برطانوی وزیراعظم نے امریکا کو ایران کیخلاف حملوں کیلئے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیدی
آہستہ آہستہ سب راضی ہوں گئے
لیکن پاکستان کہاں کھڑا ہو گا شاید ہمارے تھینکس ٹھینکس کو پتہ ھی نہیں چل رھا ؟
جمعہ ڈیزل 30 روپے ، پیر ڈیزل 7 روپے اور منگل ڈیزل 7 روپے ۔ 4 دن میں ڈیزل 44 روپے مہنگا ہوگیا ۔
آپ کو محسوس بھی نہیں ہوا اسے کہتے ہیں ویژن ۔۔۔۔
#AfaqWrites
کیا کمال کا لکھا ہے ۔ لگتا ہے صرف جسمانی نہیں ذہنی تربیت میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
گجرات کے بچوں اور بچیوں کے مارشل آرٹس کلب کا یہ پوسٹر دل کو چھو گیا ❤️
سورة المائدة - 37
یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنۡہَا ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ
یہ چاہیں گے کہ دوزخ میں سے نکل جائیں لیکن یہ ہرگز اس میں سے نہ نکل سکیں گے ، ان کے لئے تو دوامی عذاب ہیں
پی ایس او کا منافع 15 ارب سے بڑھ کر 38 ارب روپے ہو گیا ہے PRL کا منافع 2.5 ارب سے بڑھ کر 10 ارب روپے ہو گیا ہے اٹک پیٹرولیم کا منافع 7.5 ارب روپے سے بڑھ کر 15 ارب روپے ہو گیا ہے ! ثناءاللہ خان ۔۔
#رہے_نام_اللہ_کا
9 دسمبر 1979 کو تربت (بلوچستان) میں سلطنتِ عمان کی فوج کے لئے مقامی نوجوانوں کو بطورِ کرائے کے فوجی بھرتی کرنے کا ایک کیمپ لگا ہوا تھا، جس کی سربراہی عمانی افسر کرنل خلفان ناصر کر رہے تھے۔ بلوچ قوم پرست تنظیمیں (بشمول BSO) اس بھرتی کے خلاف تھیں۔ بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکن عبدالحمید بلوچ نے اس کیمپ پر فائرنگ کی اور گرفتار ہوئے۔
یہ مقدمہ سویلین عدالت کے بجائے 'خصوصی فوجی عدالت' میں چلایا گیا۔ پہلی فردِ جرم میں ان پر عمانی افسر پر قاتلانہ حملے اور اسے زخمی کرنے کا الزام تھا۔ تاہم، جب یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ عمانی افسر بالکل محفوظ اور زندہ سلامت عمان واپس جا چکا ہے اور جائے وقوعہ پر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، تو پراسیکیوشن نے چارج شیٹ تبدیل کر دی۔ کیس کو دفعہ 302 (قتل) میں بدل کر سزائے موت کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک نامعلوم مقامی اہلکار کا نام بطور "مقتول" شامل کیا گیا، مگر تحقیقات میں وہ شخص بھی زندہ نکلا۔
حمید بلوچ کے وکیل ایڈووکیٹ مبشر کیسرانی نے عدالت میں چیلنج کیا کہ جس مقدمے میں کوئی لاش یا مقتول موجود ہی نہیں، اس میں سزائے موت کس قانون کے تحت دی جا رہی ہے۔ اس مضحکہ خیز صورتحال کے خلاف جب بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، تو ہائی کورٹ نے ٹرائل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حمید بلوچ کی پھانسی پر سٹے آرڈر جاری کر دیا۔
