میں اپنے دور سے پہلے جو آ گیا ہوں یہاں
روایتوں سے مرا انحراف بنتا ہے ۔۔
میں تیرے واسطے لڑتا رہا تھا دنیا سے
ترا بیان ہی میرے خلاف بنتا ہے ۔۔۔۔
جو تیرے سارے گِلوں کو اگر کروں یکجا
تجھے بھی عشق ہے یہ اعتراف بنتا ہے
بچھڑ گئے تو موج اڑانا
واپس میرے پاس نہ آنا
جب کوئی جا کر واپس آئے
تڑپے روئے یا بچھتائے
میں پھر اس کو ملتا نہیں ہوں
ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں
گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں
میں پتھر کا ہو جاتا ہوں۔