سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام اہم پیغام
“آٹھ فروری کو آپ کا مینڈیٹ چرایا گیا لہذا اس روز کو بطور یوم سیاہ منانے کے لیے آپ سب کو نکلنا ہو گا۔
کسانوں، مزدوروں، وکلاء اور ملک کے ہر مکتبہ فکر سے منسلک افراد کو 8 فروری کو نکل کر اپنے حق پر ڈالے گئے ننگے ڈاکے کے خلاف احتجاج کرنا ہو گا کیونکہ غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا اور غلامی سے نجات کے لیے جدوجہد ضروری ہوتی ہے ۔
آٹھ فروری کو اس قوم کا مینڈیٹ چرا کر ملک کو اندھیروں میں دھکیلا گیا۔ پاکستانی قوم نے تمام تر مشکلات کے باوجود جوق در جوق نکل کر تحریک انصاف کے حق میں ووٹ ڈالا مگر آپ کے ووٹ کو پیروں تلے روند کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ ملک میں جمہوریت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
اوورسیز پاکستانی جمہوریت کی بحالی تک ترسیلات زر میں کمی لا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں-
جمہوریت بچانے کے لیے انصاف ناگزیر ہے، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کا ہمارا مطالبہ اسی لیے ہے تاکہ ان واقعات کے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ انصاف دینے کے لیے اخلاقی جرأَت کا ہونا اہم ہے۔ جہاں اخلاقی قوت موجود ہو گی وہاں انصاف بھی ہو گا۔ ایک حقیقی لیڈر میں اخلاقی قوت موجود ہوتی ہے۔ جمہوریت کی بنیاد ہی اخلاقیات پر ہے۔ موجودہ حکومت اخلاقیات سے بالکل عاری ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ہینڈلرز کے ساتھ مل کر تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ مار کر عوام کو ان کے نمائندگان چننے کے حق سے محروم کیا۔ اس ڈاکے کی پردہ پوشی کے لیے مسلسل جعلی اور نا مکمل پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کی جا رہی ہے تاکہ حق اور سچ سامنے نہ آئے اور ان کے جھوٹے اقتدار کو طول ملتا رہے۔ ملک میں آئین کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں، آزادی اظہار رائے پر پابندی ہے، پیکا جیسے قوانین منظور کیے گئے ہیں تاکہ کوئی ان کی فسطائیت کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے، الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر ملک کو اربوں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹ دئیے گئے ہیں، ججز پر دباؤ ڈالا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جا رہی ہے۔ پر امن سیاسی کارکنان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟
بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو:
“مہذب دنیا میں defamation (ہتک عزت) کی سزا جرمانے کے طور پر دی جاتی ہے یہ ایک civil liability ہے لیکن پاکستان میں پیکا کا کالا قانون منظور کر کہ defamation کی سزا 5 سال کر دی گئی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری محکموں کی توہین پر بھی سزا سنائی جا رہی ہے۔ برطانیہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں defamation کی سزا جرمانے کے طور پر دی جاتی ہے کیونکہ دنیا جمہوری اقدار اور اظہار آزادی رائے کو لے کر آگے کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن پاکستان میں ایسے غیر جمہوری قوانین منظور کر کے جمہوری اقدار کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کا قتل کیا جا رہا ہے۔ اس سب کا مقصد یہی ہے کہ آٹھ فروری کی مینڈیٹ چوری سے لے کر عوام کے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرنے تک، 9 مئی فالس فلیگ سے 26 نومبر قتل عام تک جو بھی ظلم و بربریت کی گئی اس پر کسی کو آواز اٹھانے کی جرات نہ ہو۔
