افواہ مارکیٹ میں خبر پھیلائی جا رہی کہ اینٹ سے اینٹ بجانے والے نے دھمکی لگائی ہے کہ ہم نے ایک نہر بنانے نہیں دی۔ صوبے تو بھول ہی جاؤ۔۔۔
میرا خیال ہے۔۔۔ اس افواہ کی بھی صفائی دی جا رہی ہو گی۔۔۔۔۔
وڈے میاں جی نے نقوی کے خلاف بیان دینے سے منع کردیا ہے رانا ثناءاللہ
لیکن آپ اور خواجہ آصف نقوی کی ڈھولکی تو وجا رہے ہیں شاہزیب
جی دیکھیں میاں جی نے اوپر اوپر سے بیان کرنے کا کہا ہے رانا ثناءاللہ
لیکن آپ کے بیانات تو اندر تک گھس رہے ہیں شاہزیب
جی دیکھیں آپ سیانے بیانے ویائے وارے بندے ہے اور آپکو معلوم ہے کہ گھیرنے کا طریقہ یہی ہوتا ہے اور پھر اوپر کا کہ کر ہی یکدم ہوجاتا ہے رانا ثناءاللہ
بریک لے لیتے ہیں
اور ناظرین 21 انتخابی حلقوں میں جاری دنگل کے بعد نواز لیگ 11 جبکہ پپل پالٹی 3 حلقوں میں کامیاب ہوچکی ہے اور 7 حلقوں کے نتائج انا ابھی باقی ہیں جبکہ علیم خان جماعت فلحال ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی جبکہ سب سے زیادہ رولا علیم پائن نے ڈالا ہوا تھا
سناؤ فیر
اپریل 2022 سے کچھ حلقے موجودہ نظام میں دراڑ ڈالنے کی خواہش پالے ہوئے ہیں۔ محسن نقوی صاحب کے بیان کو بھی اسی خواہش کی تعبیر سمجھ کر سوشل میڈیا پر ایسا تاثر دیا گیا جیسے ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے آ چکی ہیں اور نظام کسی بھی وقت لپیٹا جا سکتا ہے۔
مگر زمینی حقائق اور تمام اشارے یہی ہیں کہ شہباز حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ دراڑ کے منتظر حلقوں کو ایک بار پھر مایوسی کے سوا کچھ حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا جبکہ دوسری جانب راوی پہلے سے ہی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
یہ وہ سیاسی جماعت ہے جو دوسروں کو انپڑھ ہونے کا طعنہ مارتی تھی
یہ وہ سیاسی جماعت ہے جو کہتی تھی کہ ہم پڑھے لکھے لوگوں کو آگے لائیں گے
یہ وہ سیاسی جماعت تھی جو کہتی تھی کہ بوسیدہ نظام ہم تعلیم سے ٹھیک کریں گے
پورے 14 سال حکومت کے بعد یہ ہیرا آج خیبر پختونخواہ کا وزیر تعلیم ہے
چن صاحب ! راچپوت پر ہیروین ڈالی گئی آپ اس حکومت کا حصہ اور ترجمان تھے ، اسے پابند سلاسل کیا گیا کال کوٹھڑی میں ڈالا گیا لیکن اس نے کلمہ حق کہا اور نا ڈرا نا جھکا ، بلکہ اس کی آواز اور مضبوط ہوئی تھی اور آج بھی ڈٹ کر بولتا ہے لیکن آپ اپنی موجودہ جماعت چھوڑ کر کیوں گئے تھے ؟ کس نے کہا تھا اور کیا خوف تھا ؟
عام عوام عزت کرتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو عوام کرلے گی مگر ایک شخص کو عام آدمی سے ملک کا وزیراعظم تک بنانے والے نوازشریف کو وہ ہی شخص کیا صلہ دے رہا ہے اس سے اس بندے کا کردار اور سچائ ثابت ہوجاتی ہے اس لیے باقی بات سُننا بیوقوفی ہے ۔۔ میرے نزدیک چند گھٹیا ترین لوگوں میں سے ایک شاہد خاقان عباسی ثابت ہوۓ ہیں ۔
پہلے کہتے تھے محسن نقوی کو جواب نہیں دے رہے
پھر جب رانا ثناءاللہ نے بوتھا تروڑ جواب دیا تو کہنے لگے یہ جواب تو ہلکا ہے
