یہ ہے پشاور کی راحت بی بی جو نا تو بول سکتی ہے اور نا سن سکتی ہے اور گھر کو چلانے والا بھی کوئی نھی ہے یہی بیٹی اپنے گھر اور ماں کا سہارا بنی ہوئی ہے اور پشاور کے لاہور گیٹ میں لوبیا اور کچالو بیچتی ہے جس پر گزارا کرتی ہے۔
اللّٰہ ان کی مدد فرما آمین۔
سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ کافی سمجھدار آفیسر تھے۔ ان کا "کاکڑ فارمولا" معروف ہے۔
جنوری 1993 میں آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ (خدیجہ شاہ کے نانا)، جنہوں نے نواز شریف کی BMW انکے منہ پر ماری تھی، اچانک مشکوک حالات میں دل کے دورے سے فوت ہوگئے۔ اس کے بعد نوازشریف اپنے کسی من پسند کمزور کرپٹ جنرل کو آرمی چیف بنانا چاہتا تھا۔
لیکن صدر غلام اسحاق خان نے جنرل کاکڑ کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔ ظاہر ہے نواز شریف مطمئن نہیں تھا۔
صدر اسحاق نے اپریل میں نواز شریف کی حکومت کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دی، مگر سپریم کورٹ نے بحال کر دی۔ اس سے ایک بحران پیدا ہوگیا۔
جولائی 1993 میں جنرل کاکڑ نے مداخلت کر کے اسحاق اور نوازشریف دونوں کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ صدر اسحاق تو آسانی سے مان گئے تھے لیکن نوازشریف کی کنپٹی پر مبینہ طور پر پستول رکھ کر منانا پڑا۔
وحید کاکڑ نے دوسروں جنرلوں کی روایت کے برعکس خود اقتدار نہیں سنبھالا بلکہ پستول اور آئین کی مدد سے بحران حل کیا، سینیٹ چیئرمین عبوری صدر بنے، معین قریشی نگران وزیرِاعظم بنے اور اکتوبر میں منصفانہ انتخابات کروا دیے۔ بینظیر انتخابات جیت کر وزیرِاعظم بن گئی۔
وحید کاکڑ کے پستول اور آئین کے ملاپ سے بننے والے فارمولے کو "کاکڑ فارمولا" کہتے ہیں۔
جنرل کاکڑ نے 1996 میں مقررہ مدت پوری کر کے ریٹائرمنٹ لی اور خاموش زندگی بسر کر کے آج چل دیے۔ اللہ تعالٰی مغفرت فرمائے، آمین!
8 months Pregnant patient , came with head ache and pain on right side of her Face. She look really fatigued and was smiling despite severe Pain. I felt she is hiding something. Upon examining I saw Blood in her eye & a bruise around.
I completed the examination and treated her. I kept her extra comfortable and sat with her a little longer and talked. Then she herself told me “ My HUSBAND DID HIT ME “ the most painful thing that she told me this while Smiling and said koi baat Ni “ meri 3 aur Betiya hain , mai kahan jaongi
🥹💔
As a Doctor , examining females and seeing bruises on their body due to domestic Violence and that too in PREGNANCY” is so painful. I asked her to report but I know she won’t. And this will continue. She left me in tears 🥹
#domesticviolence
Men reading my Tweet “ please don’t do this to mother of your children “ please I have no words to request you enough. Your wife is the most sincere person in your life 🙏🥹💔
عجیب بات ہے اسی گھر کی بار بار وڈیوز آ رہی ہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں اور ویڈیو والا بھی اپنی روزی روٹی بنائے کھڑا ہے کہ وویوز بڑھیں گے خود روکتا نہیں اور نا ہی اداروں کو مطلع کرتا ہے۔ملازم بچی پر تشدد کی یہ اسی گھر کی چوتھی وڈیو ہے۔
علامہ اقبال کے اس خط کے منظر پر آنے کے بعد مطالعہ پاکستان دوبارہ لکھنا پڑے گا۔
علامہ اقبال 1934 کے اس خط میں کہہ رہے ہیں کہ یار پروفیسر ٹامسن میں نے پاکستان کا خواب نہيں دیکھا۔ مجھ پر یہ خواب نہ ڈالیں۔ میں نے تو تجویز دی تھی کہ انڈین فیڈریشن کے اندر شمال مغرب میں ایک صوبہ مسلمانوں کا بنایا جائے۔ یہ صوبہ انڈین فیڈریشن کا حصہ ہوگا۔
علیحدہ ملک پاکستان کا تصور کیمرج والوں نے پیش کیا تھا۔ میرا اس سے کچھ لینا دینا نہيں ہے۔
آپ کا مخلص،
محمد اقبال
لاہور کے علاقہ جوبلی ٹاؤن میں طاقت کے نشے میں چور شخص نے پیٹرول پمپ پر سگریٹ نوشی سے روکنے پر پمپ پر کھڑے محنت کش کیساتھ مار پیٹ کی جبکہ دیگر کو دھمکیاں بھی دیں۔ عملے کے مطابق متاثرہ ملازم حافظ قرآن ہے جبکہ اس نے صرف سگریٹ بجھانے کی درخواست کی تھی
#ZarayeNews#Lahore
پشاور کے گودام میں لے جا کر بدترین تشدد خون سے کپڑے سرخ ہوگئے بڑے آفسر کے دفتر میں بھی مارا اب نامعلوم جگہ پر پھینک دیا گیا۔
حسنین بھائی کی آواز بنو یہ ویڈو زیادہ سے زیادہ شئیر کرو🚨
ملتان میں جس یتیم خانے سے وسیم عباس بچہ کام سیکھنے جا کر قتل ہوا تھا اُس ادارے کو اب بند کیا جا رہا ہے ادارہ بند ہونے کا سُن کر بچے رو رہے ہیں یہ صرف آنسو نہیں اپنے ادارے سے جڑی محبت اور اُمید کی آواز ہے
گزشتہ رات CMH مظفرآباد کے میڈیکل وارڈ میں ایک بزرگ کو دیکھ کر دل لرز اٹھا۔ کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں وہ بمشکل اپنے قدم اٹھاتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بے چینی سی ہوئی تو میں بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ قریب جانے پر انکشاف ہوا کہ وہ اکیلے تھے... نہ کوئی عیادت کرنے والا، نہ پاس بیٹھنے والا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایک بار اکیلے واش روم جانے کی کوشش میں گر چکے تھے، مگر شکر ہے کہ اس وقت کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا۔
وقت گزرتا گیا... وارڈ کی ہلکی روشنی میں گھڑیاں سوئیوں پر دوڑ رہی تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے بعد، دوسرے بیڈ کے ایک مریض کی نظر پڑی تو وہ گھبرا کر بولا: "یار! وہ بزرگ کافی دیر پہلے واش روم گئے تھے، ابھی تک واپس نہیں آئے!"