اس کٹھ پتلی حکومت نے سوائے غیر قانونی ترامیم کے ذریعے عوامی بنیادی حقوق کی توہین کرنے کے کوئی دوسرا کارنامہ نہیں کیا۔ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹے گئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینئیر ججز کی موجودگی کے باوجود باہر سے چیف جسٹس کی تقرری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو قاضی فائز عیسیٰ پارٹ 2 ثابت ہو گا۔ ہم اس طرح ججز کی تقرری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تقرری بھی میرٹ کی بنیادوں پر ہونی چاہیے ورنہ سکندر سلطان راجہ جیسے گھناونے کردار جنم لیتے ہیں جو عوام کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ آرٹیکل 6 کا مستحق ہے کیونکہ اس نے عوام کا مینڈیٹ دن دیہاڑے چوری کر کے فارم 47 کی حکومت کی سہولتکاری کی۔
آٹھ فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔ اس دن عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا۔ پہلے انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا، نو مئی کا ڈرامہ رچایا گیا تاکہ تحریک انصاف کو کچلا جا سکے اسکے باوجود عوام نے جوق در جوق نکل کر تحریک انصاف کو ووٹ ڈالے مگر نتائج کو بے شرمی اور بے دردی سے بدل کر ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔ اب 8 فروری کے ڈاکے کی پردہ پوشی کے لیے پیکا اور 26ویں ترمیم جیسے قوانین منظور کیے جا رہے ہیں۔ ایک جھوٹ چھپانے کے لیے سو جھوٹوں کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے
حکومت مذاکرات کی صورت میں ڈھونگ رچا رہی تھی۔ اس سے ان کے اپنے چہرے عیاں ہوئے ہیں ۔ یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ جوڈیشل کمیشن بنے اور نو مئی یا 26 نومبر کی تحقیات ہوں کیونکہ اس سے سچ سامنے آ جائے گا اور یہ اندر سے خوفزدہ ہیں کیونکہ سچ یہی ہے کہ یہ خود ان واقعات میں ملوث ہیں۔ بددیانت کبھی بھی نیوٹرل امپائر کے ساتھ نہیں کھیلتا ۔ ان کے اختیار میں ویسے بھی کچھ نہیں یہ جو بھی کرتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کی منشاء سے ہی کرتے ہیں۔
قرآن میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا بار بار ذکر آیا ہے کہ اچھائی کا ساتھ دو اور برائی کے خلاف ڈٹ جاؤ۔ جمہوریت کی بنیاد اخلاقیات پر ہی ہے۔ اللہ پاک نے منافق کی نشانی بیان کی ہے کہ وہ برائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ جو لوگ منافق ہوتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں رسوائی ہے۔ بے غیرتی اور ڈھٹائی کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ لا الہ الا اللہ انسان میں غیرت بیدار کرتا ہے۔ بے غیرت انسان اللہ کے سوا دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے ایک قوم صرف غیرت پر کھڑی ہوتی ہے اور ترقی کرتی ہے۔ بے غیرت انسان یا قوم صرف بھیک مانگتی رہ جاتی ہے۔کوئی بھی قوم صرف انصاف اور قانون کی حکمرانی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ انصاف وہی لوگ دیتے ہیں جن میں اخلاقیات زندہ ہوں ۔ مدینہ کی ریاست انہی اصولوں پر کھڑی ہوئی تھی اور پھر مسلمانوں نے پوری دنیا میں حکومت کی۔ ہمیں بھی اگر اپنی سمت کا درست تعین کرنا ہے تو اخلاقی تربیت پر توجہ دینی ہو گی۔ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہو گا اور انسانی جان کی قدر کرنی ہو گی ورنہ ہمارا مستقبل روشن نہیں ہو سکے گا۔ مدینہ کی ریاست میں ایک یہودی نے خلیفہ وقت حضرت علی رضی الله عنه کے خلاف مقدمہ جیت لیا تھا۔ انصاف کے یہ اصول اسلامی معاشرے کی حقیقی روایات ہیں جنہیں ہم فراموش کر چکے ہیں۔ اسلام اور جمہوریت کے اصولوں کو فراموش کرنے کی وجہ سے ہی ہماری معاشرت اور معیشت دونوں تباہ ہیں اگر ہم حقیقی ازادی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انہی اصولوں کو اپنا کر اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہو گی۔جو انسان بے خوف ہو کر صرف اللہ سے ڈرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے جو خوفزدہ رہتا ہے وہ کبھی کامیاب انسان نہیں بن سکتا۔ جو انسان کبھی ہار نہیں مانتا وہی مراد پاتا ہے لہذا میری قوم نے کبھی ہار نہیں ماننی۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور وکلاء سے گفتگو۔
