انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید ��ی سزا سنانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب انسدادِ دہشتگردی عدالت کوئٹہ کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ انصاف، انسانی حقوق اور شفاف عدالتی عمل کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ہم اس فیصلے کو بلوچ عوام کی سیاسی اور جمہوری آوازوں کے خلاف ایک تشویشناک اقدام سمجھتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب بلوچستان پہلے ہی سیاسی بے چینی، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس نوعیت کے فیصلے عوام کے اندر مزید بے اعتمادی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس مقدمے کے حوالے سے ابتدا ہی سے مختلف قانونی اور طریقۂ کار سے متعلق تحفظات موجود رہے ہیں۔ ایک ہی واقعے کے حوالے سے مختلف تاریخوں پر مقدمات کے اندراج اور عدالتی کارروائی کے مختلف پہلوؤں نے اس کیس کی شفافیت کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔ ایسے مقدمات میں انصاف کے تقاضے یہی ہیں کہ تمام مراحل مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور قانونی اصولوں کے مطابق انجام دیے جائیں تاکہ کسی قسم کے ابہام یا شبہات کی گنجائش باقی نہ رہے۔
ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر کارکنان طویل عرصے سے بلوچ عوام کو درپیش مسائل، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے حوالے سے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ اختلافِ رائے اور سیاسی مؤقف کا اظہار ہر جمہوری معاشرے میں ایک بنیادی حق سمجھا جاتا ہے، جس کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ ہم اس فیصلے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مقدمے کے تمام پہلوؤں کا آزادانہ، منصفانہ اور شفاف جائزہ لیا جا��ے۔ ہم انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء برادری، صحافیوں اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنماں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ کو عمر قید کی سزا دینا ناانصافی کی تاریخ کی سیاہ ابواب میں سے ایک ہے،ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
بی ایس سی اسلام آباد
8 June is not merely a day of remembrance but a day of political resistance against the ongoing policy of enforced disappearances in Balochistan.
We call upon all students, political activists and supporters of human rights to change their profile pictures and stand in solidarity with the families who continue to demand justice for their loved ones.
Let every profile become a voice for the missing and a reminder that their absence will not be forgotten.
#8junebalochmissingpersonsday
Kambeer khan son of Ali Muhammad who is a student of Archeology at Qau and member of BSC Islamabad, was forcibly disappeared yesterday at around 9:00 PM near I-8 Markaz, Islamabad. His disappearance has once again raised serious concerns about the safety and security of Baloch
Enforced disappearances continue in Dera Bugti: Ghulam Kareem Bugti and his teenage son, Bada Bugti, were forcibly disappeared by Pakistan’s Frontier Corps from Zainkoh town on Saturday evening. #Balochistan@HRCP87
BSC Punjab launches a campaign on X (Formerly Twitter) to demand for the safe and immediate release of Zubair Baloch S/O Ghulam Fareed resident of Bhutta colony Dera Ghazi Khan who was illegally abducted by MI on 15/06/2026 at 1:30AM from his hometown bhutta colony DG Khan.
Zubair Baloch, son of Ghulam Fareed, former chairman of Baloch Students Council Bahawalpur and an MPhil graduate of The Islamia University of Bahawalpur, was forcibly disappeared last night at approximately 1:30 AM from his hometown in Bhutta Colony, Dera Ghazi Khan.
سندھ کے علاقے کشمور، میں بلوچ کلچر ڈے کے پروگرام کے انعقاد پر مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کےذمہ داران پر فتویٰ جاری کرنا ایک قابلِ مزمت اور تشویش ناک عمل ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
End Enforced Disappearances
BSC Punjab fully supports the campaign on X (formerly Twitter) and Facebook initiated by the families of Dawood Baloch, his brother Usman Baloch, and their cousin Hakim Baloch, who were forcibly taken by security agencies on 2 November 2025
Baloch student Wahab Ghani, a Biochemistry graduate of the University of the Punjab (2024), was reportedly forcibly disappeared from D Block, Faisal Town, Lahore.
His whereabouts remain unknown.
We demand his immediate and safe release.
#ReleaseWahabGhani#SaveBalochStudents
ریاست بلوچ طلبہ کو ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں سے دور دکھیل رہی ہے۔ انہیں مختلف ہتھکنڈوں، جبری گمشدگیوں اور دیگر رکاوٹوں کے ذریعے تعلیم کے مواقع سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف غیر سنجیدہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عملی طور پر ریاستی تشدد اور
We urge students, teachers, activists, and people from all walks of life to join this campaign and raise their voices against the ongoing policy of enforced disappearances of Baloch
Date: January 15, 2026
Time: 9:00 PM – 12:00 AM
#ReleaseRameezBaloch#ReleaseShoaibBaloch
داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جبری گمشدگی اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب
#SaveBalochStudents#StopBalochGenocide
داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جبری گمشدگی اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب
ڈیرہ بگٹی: سوئی سے تعلق رکھنے والے پیرل بگٹی کے دو نوجوان بیٹوں فضل دین اور ستا دین بگٹی کو گزشتہ روز سی ٹی ڈی کے کارندوں نے سوئی کے نواحی علاقے مٹ سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے۔