جب سویلین ہائی کورٹ سے سزا معطل ہونے کا قانونی راستہ نکل آیا، تو جنرل ضیاء الحق نے مارچ 1981 میں عبوری آئینی حکم (Provisional Constitutional Order - PCO) نافذ کر دیا۔ اس PCO کے تحت اعلیٰ سویلین عدالتوں (ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ) سے فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی کرنے یا سٹے آرڈر دینے کا اختیار ہی چھین لیا گیا۔ نتیجے کے طور پر ہائی کورٹ کا سٹے آرڈر بے اثر ہو گیا اور تمام تر قانونی خلا کے باوجود 11 جون 1981 کو کوئٹہ جیل میں حمید بلوچ کو پھانسی دے دی گئی۔
اصل وجہ یہ تھی کہ عمان کو کرائے کے فوجی دینے کا معاہدہ متاثر ہو رہا تھا اس لئے عمان کو خوش کرنے کیلئے اپنے ہی ایک پاکستان کو مثال بنانے کیلئے تمام قانون و ضابطوں کو کچل کر سزائے موت دے دی گئی
پاکستان کی تاریخ کچھ ایسی ہی ھے 🤕
جنرل ایوب نے الزام لگایا کہ جب سہروردی وزیر اعظم تھے، انھوں نے اپنے اختیارات کے غلط استعمال میں ایک شخص سیٹھ نور علی کو چاولوں کا پرمٹ دیا تھا۔ فوجی عدالت میں سہروردی نے اپنا کیس خود لڑا سہروردی نے ریکارڈ سے ثابت کر دیا کہ پرمٹ کے اجرا کے لیے وزارت تجارت کے سیکریٹری نے ان سے منظوری لی ہی نہیں، بلکہ خود ہی پرمٹ جاری کر دیا، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خاں کے کہنے پر۔
مگر فوجی عدالت نے سہروردی کو سات سالہ نااہلی کی سزا تو پھر بھی سنا دی پریس کو عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے سے بزور بندوق روک دیا گیا
66 سال گزر گئے کیا بدلا
https://t.co/QYRtj2WDI8
خان پر الزام تھا فوج کی حمایت سے آئے
ختم ہوا
پھر یہ کہ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں
عملاً ختم ہوا
اللہ خان کو تمام بھروسوں اور سہاروں سے آزاد کر کے صرف خود پر بھروسے کے ساتھ واپس لائے گا
اور یہ وہ خان ہو گا
جس کے بارے کسی کو کوئی اندازہ نہیں۔ ہو گا
جو چیز پوری پی ٹی آئی قیادت نہیں کر سکی
وہ علیمہ خان نے کر دکھایا ۔ لوگ دیوانہ وار اکٹھے ہو گئے۔
پی ٹی آئی قیادت یہ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔
وہ لارے دے دے کر لوگوں کے باہر نکلنے کا جذبہ کچلنے کے علاؤہ کچھ نہیں کر رہے تھے
اور اب
علیمہ خان کے خلاف پینڈنگ پڑے کیسز اور ایجنسیاں متحرک ہو جائیں گی
عمران خان غائب
کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ غائب
سعد رضوی اور انس رضوی غائب
یہ سب لوگ غائب کئے گئے ہیں
مگر کسی عدالت ' کسی انسانی حقوق کی تنظیم ' کسی عالمی ضمیر ٹائپ کی چیز کے جائے نشستن پر کھجلی کی خواہش تک نہیں ہوئی ۔
اور لوگ ؟ چھڈ یار
🚨چیف جسٹس اطہر من اللہ صاحب کا اعتراف شرم
ہمارے سر شرم سے جھک جانے چاہئے مگر ہمارے اندر اگر شرم غیرت ہوتی ہم دنیا کے بے شرم ترین لوگ ہیں یقیناً یہ بات تو بلکل درست ہے کوئی شرم نہیں ہے بے شرموں ✌️💯❤️
*"کول پاور کا کالا دھندا" —
ن لیگ کے 40 سالہ تجربے کا شاہکار*🚨
*پروجیکٹ:* ساہیوال کول پاور پلانٹ — 1320 میگاواٹ
*بانی:* میاں صاحب کا "ویژن"
*نعرہ:* "روشنیاں بحال، جیبیں مالا مال"
*1. پلانٹ لگانے کا "ماسٹر اسٹروک"*
2015 میں سوچا: "بجلی چاہیے؟ چلو کوئلے سے بنا لیتے ہیں"
لیکن کوئلہ کہاں سے؟