دل میں ایک کھٹکا سا لگا۔ اسٹاف نرس کو فوراً متنبہ کیا گیا، جب دروازہ کھول کر دیکھا گیا تو منظر دل چیر دینے والا تھا۔ وہ بزرگ واش روم کے سرد اور گیلے فرش پر بے سدھ گرے پڑے تھے، اور درد سے کراہ رہے تھے۔ جسم میں اتنی بھی سکت نہ تھی کہ وہ خود اٹھ کر دروازہ کھول سکتے یا کسی کو پکار سکتے۔
جب ان کے کاغذات کی فائل دیکھی گئی تو اس پر لکھا سچ آنکھوں میں آنسو لے آیا۔ فائلوں میں باقاعدہ ایک ملازم کا شناختی کارڈ منسلک تھا، جو ان کی دیکھ بھال اور تیمار داری کے لیے مامور تھا۔ مگر کیسا ستم تھا کہ کاغذات کا وہ ٹکڑا محض ایک دھوکہ تھا! وہی ملازم رات ہوتے ہی، اپنے فرائض اور انسانیت کو پسِ پشت ڈال کر، بوڑھے لاچار انسان کو اکیلے وارڈ میں چھوڑ کر نہ جانے کہاں غائب ہو چکا تھا۔
بزرگ ہچکیاں لیتے ہوئے بس بار بار واش روم جانے اور سنبھالنے کی فریاد کر رہے تھے، ان کا بستر بھی گیلا ہو چکا تھا، مگر اس وقت ان کی تیمار داری یا عیادت کے لیے وارڈ میں کوئی اپنا موجود نہیں تھا۔ وہ وجود جو کبھی اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر انہیں دنیا میں چلنا سکھاتا تھا، آج ہسپتال کے ایک سرد فرش پر چند قدم کے سہارے کے لیے ترس رہا تھا۔
آخر وہ کون سی مجبوری، کون سا لالچ اور کون سا پتھر دل ہے جو اولاد کو اپنے بوڑھے ماں باپ سے اتنا بے پروا کر دیتا ہے؟ جنہوں نے اپنی جوانی ہماری ہنسی پر لٹا دی، کیا بڑھاپے میں وہ چند لمحوں کی توجہ اور محبت کے بھی حق دار نہیں رہے؟
اگر کوئی ان بزرگ کو پہچانتا ہے، یا ان کے خاندان سے واقف ہے، تو خدا کے لیے یہ پیغام ان تک پہنچا دیجیے! شاید یہ الفاظ کسی سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں، شاید کوئی بیٹا یا وارث اپنی ذمہ داری کو پھر سے پہچان لے۔
🔴اسلام آباد ایئرپورٹ پر اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے اہلکاروں پر مسافروں سے رشوت لینے کی ویڈیو نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے۔
مسافروں کا الزام ہے کہ رشوت نہ دینے کی صورت میں مبینہ طور پر مختلف الزامات لگا کر انہیں پرواز سے آف لوڈ کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ حکومت کے ناک کے نیچے یہ سارا سسٹم چل رہا ہے جس میں اعلیٰ افسران کے ملوث ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
🚨لاہور: مزنگ کے علاقے میں موٹرسائیکل سوار کا سکوٹی پر سوار لڑکی پر بہیمانہ تشدد ۔۔ لڑکی پر تشدد کی سی سی ٹی وی منظر پر آگئی، موٹرسائیکل سوار شہری نے "سکوٹی سوار" لڑکی کو اوور ٹیک کرکے روکا ۔۔ موٹرسائیکل سوار شہری اترا اور لڑکی کو دبوچ کر زمین پر پٹخ دیا۔۔ لڑکی کو تھپڑ مارے اور بال بھی نوچے ،لوگوں نے لڑکی جان خلاصی کروائی ۔۔ ملزم نے لڑکی کا بیگ چھین کر زمین پر پٹخ دیا،جس میں 85 ہزار مالیت کا لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا ۔تشدد سے لڑکی کی ناک کی ہڈی اور چہرے پر زخم آئے ۔۔
ملزم فرار، لوگوں نے موٹرسائیکل تحویل میں لے کر پولیس کے حوالے کر دی، لڑکی کے باپ کی مدعیت میں ایف آئی آر درج