پھر جب خواجہ آصف نے سسٹم نکال کر سامنے رکھا تو کہنے لگے اب شامت ائے گی اور صحفہ پھٹ جائے گا
پھر جب خواجہ آصف نے شہزاد اقبال پروگرام میں دال والی آندر پاڑ دی تو اب وہی ویڈیو نقوی کو ٹیگ کررہے ہیں
ناظرین یوتھیے چوتٹیوبر ساس داماد اور مچھلی کے سوال طرح اک تھاں کھلو نہیں رہے
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و ذاتی مفادات کے تابع ھے ۔ اور اسکو آزاد کرنے کی ضرورت ھے۔
میری کچھ گذارشات ھیں ۔ اگر سسٹم میں مضبوط کرنا ھے اور بنیادی تبدیلی لانی ھے تو اسکا فورم پارلیمنٹ ھے جسکے نقوی صاحب رکن ھیں یا اسکو کابینہ میں بھی بھی زیر بحث لایا جا سکتا ھے اس سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ھو گا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔ محترم کابینہ کے نہایت اور معتبر رکن ھے۔ اتفاق ھے نقوی صاحب ان دونوں اداروں یعنی پارلیمنٹ اور کابینہ کا اجلاس کبھی کبھار ایٹنڈ کرتے ھیں ۔
ان اداروں کو irrelevant کرکے ملک کے مایہ ناز اور قابل احترام تاجروں کو انوائٹ کرکے captive audience کے آگے اتنی بڑی بات کرنی میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی جتنا relevant constitutional forums بات کرنے سے پزیرائی ملتی۔
نقوی صاحب اس نظام کے انتہائ طاقتور عہدوں پہ ساڑھے تین سال سے فائز ھیں اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید
کل DGISPR نے NATIONAL ACTION PLAN کے 13نکات یا پوائنٹ کا ذکر کیا ۔ ایک پوائنٹ پہ عمل درآمد جوھماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ
عملدرآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ھو رہا ھے۔ باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ھے جن پہ عملدرآمد نہیں ھوا۔ نقوی صاحب سسٹمُ کی تبدیلی کا آغاز National Action plan پہ عملدرآمد سے کریں ۔ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں ۔ صرف ھماری قابل احترام تاجر برادری ھی نہیں پوری قوم آپکے ساتھ ھے۔ 🤲
اگر نیشنل ایکشن پلان کے بقیہ 13 نکات پر کام وزیر داخلہ نے کرنا تھا تو پہلے تو اُن کو کابینہ میں کھڑا کر کے پوچھا جائے کہ پچھلے تین سال اُنہوں نے اِن 13 نکات پر کیا کیا ہے۔وزیر اعظم اور کابینہ اُن سے پرفارمنس رپورٹ لیں، احتساب کریں، اچھے کام کے مارکس دیں، اگر فیل ہیں تو ایگزٹ ڈور دکھائیں۔
There must be a cost and benefit analysis and there must be accounbility
اگر ہمارے ووٹ جعلی ہیں فارم 47 کے ہیں تو سوال یہ ہے کہ آپکے پاپا ہمارے جعلی ووٹوں سے صدر کیسے بن گئے اور جناب بلاول صاحب یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ پاڑیں تو فیشن اور اگر ہم پاڑیں تو پرچہ
گیند گواچ گئی جے
اور ناظرین خواجہ محمد آصف علیم خان کے پیچھے ہیں جبکہ رانا ثناءاللہ خان محسن نقوی کے پیچھے چڑھ دوڑے ہیں جبکہ وڈے میاں جی نے نماز جمعہ کے بعد آن بانگے چوچے کی یخنی اور دیسی پھلکوں کے ساتھ طعام مکمل کیا
سمجھ ککھ نہیں آرہا لیکن سواد بہت آرہا ہے