تھر میں کوئلہ پڑا ہے؟ نہیں جی، وہ تو "سستا" ہے، کمیشن نہیں بنے گا۔
حل نکالا: انڈونیشیا اور ساؤتھ افریقہ سے کوئلہ منگواؤ۔
کراچی پورٹ سے ساہیوال تک 1000 کلومیٹر روزانہ ٹرین چلاؤ۔
روز 12,000 ٹن کوئلہ — یعنی 200 ٹرک روزانہ
عقل پوچھے: "بھائی زرعی زمین پر، نہر کے کنارے، کوئلے کا پلانٹ؟"
جواب ملا: "چپ کر، یہ ترقی ہے"
*لاگت:* 1.91 ارب ڈالر = 200 ارب روپے
*بونس:* 1700 ایکڑ زمین پنجاب حکومت نے "مفت" دے دی — قوم کی زمین، داماد جیسی
*ریلوے لائن:* یوسف والا سے پلانٹ تک علیحدہ بچھائی — کیونکہ "پسندیدہ ٹھیکیدار" کو بھی کھلانا تھا
*2. معاہدہ — "قوم کو بیچنے کا سرٹیفکیٹ"*
بجلی کا ریٹ طے کیا: 8.80 روپے فی یونٹ، 30 سال کے لیے
شرط: چلے نہ چلے، "کیپیسٹی چارج" دو
یعنی پلانٹ بند پڑا ہو تب بھی اربوں دو — IPPs کو "گھر بیٹھے تنخواہ"
*3. کوئلے کا کمال — "امپورٹ میں کمیشن، سپلائی میں کرپشن"*
2020: کوئلہ 60 ڈالر فی ٹن
2021: 114 ڈالر فی ٹن
2022: 253 ڈالر فی ٹن
جیسے ہی کوئلہ مہنگا ہوا، پلانٹ بند۔ کیونکہ "منافع" نہیں تھا۔
لیکن "کیپیسٹی چارج" جاری رہا۔
*اور سنیں:* مارچ 2024 میں پتا چلا
بازار میں کوئلہ 45,000 روپے ٹن
پلانٹ کو بیچا 74,000 روپے ٹن
18 مہینے میں 40-50 ارب کی "اوور چارجنگ"
کیوں؟ کیونکہ ٹھیکیدار "زیادہ پسندیدہ" تھے
نام نہ لو، بس سمجھ جاؤ — "تجربہ کار ٹیم" کا کمال
*4. ایک سال کا حساب — "قومی خزانے پر ڈاکہ"*
2023-24 میں ساہیوال پلانٹ:
چلا صرف 65 دن — یعنی 17.95%
بجلی بنائی: 2.08 ارب یونٹ
اصل خرچہ: 40.98 ارب = 19.75 روپے یونٹ
لیکن حکومت نے ادائیگی کی:
*کیپیسٹی چارج: 117.28 ارب = 56.52 روپے یونٹ*
*کل ادائیگی: 158.26 ارب = 76.27 روپے یونٹ*
یعنی بجلی بنانے پر 40 ارب لگے، بند رکھنے کے 117 ارب لے لیے
یہ ہے "کاروباری دماغ" — پلانٹ چلاؤ تو گھاٹا، بند رکھو تو منافع
*5. تینوں پلانٹس کا اجتماعی جنازہ*
ساہیوال + پورٹ قاسم + حبکو:
سالانہ خرچہ: 82 ارب
سالانہ ادائیگی: 464 ارب
*زائد پیمنٹ: 381 ارب — صرف ایک سال میں*
ایک رپورٹ کے مطابق کیپیسٹی پیمنٹ 700 ارب سالانہ
جبکہ تینوں پلانٹس کی کل لاگت تھی 605 ارب
مطلب 1 سال کی "رینٹ" میں پورا پلانٹ دو بار بن سکتا تھا
*6. انکوائری کا انجام — "نیب ترمیم زندہ باد"*
483 ارب کی کرپشن پکڑی گئی
175 ارب صرف ان 3 پلانٹس کی
جولائی 2023: نیب ترمیم آئی، فائل بند
کیونکہ "احتساب سب کا" — سوائے "تجربہ کاروں" کے
*7. نیا U-Turn — "تھر کوئلے کا لالی پاپ"*
2024 میں اچانک یاد آیا: "تھر میں تو کوئلہ ہے"
اب امپورٹڈ سے لوکل پر شفٹ کریں گے
واہ، 10 سال بعد عقل آئی
لیکن رکو — اس کے لیے چاہیے:
پلانٹ ترمیم: 1 ارب ڈالر = 300 ارب روپے
نئی ریلوے لائن 105 کلومیٹر: 58 ارب روپے
پیسہ کہاں سے؟ "ایک اور قرضہ لے لو"
یعنی پہلے امپورٹڈ کوئلے کے نام پر لوٹا
اب "لوکل شفٹنگ" کے نام پر پھر لوٹو
*نچوڑ — ن لیگ کا "ترقیاتی ماڈل":*
1. مہنگا پروجیکٹ لاؤ — کمیشن پکا
2. امپورٹ پر زور دو — ڈالر باہر، کمیشن اندر
