مولانا فضل الرحمن نے 90 کی دہائی میں شہباز خیل کے ایک کچے مکان سے دوست کی کرولا گاڑی میں بیٹھ کر خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ کرنے کے لئے اسلام آباد کی طرف سفر کرتے کرتے ہرحکومت سے اپنے حصہ وصول کرتے کرتے بھائی بیٹے اور سمدھی کو وزارت دلانے کے ساتھ ساتھ 15 کروڑ کی بلٹ پروف گاڑی اپنے لیے اور دیگر کروڑوں کی لگژری گاڑیوں کے ساتھ اٹک لکی مروت ڈیرہ ٹیکسیلا میانیوالی لاہور میں ہزاروں ایکٹر 81 ارب زمینیں اسلام آباد لاہور ڈیرہ میں عالی شان کوٹھیاں محلات مارکیٹیں پلازے بنا چکے ہیں۔۔
نہ کوئی کاروبار نہ خاندانی رئیس نہ کوئی ذریعہ آمدن ہے۔
لیکن اسلام کو بطور ہتھیار استعمال کر کے اپنے مفاد اور اپنی وزارت کے حصول کے لئے اپنے اہل و عیال کے ساتھ ابھی بہت کچھ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔😓😡
مولانا فضل الرحمن نے 90 کی دہائی میں شہباز خیل کے ایک کچے مکان سے دوست کی ایف ایکس گاڑی میں بیٹھ کر خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ کرنے کے لئے اسلام آباد کی طرف سفر کرتے کرتے ہرحکومت سے اپنے حصہ وصول کرتے کرتے بھائی بیٹے اور سمدھی کو وزارت دلانے کے ساتھ ساتھ 15 کروڑ کی بلٹ پروف گاڑی اپنے لیے اور دیگر 86 کروڑ لگژری گاڑیوں کے ساتھ اٹک لکی مروت ڈیرہ ٹیکسیلا میانیوالی لاہور میں ہزاروں ایکٹر 81 ارب زمینیں اسلام آباد لاہور ڈیرہ میں عالی شان کوٹھیاں محلات مارکیٹیں پلازے بنا چکے ہیں۔۔
کوٹ ادو میں بھائی نے غیرت کے نام پر بہن کو قتل کر دیا، ایف آئی آر کے مطابق والدہ اور خالہ کے اکسانے پر بھائی نے بہن کو زہر پلایا اور کپڑے سے گلا دبا دیا جس سے فوری طور پر اس کی موت واقع ہو گئی۔
میرا خیال ہے اب مہم چلانی چاہئیے کہ لڑکیاں شادی نہ کریں تعلیم حاصل کریں یا کچھ ہنر سیکھ کر تھوڑا بہت کمائیں اپنے پیروں پہ کھڑی ہوں اور وحشی ہوئے پاکستانی مردوں سے بچیں .
جب تک آپ جیسی ذہنیت کے لوگ ہونگے تب تک یہی سب ہوتا رہے گا اتنی لمبی تقریر سے پہلے معلوم تو کر لیتے ہوا کیا تھا . کیا کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی حادثہ ہو اور کسی نا کسی طرح آپ جیسے لوگ لڑکی کو الزام نہ دیں . آپ نکال لیجیے ان پانچ سال کی بچیوں کا قصور بھی جن کو ریپ کیا جاتا ہے .
