: اگر بیٹا ہوا تو میں اُسے ریاضی سکھاؤں گا اس کے ساتھ ورزش کروں گا اسے شکار کرنا سکھاؤں گا اور بہت کچھ...!!!!!
عورت ہنستے ہوئے پوچھتی ہے: اور اگر بیٹی ہوئی تو؟؟؟
شوہر مسکراتے ہوئے کہتا ہے: اگر بیٹی ہوئی تو مجھے اُسے کچھ ب��ی سکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی وہ مجھے سب کچھ سکھائے گی کہ کیسے لباس پہننا ہے کیسے کھانا ہے کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا بہت جلد وہ میری دوسری ماں کی طرح بن جائے گی اور بغیر کچھ خاص کیے بھی وہ ہمیشہ مجھے اپنا ہیرو سمجھے گی...!!!!!
جب میں اُسے ”نہیں“ کہوں گا وہ سمجھ جائے گی اور وہ ہمیشہ اپنے مستقبل کے شوہر کا موازنہ مجھ سے کرے گی چاہے جتنی بڑی ہو جائے وہ ہمیشہ چاہے گی کہ میں اسے اپنی چھوٹی ��ہزادی کی طرح ہی پیار کروں وہ دنیا سے میرے لیے لڑے گی اور اگر کسی نے مجھے تکلیف دی تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی...!!!!!
عورت کچھ حیران ہو کر پوچھتی ہے: کیا تمہارا مطلب ہے کہ تمہاری بیٹی یہ سب کچھ کرے گی لیکن بیٹا نہیں؟؟؟
شوہر کہتا ہے: نہیں نہیں! میرا بیٹا بھی یہ سب کر سکتا ہے لیکن اسے وقت کے ساتھ یہ سب سیکھنا ہو گا دوسری طرف بیٹیاں ان خوبیوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں بیٹی کا باپ ہونا ہر مرد کے لیے حقیقی فخر کی بات ہے...!!!!!
پھر عورت کہتی ہے: لیکن وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہے گی...!!!!!
شوہر نرمی سے جواب دیتا ہے: ہاں! لیکن ہم ہمیشہ اُس کے دل میں رہیں گے جہاں بھی وہ جائے...!!!!!
بیٹیاں وا��عی فرشتے ہوتی ہیں وہ غیر مشروط محبّت اور خیال کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، ہمیشہ کے لیے...!!!!!
یہ تحریر اُن تمام خوش نصیب والدین کے لیے ہے جنہیں بیٹیاں عطا ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ سب بہنوں بیٹیوں کا نصیب بہت اچھا کرے اور ان کو اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ان کی طرف سے والدین کی آنکھیں ہمیشہ ٹھنڈی رہیں اور ان کو محبت عزت اور قدر کرنے والا ��ریک حیات نصیب کرے اور ان کی زندگی کبھی دکھ تکلیف پریشانی آزمائش نہ آئے اور ان کی زندگی ہمیشہ خوشیوں سے بھری رہے آمین یا رب العٰلّمِین
"کسی بھوکی اور مجبور عورت سے اس کی بھوک یا مجبوری کے بدلے جسم نہ خریدنا "
وہ لاہور کے علاقے شالیمار میں نان چنے اور سری پائے کی دوکان چلاتا تھا میں نے کئی بار اس کی دوکان سے ناشتہ خریدا تھا مگر اکثر میں دیکھتا جب بھی کوئی بہترین بوٹی یا زیادہ گودے والی ہڈی آتی تو وہ بوٹی کو الگ برتن میں رکھ دیتا اور ہڈی سے گودا نکال کر ہڈی پھینک دیتا مجھے اس کی اس بے ایمانی پر حیرت کم ہوتی مگر غصہ زیادہ آتا تب میں زیر تعلیم تھا کالج میں میرا پہلا سال تھا بچوں جیسی جھجک اور خوف میرے اندر تھا میں چاہ کر بھی سری پائے بیچنے والے سے یہ نہیں پوچھ پایا تھا کہ وہ ایسی بے ایمانی کیوں کرتا ہے ۔۔۔۔
خیر میں دل اور دماغ میں آنے والے سوالات احساسات جذبات کو کبھی زبان تک نہ لا سکا چاہ کر بھی اس دوکان دار کو باتیں نہ سنا سکا اپنی ��علیم مکمل کی اور لاہور کو خیر آباد کہہ دیا
آج ٹھیک تقریباً سات سال بعد میں دوبارہ اسی دوکان پر اپنے دوست کے ہمراہ ناشتہ کرنے گیا میں موٹر سائیکل سے اترا ہی تھا کہ ایک نئے ماڈل کی گاڑی نے آ کر میرے سامنے بریک لگائی اور اندر سے اسی دوکان کا مالک نکلا میں نے اس دوکان دار کو پہلی نظر میں پہچان لیا اور تھوڑی دیر مجھے غور سے دیکھنے کے بعد وہ دوکاندار بھی مجھے پہچان گیا وہ مجھے انتہائی عاجزی اور خوش اسلوبی سے ملا بہت عزت کے ساتھ بٹھایا میرے لئیے بہترین سا ناشتا آرڈر کیا اور ایک بہت ہی بہترین پائے کا پیالہ اٹھا کر دوکان میں لگے پردے کے پیچھے چلا گیا میری دانست میں مجھے جواب ��ل گیا کہ یہ شخص اپنے لئیے بہترین بوٹی اور گودا الگ کرتا تھا مگر پھر بھی میں دوکان کے مالک سے یہ سوال کرنے کی ٹھان چکا تھا لہذا تھوڑی دیر بعد جب وہ فارغ ہو کر باہر آیا تو ہاتھ دھو کر میری ٹیبل پر آ بیٹھا ۔۔۔۔