3. کیپیسٹی چارج لگواؤ — چلے نہ چلے، اربوں پکے
4. کوئلہ مہنگا بیچو — پسندیدہ ٹھیکیدار خوش
5. انکوائری آئے — نیب ترمیم سے بند کروا دو
6. 10 سال بعد U-Turn لو — نئے ٹھیکے، نیا کمیشن
*قوم کو کیا ملا؟*
76 روپے یونٹ بجلی، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ
381 ارب سالانہ "ہوا میں" ادائیگی
اور TV پر نعرہ: "ہم نے موٹروے بنائی، ہم نے پلانٹ لگائے"
*سچ یہ ہے:*
پلانٹ نہیں لگائے، "ATM مشینیں" لگائی ہیں
جو 30 سال تک قوم کی جیب سے پیسے نکالتی رہیں گی
اور نام ہے "ترقی، تجربہ، کارکردگی"
#کول_پاور_کالا_دھندا #کیپیسٹی_چارج_کا_ڈاکہ
علیمہ خان نے شیخ وقاص اکرم سے کہا
اگر أپکو ڈر لگتا ہے تو وزیراعلی کی گاڑی میں بیٹھ کر اڈیالہ آجائیں آپکی مائیں بہنیں آپ کو گرفتاری سے بچا لیں گی
علیمہ خان نے چھتر مارا ہے مگر شیخ وقاص کی قبیل کے لوگ بیشرم اور ڈھیٹ ہوتے ہیں۔ اڈیالہ کیا آنا ہے وہ KP سے ہی نہیں نکلے گا
حیدر سعید کا جرم سب سے زیادہ مزے کا ہے
انہوں نے "چوروں کی طرح عمران خان کو ہسپتال لے جانے کی کوشش کرنے والوں" کی ویڈیو بنائی۔ جس میں چہرے بھی نہیں تھے
اس وقت جب قیادت سو رہی تھی یہ جوان آدھی رات کو پمز کے راستے میں پہرہ دے رہا تھا
اب اٹک جیل میں قید ہیں
#حقیقی_آزادی_کے_قیدی
یہ طے ہے کہ یہ جبر کا آخری موسم ہے کیونکہ انکی جھوٹی کہانیوں کو اب وہ چیلنج درپیش ہے جس سے ان کا واسطہ پہلے نہیں پڑا تھا
سوشل میڈیا شعور دبنے نہیں دے رہا۔ مقبوضہ میڈیا کسی کام کا نہیں رہا کیونکہ آزاد سوشل میڈیا انکی ہر فلم پہلے دن ہی تھیٹر سے اتروا دیتا ہے
ڈوبنا ان کا مقدر ہے ۔ ان کے جھوٹ کی لاشوں کا پتہ دلدل سے اٹھنے والے بلبلے دیتے ہیں دیتے رہیں گے
آج کل سوشل میڈیا پر یہ تصویر بہت گردش کر رہی ہے جس کے ساتھ طرح طرح کی جذباتی کہانیاں منسوب کی جا رہی ہیں کہیں اسے "غیرت" کا مسئلہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں اسے کسی اور رنگ میں پیش کر کے عوامی جذبات سے کھیلا جا رہا ہے
جبکہ اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس اور انتہائی سادہ ہے یہ خاتون ایک پولش سیاح (Polish tourist) ہیں جن کا نام مارزینا ہے ان کا قصور کوئی اخلاقی یا غیرت کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ صرف "ویزا کی میعاد ختم ہونا" (Overstay) تھا
واقعہ کس اس طرح تھا کہ لوئر دیر کی پولیس نے انہیں قانونی ضابطے کے تحت روکا کیونکہ ان کے پاس پاکستان میں قیام کی قانونی دستاویزات مکمل نہیں تھیں
تصویر کا سیاق و سباق سے کوئی تعلق نہیں پولیس اہلکار انہیں کسی تشدد کے لیے نہیں بلکہ قانونی کارروائی اور ان کی اپنی سیکیورٹی کے لیے بھیڑ سے نکال کر تھانے منتقل کر رہے تھے
اور انہیں باقاعدہ پروٹوکول کے ساتھ اسلام آباد پہنچایا گیا تاکہ وہ اپنے سفارتی معاملات حل کر سکیں
جانے کیوں ہمارے معاشرے میں ایک معمولی سے قانونی معاملے کو "غیرت" یا "عزت" کا نام دے کر کیوں اچھالا جاتا ہے؟