پوری پارٹی کو ہدایت کرتا ہوں کہ 8 فروری کو یوم سیاہ منایا جائے۔ اس کی تیاریاں آج سے ہی شروع کی جائیں۔ جس شخص نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان اور الیکشن چھیننے کی کوشش کی وہ تاریخ کے تاریک قبرستان میں گم ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت بھی کل ختم ہو رہی ہے۔ اگر آرٹیکل6 اس ملک میں کسی پر لگنا چاہیے تو وہ سکندر سلطان راجہ ہے ۔ اس نے عوام کے مینڈیٹ کو چوری کیا اور قاضی فائز عیسی نے اس انتخابی فراڈ کو تحفظ فراہم کیا۔
ہمارا مقصد پاکستان میں شفاف انتخابات،آئین اور جمہوریت کی بحالی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت بحال ہو اور قانون کی حکمرانی واپس آئے ۔ملک میں معطل بنیادی انسانی حقوق دوبارہ بحال ہوں۔
سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونا قابل مذمت ہے۔ اگر ہاؤس اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتا تو میں یہ کہنے میں مکمل حق بجانب ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت، آئین اور قانون کا مکمل جنازہ نکل چکا ہے۔ عدلیہ ، پولیس ، ایجنسیوں، ایف آئی اے سب کو اپنے اصل کاموں سے ہٹا کر صرف اور صرف تحریک انصاف کو کچلنے پر لگا دیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک آمر کا حکم ہی ملک میں قانون ہے، جبکہ آئین اور منتخب نمائندوں کی کوئی وقعت نہیں رہ گئی ۔
انصاف کی فراہمی کسی بھی مملکت کو چلانے کے لئے بنیادی تقاضہ ہوتا ہے ۔ مگر یہاں 26 ویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے ہیں ۔پاکستان کی اعلی ترین عدالت کو نگیں کر دیا گیا ہے اور کورٹ پیکنگ( ججز کی تعداد میں اضافہ ) کی جا رہی ہے۔ صرف مجھے سزا دینے پر ججز کو نوازا جا رہا ہے اور میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں انکا تقرر کیا گیا ہے۔
قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں انصاف کا بالکل قتل عام کر کہ رکھ دیا تھا ۔ اس کے بعد عدلیہ سے انصاف کی توقع ختم ہو چکی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ بنیادی شہری اور انسانی حقوق کا دفاع کرے۔ سویلین کے ملٹری ٹرائل کی بین الاقوامی اور ملکی قوانین میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ 26 نومبر اور نو مئی کے واقعات کی جوڈیشل کمیشن کے ذریع آزاد انکوائری کروائی جائے۔ مجھے معلوم ہے کہ ان واقعات کا ماسٹر مائنڈ کون ہے۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی ہے۔
حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی مخالفت کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی، ماسوائے اس کے کہ وہ خود اس واقع میں شامل ہے۔ میں نے اسد قیصر اور عمر ایوب کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کر کے انہیں مذاکراتی عمل اور ہماری سیاسی پوزیشن سے متعلق اعتماد میں لیا جائے۔۔۔
فارم 47 کے تحت وجود میں آنے والی حکومت عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتی۔ پورے پاکستان میں بلوچستان ماڈل نافذ کر دیا گیا ہے ۔ جب تک بلوچستان میں منتخب لوگوں کی حکومت نہیں آئے گی حالات پرسکون نہیں ہوں گے۔ بلوچستان میں ریاستی ظلم قابل مذمت ہے۔ عوامی مسائل کا حل کبھی بھی بندوق اور فوج نہیں ہوتا، یہی معاملہ اب باقی ماندہ ملک کا بھی ہے۔
مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے القادر جیسے جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ پاکستان میں جنہوں نے اربوں روپے چوری کئے وہی حکمران بن گئے ہیں صرف اس لیے کہ انہوں نے ڈیل کی۔ نواز شریف کے بیٹے نے نو ارب کا فلیٹ ملک ریاض کو 18 ارب روپے میں بیچا۔ سوال تو یہ ہے کہ نواز شریف کے بیٹے کے پاس نو ارب روپے کہاں سے آئے؟ پانامہ میں ان سے جو رسیدیں مانگی گئیں وہ آج تک نہیں دی گئیں۔ قاضی فائز عیسی کے ساتھ مل کر حدیبیہ پیپر ملز میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ معاف کروائی گئی۔ نیب ترامیم بحال کر کے قاضی فائز عیسی نے میوچل لیگل اسسٹنس کی قانونی حیثیت کو ختم کیا کیونکہ وہ خود اس کے بینیفیشری تھے۔ قاضی فائز عیسی کی لندن میں جو پراپرٹیز ہیں اس کا انہوں نے حساب نہیں دیا۔ نواز شریف کے پاس نو ارب روپیہ کہاں سے آیا اس کا ہم حساب مانگتے ہیں۔ یہ مافیا ایک دوسرے کی کرپشن بچانے کے لیے ہمیشہ ایک ہو جاتا ہے۔ یہی پاکستان کے سٹیٹس کو اور تحریک انصاف میں فرق ہے۔ مجھے بھی ڈیل آفر ہوئی مگر جب میں نے کوئی چوری ہی نہیں کی تو سمجھوتا کیوں کروں؟ میں آخری دم تک ڈیل نہیں کروں گا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگو
“میں نے اپنی زندگی میں پاکستان میں نافذ کیے گئے تمام مارشل لأ یعنی ایوب خان ، یحیٰی خان ، ضیاء الحق اور مشرف کا مارشل لا دیکھے ہیں۔ یحیٰی خان اور ضیاءالحق کا مارشل لا پاکستان کی تاریخ کا بدترین مارشل لاء تھا جس میں جمہوریت کو بالکل روند دیا گیا تھا۔ مشرف اس حوالے سے قدرے لبرل تھا۔ جو کچھ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے اسکا موازنہ صرف اور صرف یحیٰی خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے۔ مارشل لأ میں سب سے پہلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا جاتا ہے تاکہ آمر کی غلط کاریوں پر کوئی بھی آواز بلند کرنے والا نہ ہو ۔ آزاد میڈیا چونکہ تنقید کرتا ہے اس لیے اسکی آواز بند کی جاتی ہے عدلیہ کیونکہ غلط فیصلوں پر ایکشن لینے کا حق رکھتی ہے اس لیے اسکے اختیارات بھی سلب کر لیے جاتے ہیں ۔ آج اس جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس مارشل لا میں یہ تمام فسطائی حربے بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پاکستان کی سب سے مقبول اور بڑی پارٹی کے چئیرمین کا نام تک میڈیا پر لینے پر پابندی ہے؟
جیسے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے ذریعے واضح ہوا تھا کہ یحیٰی خان نے اپنی طاقت اور اقتدار کی خاطر ملک کے نظام کو تہس نہس کیا وہی کام آج بھی کیا جا رہا ہے۔ فارم 47 کی بوگس اور فراڈ حکومت کو بچانے کے لیے تحریک انصاف کو مسلسل کچلا جا رہا ہے اور ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ شہباز شریف صرف اور صرف جنرل عاصم منیر کی ایک کٹھ پتلی اور اردلی ہے، اس سے زیادہ طاقت ور وزیراعظم تو مشرف دور میں شوکت عزیز تھا کیونکہ کم از کم تب انتخابات میں اس سطح کی دھاندلی نہیں کی گئی تھی جیسی فروری 2024 میں کی گئی۔ دھاندلی کی پیداوار فارم 47 کے سہارے کھڑا ناجائز لیکن ناتواں ٹولہ دراصل حکومت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔
القادر ٹرسٹ کا فیصلہ صرف اور صرف پچھلے کیسز کی طرح میرے اوپر دباو ڈالنے کے لیے لٹکایا جا رہا ہے مگر میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر جاری کیا جائے کیونکہ جیسے پہلے عدت کیس اور سائفر کیس میں آپ کا منہ کالا ہوا اب بھی وہی ہو گا ۔
القادر کیس بالکل ایک بوگس کیس ہے جس میں دور دور تک کوئی میرٹ نہیں۔ میں نے کوئی بلاول ہاؤس نہیں بنوایا بلکہ ایک دور دراز دیہات میں قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جس سے مجھے ایک روپے کا فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہونا ہے- القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بھی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ایک عوامی مدد سے چلنے والا فلاحی ادارہ ہے-
میں واضع طور پہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نواز شریف اور زرداری کی طرح این آر او نہیں لوں گا۔ اور عدالتوں سے اپنے کیسز ختم کروائیں گے۔
بشری بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے ۔ اسلام آباد قتل عام کو 6 ہفتے ہو چکے ہیں، ہمارے گمشدہ افراد کو لیکر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ یہ مذاکرات کی کامیابی میں حکومت کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے ۔ گروتھ ریٹ صفر ہے مصنوعی طریقے سے ڈالر کو قابو میں رکھنا کوئی معاشی کامیابی نہیں ہوتی۔ ملک میں ترقی صرف سرمایہ کاری سے آتی ہے اور سرمایہ کاری کبھی ایسے ملک میں نہیں آتی جہاں قانون کا وجود ہی فوت ہو چکا ہو ، عدالتیں آزاد نہ ہوں ، دہشتگردی ہو اور جہاں اصل عوامی نمائندگان حکومت کی بجائے جیلوں میں ہوں۔ ایسا ملک کبھی ترقی کر ہی نہیں پایا-“