مری ایکسپریس وے پر خوفناک حادثہ 💔
ایک ہی خاندان کے 14 افراد حادثے میں جان بحق ہو گئے جبکہ 13 زخمی ہوئے۔ پورا خاندان سیر کے لیے جا رہا تھا کہ تیز رفتاری سے کوسٹر کنٹرول سے باہر ہو گیا۔ اچانک آگ لگ گئی اور کوسٹر کا ایگزٹ پہاڑ کی طرف تھا، جس سے جانیں ضائع ہوئیں۔
ہائے پاکستانیوں💔
ایک تو 12 سال والی بات غلط ہے۔ ریکارڈ چیک کر لیں
دوسرے انکی جیل میں کیا کیا ہوتا تھا وہ بھی دیکھ لیں۔ حلال کام دیکھیں تو آصفہ بھی ایام جیل کی پیدائش ہیں۔
خونیوں کا کمال یہ ہے کہ
چند دن میں مقبوضہ کشمیر میں 78 سالہ جبر اور آزاد کشمیر برابر کر دیئے
مگر یہ کشمیریوں کی وفا ہے کہ انہوں نے پاکستان سے علیحدگی کا کوئی نعرہ نہیں لگایا
اگر
مجرم جلد ٹانگے نہ گئے تو وہ تو پاکستان کو ٹکڑے کرنے کے سفر میں اندھا دھند بھاگ رہے ہیں
راولاکوٹ دھرنے کی قریبی مسجد میں نماز فجر کیلئے جانے والا سبحان عارف فائرنگ سے جاں بحق۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق فائرنگ رینجرز نے کی۔
ہم یقین نہ کرتے اگر اسلام آباد میں نماز پڑھتے جوان کو کنٹینر سے دھکے مار کر گرانے کامنظر نہ دیکھا ہوتا
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی ہے نا ؟
میٹرک کی اردو کی کتاب میں ایک مضمون تھا " یاغستان سے فرار " ۔ یہ محمد اکرم صدیقی کی کتاب " قید یاغستان " کا معروف ترین حصہ تھا
یاد یوں آیا کہ آج ہر پاکستانی خود کو یاغستان کا قیدی سمجھتا ہے اور کسی نہ کسی طرح یہاں سے بچ نکلنا چاہتا ہے
کیا کشمیر میں تحریک بغاوت کی ہے ؟
کیا انہوں نے فوج پر حملے کئے ؟
جب یہ سب نہیں ہے تو دو سوال ہیں
ان پر گولی کیوں چلائی؟
اور
پی ٹی آئی جو خود پوچھتی رہی ہے کہ گولی کیوں چلائی ۔ کشمیریوں کے ساتھ اعلانیہ کیوں کھڑی نہیں ہے؟
گھر والوں سے پیسے لا کر دو نہیں تو ۔۔۔۔ تشدد سہتی، طعنے سنتی ثوبیا دنیا سے رخصت ہوگئی!
لاہور کے علاقے کاہنہ سے تعلق رکھنے والی ثوبیہ کی شادی معین نامی نوجوان سے ہوئی، دونوں کو اللہ نے 2بچوں سے بھی نوازا ، شروع میں تو سب ٹھیک رہا مگر اچانک حالات بدلنے لگے، اور معین ،ثوبیہ پر روزانہ کی بنیاد پر تشدد کرنے لگا!معین ثوبیہ سے مطالبہ کرتا کہ جاؤ اپنے گھر والوں سے پیسے لا کر دو، کئی مرتبہ ثوبیہ کے گھر والوں نے معین کی مالی امداد بھی کی اور اسے رقم بھی دی مگر دن بدن معین کے مطالبات بڑھتے جا رہے تھے!پھر ایک دن ثوبیہ کے گھر والوں کو کال کی گئی کہ آ پکی بیٹی نے پنکھے سے لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے!جب ثوبیہ کے گھر والے موقع پر پہنچے ، اپنی بہن کی (ل/ا/ش) دیکھی تو وہ تش دد زدہ پائی، پوچھ گیچھ شروع کی تو معین واقع سے فرار ہوگیا ، 15 پر کال کی گئی پولیس نے (ل/ا/ش) قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا تو پتہ چلا کہ معین نے ثوبیہ کی جان لینے کے لیے خطرناک ترین طریقہ استعمال کیا!معین ثوبیہ کے جسم کے مختلف حصوں پر کرنٹ لگاتا رہا اور ثوبیہ جب جان کی بازی ہار گئی تو سارا ڈرامہ رچایا!معین ابھی تک فرار ہے اور پولیس اس کو تلاش کرنے میں مصروف!
اللہ پاک سب بیٹیوں کے بخت بلند فرمائے اور سب کو اپنی امان میں رکھے! آمین