@realrazidada بھائی تو پہلے اپنے دانت صاف کر لے چیف منسٹر بعد میں بننا یہ سسٹم واقعی کسی کام کا نہیں ورنہ تم جیسا بندہ پی ٹی وی میں ہوتا زیادہ سے زیادہ تیری اوقات ستھرا پنجاب میں صفائی کرنے کی ہے اگر سسٹم واقعی ک��م کرتا
@YasirrRehman An illiterate ignorant tout like you is going to lecture us on the principles of journalism? The truth is that the Kashmiris have rejected this election
@realrazidada جب تک اس ملک میں تم جیسے ان پڑھ گندے منہ والے دلے دانشور بنے ہوئے خدا کی قسم یہ ملک ترقی نہیں کرے گا لوگوں کا سمجھنا ہو گا کیا ہی اس ملک کا معیار ہو گا جہان تم جیسے جاہل گندے منہ والے پی ٹی وی میں تجزیہ نگار ہوں
جناب فیلڈمارشل
غدار ساز فیکٹری کے انتہائی خطرناک نتائج نکل رہےہیں ہماری اس بیٹی کےکرب تکلیف دُکھ اور شکوے کو سنیں یوتھ پاکستان سےمحبت کیلیےبہت حساس ہے وہ غداری کے الزامات پر چُپ نہیں رہےگی بلکہ اصلی غداروں کو اور جھوٹےبیانیہ سازوں،بیانیہ بازوں کاپیچھا کرے گی
خود مختار کشمیر کا بیانیہ اور گریبان میں جھانکنے کا وقت!
کشمیر کی آزادی کے تناظر میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کا موقف کبھی ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ ان کا بیانیہ پہلے دن سے واضح ہے: "پاکستان اور بھارت، دونوں سے کامل آزادی اور ایک خود مختار کشمیری ریاست کا قیام۔"
یہ کوئی نیا موقف نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات ریاستی ��الیسی سازوں کے لیے حیرت کا باعث رہی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب یہی بیانیہ اقتدار اور ریاست کے اپنے مفادات کے سانچے میں ڈھلتا تھا، تو اسے ہر سطح پر تحفظ، سرپرستی اور زبردست پذیرائی دی جاتی تھی:
لبریشن فرنٹ کے لائن آف کنٹرول کے اس کے پار کے سربراہ امان اللہ خان صاحب کا دفتر راولپنڈی کی اہم ترین مری روڈ پر ایک اہم سرکاری ادارے کے دفتر کے عین سامنے عشروں تک قائم رہا۔
جب ڈپلومیٹک اینکلیو میں عام شہریوں کے داخلے پر کڑی پابندیاں تھیں، اس وقت بھی امان اللہ خان صاحب کے پاس آزادانہ آمد و رفت کے لیے خصوصی (Exclusive) سیکیورٹی پاس موجود ہوا کرتے تھے۔
انہی امان اللہ خان کی بیٹی کی شادی کو پاکستان کے تمام قومی میڈیا پر ایک "قومی تقریب" کا درجہ دے کر پیش کیا گیا۔
لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک جب پاکستان تشریف لاتے، تو انہیں ایک سربراہِ مملکت کا سا پروٹوکول دیا جاتا تھا۔
فتح جنگ میں اس وقت کے وفاقی وزیر شیخ رشید کے فارم ہاؤس پر لبریشن فرنٹ کے گوریلوں کی باقاعدہ میزبانی اور ضیافتیں ہوا کرتی تھیں۔
سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی زبان سے ان کے لیے تعریفوں کے پل باندھے جاتے تھے، اور نواز شریف صاحب ان پر صدقے واری ہوا کرتے تھے۔
حتیٰ کہ حالیہ نگران حکومت کے سیٹ اپ میں بھی یاسین ملک صاحب کی اہلیہ کو نگران وفاقی وزیر کا قلمدان سونپا گیا۔
اس تمام تر عرصے میں۔۔۔۔چاہے وہ امان اللہ خان کی پریس کانفرنسز ہوں یا یاسین ملک کے دورے۔۔۔لبریشن فرنٹ نے اپنے خود مختار کشمیر کے اصولی موقف میں ایک انچ بھی تبدیلی نہیں کی۔ وہ کل بھی اسی نقطے پر کھڑے تھے اور آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔
اب ذرا تلخ حقیقت کا سامنا کیجیے:
آزاد کشمیر میں لبریشن فرنٹ کے اس نظریے کے حامیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ تین سے پانچ فیصد ہوگی۔ اکثری�� پاکستان کے ساتھ قلبی، نظریاتی اور سیاسی رشتہ رکھتی ہے۔ لیکن انتہائی افسوسناک اور تاریک پہلو یہ ہے کہ جب آزاد کشمیر کے عام عوام اپنے جائز حقوق، معاشی مطالبات اور آئینی داد رسی کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، تو چند فیصد کے اس نظریے کو ڈھال بنا کر پورے خطے کے عوام پر "پاکستان دشمنی" کا لیبل چپکایا جا رہا ہے۔
جو مطالبات کل تک نہ صرف جائز تھے، بلکہ ان کو تسلیم کر کے آزاد کشمیر حکومت اور دو وفاقی وزرا نے تحریری معاہدہ بھی کیا تھا۔ اب انہیں یکلخت سنگین غداری اور ملک دشمنی سے تعبیر کر کے عوام کو کچلنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
اگر خود مختار کشمیر کا بیانیہ رکھنے والے کل تک اسٹیبلشمنٹ، وزرائے اعظم اور ایوانوں کے لاڈلے ہو سکتے ہیں، تو آج اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے آزاد کشمیر کے غیور اور پرامن عوام غدار کیسے ہو گئے؟
خود مختاری کا نظریہ اگر پاکستان دشمنی ہے تو کیا وجہ ہے پاکستان نے آج تک لبریشن فرنٹ کو کلعدم قرار نہیں دیا ہے۔ پاکستان بھر میں خصوصا وسطی پنجاب ��یں ان کے پروگرمات دھڑلے سے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے سلوگنز کو بنیاد بنا کر آزاد کشمیر کے عوام پر گولیاں برسائی جاتی ہیں۔ انہیں پاکستان دشمن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کو کچلنے اور ان کی آواز کو دبانے کے لیے "پاکستان دشمنی" کا من گھڑت بیانیہ تراشنے والوں کو کسی اور پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اور اپنے اداروں کے گریبان میں جھانکنے کی شدید ضرورت ہے۔ ریاستی پالیسیوں کا یہ دوہرا معیار اور منافقت اب بند ہونی چاہیے۔
#مہتاب_عزیز
@faisalqureshi تم لوگ اتنے شدید ان پڑھ جاہل ہو مجھے حیرت ہوتی اتنی جاہل قوم بھی اس دور میں ہوتی ہے ایک طرف کہ 12 سیٹیں کشمیر کاز کو ��قصان ہے ایک طرف کہ صوبہ بناو تم لوگ کچھ بھی مت کرو جنگلوں میں جا کر پتے باندھ ہولالا ہولالا کرو جاہلوں
Azad Kashmir 📍:
کوئی شخص ہمارے قافلے میں انے کی کوشش نہ کرے جس کے پاس کسی قسم کا ہتھیار ہو۔ ہم پرامن جائیں گے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح مظلومانہ انداز میں شہادتیں پیش کریں گے۔
ملا عمر نزیر کشمیری