میں بھی ناشتہ کر کے فارغ ہو چکا تھا اور اس کے انتظار میں بیٹھا تھا اس ��ے آتے ہی ایک بار پھر میرا حال احوال دریافت کیا مجھ سے قریبی عزیزوں کی طرح میری فیملی کے متعلق پوچھا میں نے بھی سب باتوں کا سرسری سا جواب دیا اور آخر میں اپنے ذہن میں موجود سوال کو اس دوکان دار کے سامنے رکھ دیا اور بتایا کہ یہ سراسر بے ایمانی ہے آپ بہترین چیز اپنے لئیے الگ کر کے رکھ لیتے ہیں اس حرام کی کمائی سے آپ نے گاڑی بھی خرید لی ہے میری بات سن کر وہ مسکرایا اور پھر مجھے کہا تم اب بھی بچے ہو اس کے بعد اس نے مجھے جو کہانی سنائی اس کے اختتام پر ہم دونوں رو رہے تھے ۔۔۔
ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ میرا نام فہیم ہے میں ساہواڑی سٹاپ پر رہتا ہوں میں جو بہترین بوٹیاں اور ہڈیوں کا گودا الگ کرتا تھا وہ ایک عورت جو راہ خدا میں مجھ سے مانگنے آتی تھی اسے دے دیتا تھا آج وہ عورت بوڑھی ہو چکی ہے چلنے پھرنے سے عاجز ہے جس پردے کے پیچھے میں کھانا لے کر گیا تھا وہ وہیں بیٹھی ہوئی تھی میں نے اس کے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا اس کا منہ صاف کیا اور اپنے ہاتھ صاف کر کے باہر آ گیا میں اس عورت کو نہیں جانتا حقیقت یہ ہے کہ مجھے یہ ��ھی نہیں پتہ یہ مسلمان ہے یا نہیں مگر یہ مجھ سے مانگتی اللہ کے نام پر تھی اسے نماز روزہ یا کلمے کا کچھ پتہ نہیں تھا مگر چونکہ وہ میرے خالق کے نام پر مانگتی تھی اور مجھے پتہ تھا کہ میرے مالک نے ہی اسے میرے در پر بھیجا ہے اس لئیے میں سب سے بہترین بوٹی اور گودہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی اس عورت کے لئے رکھ لیتا تھا ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کے نام پر مانگنے آنے والے کسی شخص کو آج تک میں نے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا کیوں کہ میں بچپن میں یتیم ہو گیا تھا میری ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی بعض دفعہ جب کام نہیں ملتا تھا تو فاقے کرنے پڑتے تھے ان فاقوں کو میری ماں تو برداشت کر لیتی تھی مگر میں نہیں جھیل پاتا میری ماں مجھے لے کر مانگنے نکلتی تھی میری ماں اللہ کے نام پر لوگوں سے فقط میرے لئیے ایک روٹی کا سوال کرتی تھی تو بھی بہت سارے لوگ میری ماں کو دھتکار دیتے تھے میں نے اپنے کانوں سے سنا تھا لوگ میری ماں سے کہتے تھے کہ "رات میرے ساتھ گزارو تو صبح تم دونوں ماں بیٹے کو جہاں سے کہو گی کھانا کھلا دوں گا" میری ماں چپ چاپ آنسو بہاتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ کر آگے چل دیتی تھی اور گاڑی میں بیٹھے صاحب لوگ پیچھے سے قہقے لگا رہے ہوتے تھے میں نے ماں کے جیتے جی نان چنے اور سری پائے کی ریڑھی لگا لی تھی اللہ تعالیٰ نے الحمدللہ مجھے رزق دینا بھی شروع کر دیا مگر تب تک بھوک سہہ سہہ کر میری بہت ساری بیماریوں کا شکار ہو چکی تھی میرا کاروبار چمکنے سے پہلے میری ماں مر گئی مگر مرتے وقت میری ماں نے مجھے ایک بات کہی تھی
🌹" کسی بھوکی اور مجبور عورت سے اس کی بھوک یا مجبوری کے بدلے جسم نہ خریدنا 🌹
منقول
May Allah Almighty bless the Prophet Muhammad (peace be upon him) and not just for one day. He is a personality of every day. It is not appropriate to limit him to just the 12th of Rabi-ul-Awwal.