پاکستان کی پہلی خاتون 3 اسٹار جنرل، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان کو صحت جبکہ خطیبِ اعلیٰ کے پی مولانا طیب قریشی کو اوقاف و مذہبی امور کی ذمہ داری تفویض! ملک کی صفِ اول کی قابل شخصیات کی ایڈوائزری کونسل میں شمولیت اس بات کی ضامن ہے کہ اب عوام کو بہترین صحت اور عوامی خدمات میسر آئیں گی۔
باجوڑ کے خار بازار میں تاجر یونین کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ کی خوشی میں شاندار مٹھائی تقسیم کی جا رہی ہے! تیرہ سالہ بدترین معاشی بدحالی، خوف اور نااہل حکومت سے جان چھوٹنے پر تاجر برادری کا یہ جوش و خروش اس بات کا ثبوت ہے کہ کے پی کا بچہ بچہ اس فتنہ پرور راج سے عاجز آ چکا تھا۔
#یوم_نجات #باجوڑ
I strongly condemn the reported Houthi attack targeting Riyadh Airport in the Kingdom of Saudi Arabia. Such acts of aggression threaten regional peace, endanger civilian lives, and undermine efforts to promote stability in the region.
Pakistan and Saudi Arabia share deep-rooted bonds of brotherhood, friendship, and mutual respect. We stand in solidarity with the Kingdom of Saudi Arabia and reaffirm our support for its sovereignty, security, and territorial integrity.
The protection of civilian infrastructure must remain a priority, and all parties must exercise restraint and pursue peaceful solutions through dialogue and diplomacy.
May peace prevail, and may the brotherly people of Saudi Arabia remain safe and secure.
PTI کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کو سیاسی شعور، جمہوری شرکت اور مذاکرات کی طرف لانا ہے یا انہیں مسلسل اشتعال اور تصادم کی سیاست میں الجھائے رکھنا ہے۔ انتخابی اصلاحات کے فورمز سے دور رہ کر دھاندلی کی شکایت اور خیبر پختونخوا کے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کے بجائے سیاسی محاذ آرائی مسائل کا حل نہیں۔ جمہوری سیاست سڑکوں پر تصادم نہیں، پارلیمان میں مکالمہ، اصلاحات میں شرکت اور عوام کے سامنے جواب دہی کا نام ہے۔ نوجوانوں کو نفرت نہیں، مستقبل کی امید دیں۔
خیبر پختونخوا کا امن داؤ پر لگا ہے اور یہ ٹولہ صرف پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہے، صوبہ روزانہ دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے، سیکیورٹی فورسز اور عوام قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کی تمام تر توانائیاں صرف اور صرف اسلام آباد پر چڑھائی اور انارکی پھیلانے پر لگی ہوئی ہیں۔
جب احتجاج کی تیاری نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر کی جائے، تو اسے پرامن جدوجہد نہیں بلکہ سیدھی سیدھی مسلح ہنگامہ آرائی اور انارکی پھیلانے کا منصوبہ کہا جاتا ہے۔
سرکاری ہیلی کاپٹر پر سیاسی مارچ؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کے سوالات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر دوسری طرف صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال مسلسل تشویش کا باعث ہے۔
ایسے میں سرکاری وسائل کے استعمال اور حکومتی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھنا فطری ہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ صوبے کی سکیورٹی اور امن و امان پر توجہ کب دی جائے گی؟
پرامن مارچ کے نام پر نکلنے والے قافلوں کے اندر غیر قانونی اسلحہ سے لیس غنڈے موجود ہیں! پی ٹی آئی کا منصوبہ صاف نظر آ رہا ہے: اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بنا کر خون خرابا کرایا جائے اور پھر سارا ملبہ حکومت اور اداروں پر ڈال دیا جائے۔ پاکستانیو! آنکھیں کھلی رکھیں اور اس ممکنہ ڈرامے اور اشتعال انگیزی سے ہوشیار رہیں۔
#انتشاری_ٹولا #فتنہ_خان #منافقت_بےنقاب
ریاست مخالف بیانیے اور پرتشدد ہتھکنڈوں کے یکساں طریقہ کار نے دشمن کا ماسٹر پلان طشت از بام کر دیا ہے! طلال چوہدری کے مطابق، بیرونِ ملک سے حاصل کردہ فنڈنگ کی بدولت ملک کو ملٹی فرنٹ (Multi-Front) سازش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ملک میں انارکی پھیلائی جا سکے۔ قوم اس گٹھ جوڑ کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔
خیبر پختونخوا میں جاری اس گھناؤنے کھیل نے تحریک انصاف کا دہرا معیار پوری قوم کے سامنے ننگا کر دیا ہے! بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا ڈرامہ رچانے والوں کی اصل ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وفاقی سطح پر نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کا موقع آیا، تو صوبائی حکومت نے اپنے بانی کی بجائے ٹی ٹی پی کے معاشی اور عسکری سیٹ اپ کا ساتھ چنا۔ اربوں روپے کے کالے دھن، اسمگلنگ اور فتنہ الخوارج کے سہولت کاروں کو تحفظ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ کے پی کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران عوام کے امن سے زیادہ ان عسکریت پسندوں کے مرہونِ منت ہیں۔ پارٹی ورکرز کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی قیادت بانی کی رہائی کے لیے نہیں، بلکہ خوارجیوں کے نیٹ ورک کو بچانے کے لیے سیاست کر رہی ہے۔
#انتشاری_ٹولا #فتنہ_خان #منافقت_بےنقاب
بھارتی میڈیا کے مبینہ جھوٹے پروپیگنڈے کو اسی دعوے کے مرکزی کردار نے بے نقاب کر دیا۔
سابق ایس ایس جی کمانڈو، حوالدار (ریٹائرڈ) محمد آصف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارتی میڈیا نے انہیں کشمیر میں ہلاک قرار دیا، جبکہ وہ پنڈی گھیب میں اپنے گھر پر زندہ اور خیریت سے موجود ہیں۔
محمد آصف کے مطابق بھارتی نمبروں سے ان کے ذاتی کوائف حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ شناختی کارڈ کے ساتھ خود میڈیا کے سامنے موجود اس ’’زندہ شہید‘‘ نے بھارتی دعوے پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
ایک شخص کو ہلاک قرار دینا، اس کی لاش قبضے میں لینے کا دعویٰ کرنا، اور اگلے ہی روز اسی شخص کا زندہ سامنے آ جانا—یہ واقعہ غیرمصدقہ خبروں اور دعووں کی قابلِ اعتماد تصدیق کی اہمیت واضح کرتا ہے۔