ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس شروع ہی یہاں سے کرتا ہے کہ بیالس کروڑ کائینیٹک آپریشنز کیے۔ جبکہ ٹی ٹی پی کا سربراہ نور ولی محسود پاکستان کرم میں گھوم رہا ہے۔ آٹھ سو ارب کی پنشن پر لعنت۔ ستر فیصد بجٹ پر لعنت۔ ایسے رکھوالوں پر لعنت۔ ایسی فوج کے فیصلہ سازوں پر لعنت۔
”میں نے کوئی بلاول ہاؤس نہیں بنوایا بلکہ ایک دور دراز دیہات میں قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔“
ایک اسلامی جمہوریہ کے سابق وزیراعظم کو نبی کریم ﷺ کی سیرت پر تعلیم دینے والی یونیورسٹی بنانے کی سزا دی جا رہی ہے۔
#AlQadirTrustCase
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو:
“سب کو نیا سال مبارک ! 2025 حقیقی آزادی کا سال ہے، جس میں گھٹنوں پر آئے اس جعلی اور فسطائی نظام کو شکست ہو گی، انشاء اللہ!
اس آمرانہ دور میں شخصی آزادیوں کے خاتمے، بنیادی قانونی حقوق کی پامالیوں اور اداروں کی تباہی نے ملک کے ناصرف سماجی و سیاسی نظام بلکہ قانونی و معاشی نظام کو بھی درہم برہم کر دیا ہے۔جس بھونڈے انداز میں خالد خورشید کو 34 سال قید کی سزا سنائی گئی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں رول آف لا کا خاتمہ ہو چکا ہے اور غیر اعلانیہ بدترین آمریت کا راج ہے۔ مشرف دور میں بھی ہم فوج کی مداخلت پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اسکے باوجود ہمیں اس قسم کی جبر و فسطائیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وکلاء تحریک سے پہلے بھی ہم فوج کی سیاسی مداخلت کے خلاف بھرپور تنقید کرتے تھے، لیکن تب کوئی ایجنسی اپنے شہریوں کو اس طرح سے نہیں اُٹھاتی تھی۔
آئینی عدالت بنا کر پورے عدالتی نظام کو تباہ کیا گیا اور قاضی فائز عیسی کی باقیات کو عدالتی نظام کا قبضہ دے دیا گیا تاکہ قاضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے عدالتی فیصلے جی ایچ کیو کے زیر اثر کروائے جا سکیں۔
میرے خلاف پچھلے سال بھی چار غیر قانونی فیصلے دئیے گئے تھے۔ سوموار کو القادر کیس کا فیصلہ بھی ویسا ہی توقع کر رہا ہوں۔ ایسے ہی لا قانونیت پر مبنی فیصلے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔
ملٹری کورٹس جیسے فیصلوں سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔ پاکستان میں اب بھی گروتھ ریٹ صفر ہے جب معاشی ترقی ہی نہیں ہو گی تو نہ ہم قرضوں سے نکل پائیں گے اور نہ ہی بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا ۔
پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے اس سے متعلق میرا موقف واضح ہے لیکن جب بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا سے آوازیں اٹھنا فطری عمل ہے ۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے اسی لیے ہیں ۔ دنیا کے تمام ذی شعور انسان بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔ ارسطو نے بھی یہی کہا تھا ہر شہری کا فرض ہے انسانی حقوق کی پامالی ہو تو آواز اٹھائے ۔ دو قسم کے لوگ ہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز بلند نہیں کرتے: ایک خودغرض اور دوسرے بزدل۔
ٹرمپ سے یہی توقع ہے کہ وہ نیوٹرل رہیں گے کیونکہ بائیڈن نے جنرل باجوہ کے اکسانے پر ہماری حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر واضح مداخلت کی تھی جو ساری دنیا جانتی ہے ۔
ہماری مذاکراتی کمیٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ ہمارے مطالبات جائز ہیں
- 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن کا قیام
- سیاسی قیدیوں کی رہائی
ڈی جی ائی ایس پی آر 9 مئی پر صریح غلط بیانی کر رہے ہیں۔ سیدھا اصول یہی ہے کہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی اس نے ہی 9 مئی کروایا۔ ملٹری کورٹس سے فیصلے بھی اسی لیے کروائے گئے کہ وہاں کسی نے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگنی ہی نہیں تھی ۔26 نومبر کو سیدھی گولیاں مار کر ہمارے لوگوں کو شہید کیا گیا جب بھی ان دو واقعات کی شفاف تحقیقات ہوں گی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ہم نے حکومت کو 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ مذاکرات اور اسکے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر کے بائیکاٹ کی مہم بھی جاری ہے۔ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کی منظوری میں سنجیدگی دکھائی تو بائیکاٹ مہم پہ دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
مجھے بالواسطہ طور پہ بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ میرا موقف واضح ہے کہ پہلے میرے اسیر کارکنان اور رہنماؤں کو چھوڑا جائے اسکے بعد میری بات ہو گی۔ اٹک جیل میں بھی مجھے تین سال تک باہر بھیجنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن میرا جینا مرنا پاکستان ہے ۔ میں آخری سانس تک ملک کی آزادی کی جنگ لڑوں گا اور اپنی قوم سے بھی یہی امید کرتا ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگو
“میں نے اپنی زندگی میں پاکستان میں نافذ کیے گئے تمام مارشل لأ یعنی ایوب خان ، یحیٰی خان ، ضیاء الحق اور مشرف کا مارشل لا دیکھے ہیں۔ یحیٰی خان اور ضیاءالحق کا مارشل لا پاکستان کی تاریخ کا بدترین مارشل لاء تھا جس میں جمہوریت کو بالکل روند دیا گیا تھا۔ مشرف اس حوالے سے قدرے لبرل تھا۔ جو کچھ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے اسکا موازنہ صرف اور صرف یحیٰی خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے۔ مارشل لأ میں سب سے پہلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا جاتا ہے تاکہ آمر کی غلط کاریوں پر کوئی بھی آواز بلند کرنے والا نہ ہو ۔ آزاد میڈیا چونکہ تنقید کرتا ہے اس لیے اسکی آواز بند کی جاتی ہے عدلیہ کیونکہ غلط فیصلوں پر ایکشن لینے کا حق رکھتی ہے اس لیے اسکے اختیارات بھی سلب کر لیے جاتے ہیں ۔ آج اس جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس مارشل لا میں یہ تمام فسطائی حربے بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پاکستان کی سب سے مقبول اور بڑی پارٹی کے چئیرمین کا نام تک میڈیا پر لینے پر پابندی ہے؟
جیسے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے ذریعے واضح ہوا تھا کہ یحیٰی خان نے اپنی طاقت اور اقتدار کی خاطر ملک کے نظام کو تہس نہس کیا وہی کام آج بھی کیا جا رہا ہے۔ فارم 47 کی بوگس اور فراڈ حکومت کو بچانے کے لیے تحریک انصاف کو مسلسل کچلا جا رہا ہے اور ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ شہباز شریف صرف اور صرف جنرل عاصم منیر کی ایک کٹھ پتلی اور اردلی ہے، اس سے زیادہ طاقت ور وزیراعظم تو مشرف دور میں شوکت عزیز تھا کیونکہ کم از کم تب انتخابات میں اس سطح کی دھاندلی نہیں کی گئی تھی جیسی فروری 2024 میں کی گئی۔ دھاندلی کی پیداوار فارم 47 کے سہارے کھڑا ناجائز لیکن ناتواں ٹولہ دراصل حکومت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔
القادر ٹرسٹ کا فیصلہ صرف اور صرف پچھلے کیسز کی طرح میرے اوپر دباو ڈالنے کے لیے لٹکایا جا رہا ہے مگر میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر جاری کیا جائے کیونکہ جیسے پہلے عدت کیس اور سائفر کیس میں آپ کا منہ کالا ہوا اب بھی وہی ہو گا ۔
القادر کیس بالکل ایک بوگس کیس ہے جس میں دور دور تک کوئی میرٹ نہیں۔ میں نے کوئی بلاول ہاؤس نہیں بنوایا بلکہ ایک دور دراز دیہات میں قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جس سے مجھے ایک روپے کا فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہونا ہے- القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بھی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ایک عوامی مدد سے چلنے والا فلاحی ادارہ ہے-
میں واضع طور پہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نواز شریف اور زرداری کی طرح این آر او نہیں لوں گا۔ اور عدالتوں سے اپنے کیسز ختم کروائیں گے۔
بشری بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے ۔ اسلام آباد قتل عام کو 6 ہفتے ہو چکے ہیں، ہمارے گمشدہ افراد کو لیکر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ یہ مذاکرات کی کامیابی میں حکومت کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے ۔ گروتھ ریٹ صفر ہے مصنوعی طریقے سے ڈالر کو قابو میں رکھنا کوئی معاشی کامیابی نہیں ہوتی۔ ملک میں ترقی صرف سرمایہ کاری سے آتی ہے اور سرمایہ کاری کبھی ایسے ملک میں نہیں آتی جہاں قانون کا وجود ہی فوت ہو چکا ہو ، عدالتیں آزاد نہ ہوں ، دہشتگردی ہو اور جہاں اصل عوامی نمائندگان حکومت کی بجائے جیلوں میں ہوں۔ ایسا ملک کبھی ترقی کر ہی نہیں پایا-“
@KlasraRauf کلاسرا صاحب اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں پٹواری ذہنیت محدود ہی ہوتی ہیں قاضی جب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑے تھے حامد اور بہت سے حق پرست اس کے ساتھ کھڑے تھے آج اس نے غلامی قبول کی ہے تو کیا سب لوگ ضمیر بیچ کر قاضی کے ساتھ کھڑے ہو جائیں؟
@AajKamranKhan کامران صاحب عمران خان اللہ کا ولی ہیں اللہ آپنے خاص بندوں کوآزمائشوں میں ڈالتا ہے آپ مایوسی نہ پہلائیے ھمارا ایمان ہے کہ فتح ھمیشہ حق اور سچ کی ہو گی
@AajKamranKhan کیا ھم ابھی تک غلام ہے 9 مئی کو 25 لوگ شہید ہوئے یہ سانحہ ہے یا گاڑی جلنے یا دیوار پھلانگنے کو سانحہ کہتے ہیں عوام کو سب پتہ ہے بس وقت کا انتظار ہے
فوز فرنسا 2_1
يــــــــاااااااااااارب
يــــــــاااااااااااااارب
يــــــــاااااااااااااااارب
يارب اجعل من نصيبي ان شاء الله ゚
اللهم ارزقني وانت خير الرازقين
اللهمَّﷺصَلِّﷺوَسَـــلِّمْﷺوَبَارِك على سيدنا محمد وعلى اله وصحبه الجمعين