ہم کسی بھی تصویر کو دیکھ کر بغیر تحقیق اسے شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں جو کسی کی زندگی اور ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے
کچھ لوگ صرف لائیکس اور ویوز کے لیے جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں
اس طرح کے غلط پروپیگنڈے سے بین الاقوامی سطح پر ہمارے ملک کا امیج خراب ہوتا ہے اور سیاح یہاں آنے سے کتراتے ہیں
گزارش ہے کہ کسی بھی خبر یا تصویر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
ہر بات کو "غیرت" یا "جذباتیت" کی عینک سے دیکھنے کے بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں
#قلمکار
#قومی_زبان
👇
منقول
باپ نے جب پگڑی اپنے قدموں میں رکھ دی… تو بیٹی کی آنکھوں میں سب کچھ واضح ہو گیا یہ واپسی زندگی کی نہیں، موت کی دہلیز تھی 😓 وہ لڑکی جو گولیوں کی بوچھاڑ سے بچ کر، کانٹوں میں الجھ کر، اپنے جسم کو زخمی کر کے تھانے تک پہنچی تھی… صرف اس لیے کہ باپ کی عزت پر کوئی آنچ نہ آئے… وہی بیٹی پھر اسی عزت کے نام پر قربان کر دی گئی۔ چہرے پر ایک عجیب ٹھہراؤ تھا، جیسے سب کچھ جانتی ہو۔ اپنے زخمی بازو اور لہو سے تر ٹانگیں دکھا کر دھیمی آواز میں بولی: سانس تو سب کو عزیز ہوتی ہے نا… گولیاں چلیں تو بھاگ آئی… اب دارالامان میں ہوں" مگر عدالت میں ایک لمحہ ایسا آیا، جہاں انصاف بھی خاموش ہو گیا… اور رشتے بھی۔
باپ نے چالاکی سے پگڑی زمین پر رکھ دی—ایک ایسا بوجھ جو بیٹی کے دل پر پہاڑ بن کر گرا۔ وہ جو موت سے لڑ کر آئی تھی… ایک دم ٹوٹ گئی۔
آنکھیں بند کیں، اور باپ کے ساتھ چل پڑی۔ لبوں پر آخری سچ تھا: مجھے معلوم ہے وہ مجھے مار دیں گے… مگر میں اپنے باپ کی عزت بچانے جا رہی ہوں"اور پھر وہی ہوا جس کا خوف تھا… باپ نے دشمنوں سے ہاتھ ملا لیا۔
جو بیٹی گولیوں سے بچ نکلی تھی… وہ اپنے ہی باپ کے ہاتھوں مٹا دی گئی۔ وہ باپ کے دکھ کو کم کرنے نکلی تھی… اور خود ہمیشہ کے لیے درد بن گئی۔
مگر افسوس… باپ کو نہ احساس ہوا، نہ پچھتاوا 😭 آخر کب تک یہ جھوٹی "غیرت" بیٹیوں کے لہو سے اپنی پیاس بجھاتی رہے گی؟کب تک محبت کے رشتے، رسم و رواج کے نام پر قتل ہوتے رہیں گے؟ اب بھی اگر ہم خاموش رہے تو یہ خاموشی بھی ایک دن ہمارے دامن پر خون کے دھبے بن کر ابھرے گی۔ آواز اٹھاؤ کیونکہ اب خاموش رہنا صرف کمزوری نہیں، جرم ہے۔
Copied
Shakir Bukhari
پیٹرول کا 400 روپے تک پہنچنا کوئی اتفاق یا عالمی بحران نہیں، بلکہ یہ اس قوم کا منظم معاشی قتل ہے۔ ایک ہی کمپنی سے تیل خریدنے والے پڑوسی ممالک اگر اپنے عوام کو ریلیف دے سکتے ہیں، تو یہاں کے لٹیرے کیوں نہیں؟ جواب سادہ ہے: ان کی تجوریاں کیسے بھریں گی؟
تاریخ کے صفحات میں یہ ایک انوکھا باب رقم ہو رہا ہے جہاں ایک لیڈر کا خوف اتنا ہے کہ اسے عدالت لانے کے بجائے، پوری عدالت اٹھ کر جیل چلی جاتی ہے۔ یہ محض ایک ٹرائل نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ دیواروں کے پیچھے قید ہونے کے باوجود عمران خان کی عوامی مقبولیت کا کتنا خوف ہے