جیفی (جے ایف 17)کے بارے میں تین اہم خبریں
1: پہلی خبر یہ کہ جیفی افغانستان کے آسمان پردس کلومیٹر اونچے اڑے ہیں ۔ ہوا یوں کہ چند دن پہلے پاکستان نے افغانستان میں حملے کے لئے میراج بھیجے۔ افغانستان نے روس اور انڈیا سے سسٹم لیا تھا اور اینٹی ائیر کرافٹ اسلحہ بھی لگایا تھا ۔۔میراجز ساڑھے سات ہزار فٹ کے فاصلے پر اڑ رہے تھے، ان کو فائر سےخطرہ محسوس ہوا۔۔ دوسری طرف پاکستان نے اس ساری جگہوں کو پن آؤٹ کیا جہاں سے میراجز پر فائر ہوا، پیچھے جیفیز اڑے، دس ہزار پلس فٹ کی بلندی سے ان سارے مقامات کو لاک کیا اور پھر روس اور انڈیا کے سامان کے پرخچے اڑائے۔ بتایا جارہا کہ میراجز کے واپس جانے پر افغانی دہشت گرد ناچنے لگے تھے اور ان کی ناچ کے دوران ہی جیفیز آئے اور پھر وہ ناچ ہمیشہ کے لئے ادھورا رہا۔
2: دوسری خبر یہ کہ پرسوں ترسوں افغانستان نے اسرائیل اور انڈیا سے لےکر تین ڈرونز چترال کی سمت سے اڑائے تھے۔ جیفیز پر موجود میزائل سے پاکستان نے افغانستان کی طرف سے آنے والے ان ڈرونز کو kill کیا۔۔
یعنی جیفی صرف بمبار طیارہ ہی نہیں، محافظ طیارہ بن کر بھی کامیاب ہے۔
3: اسی دفاعی لائن کی ایک تیسری بڑی خبر یہ ہے کہ سعودیہ کے محاذ پر جیفی نے 151 کلومیٹر کے فاصلے سے اڑنے والے میزائل کو kill کردیا۔
یہ بھی بہت بڑی کامیابی شمار کی جاتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہمارا اسلحہ ٹیسٹ ہورہا ہے اور اپنے آپ کو قابل اعتماد ثابت کررہا ہے۔۔ جیفی کے اوپر ترکی سے لئے جیمنگ پاڈ نے اسے دنیا کا بہترین مگر سستاترین کِلر جہاز بنادیا ہے۔۔اور اب یہ ایف سولہ سے زیادہ قابل اعتماد اور جے10 سی کے برابر جگہ لے رہا ہے۔۔ فالحمدللہ
مکہ معاہدے کے بعد بدر معاہدہ
پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا نے دوحہ قطر میں چار ملکی ملٹری پروڈکشن تعاون کے بدر معاہدے پر دستخط، فوجی صلاحیت بڑھانے کے لیے چاروں ملک تکنیکی، ریسرچ، ڈویلپمنٹ اور پروڈکشن میں تعاون کریں گے
...........
ہمارا ریجن شفٹ لے رہا ہے، تھریٹ بڑھ رہا ہے تو دفاعی تعاون بھی بڑھ رہا، جتھے رولا ہوسی اوتھے ڈھولا ہوسی ، جہاں مامتا وہاں ڈالڈا
اگر آپ سمجھنا چاہیں تو ان معاہدوں کی وجہ سادہ سی ہے، امریکن ویسٹرن بلکہ چینی اور روسی بھی نہ سورس کوڈ دیتے نہ مکمل کنٹرول تک رسائی دیتے ہیں، ترکی ناٹو گریڈ اسلحہ بناتا ،پاکستان نے اپنی صلاحیت انڈیا سے لڑائی میں ثابت کر دی کہ رنگ برنگ کی ٹیکنالوجی ہمارے ہاتھ لگتی تو ہم ساری پر جگاڑ لگا کر اسے دیسی کر لیتے پھر فرنچ رافیل بھی گرتے اور روزی ایس چار سو بھی ٹھک جاتا
ہمارے پاس مارکیٹ کرنے بیچنے کو جو ہے اسی کی طرف ضرورت مند متوجہ ہو رہے
....
ہمیں کیا ملے گا والوں کو جواب یہ ہے کہ اس سب میں آپ کے پاس دینے کو ہے کیا ،علم، صلاحیت، ہنر چھوڑیں سمجھ بھی ہے ؟
ہمارے ڈیفنس کا خرچہ ہی کم ہو جاوے دفاعی پروڈکشن کی کمائی اور معاہدوں سے آدھا یا زیادہ پورا ہونے لگے تو سپیس ملے گی
جس قسم کے انڈستریل، معاشی، علمی بحران کا ہمیں سامنا اس میں یہ بھی کامیابی ہے
اس کا نقصان یہ ہے کہ سول اور سیاست کے لیے سپیس کم ہوتی جا رہی، جس کی ایک وجہ یہ بھی کہ جن ملکوں سے قربت ہو رہی سب اتھاریٹیرن ماڈل والے ملک ہیں
جمہوری دنیا بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی، شک ہے تو ٹرمپ کا امریکہ دیکھ لیں. پکچر اب بھی باقی ہے دوست
دنیا کا سب سے طاقتور سنگل انجن نان سٹیلتھ فور پلس پلس جنریشن جے ٹین سی ڈریگن فائٹر ایئرکرافٹ
کیا آپ جانتے ہیں۔۔۔
یہ پاکستان ائیر فورس میں پہلا طیارہ ہے جسے AESA ریڈار سے لیس کیا گیا، ایسے ریڈارز کو جیم کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
یہ پاکستان کا پہلا طیارہ ہے جس میں IRST ہے، یہ سسٹم طیارے کو ریڈار استعمال کیے بغیر مخالف طیارے کو دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
یہ پاکستان کا پہلا طیارہ ہے جس کے اندر جارحانہ الیکٹرانک وارفیئر سسٹم نصب ہے جس کی مدد سے یہ مخالف طیارے کے میزائل اور ریڈار کو گمراہ کر سکتا ہے۔
یہ پاکستان کا پہلا طیارہ ہے جس میں سٹیلتھ خصوصیات موجود ہیں۔
یہ پاکستان کا پہلا لڑاکا طیارہ ہے جس میں فضا سے فضا میں دو سو کلومیٹر کے لگ بگ رینج تک مار کرنے والے میزائل نصب کیے گۓ ہیں۔
اس سے پہلے یہ چیزیں پاکستان کے کسی لڑاکا طیارے میں نہیں تھیں، اگرچہ اب ان میں سے کچھ چیزیں جے ایف 17 بلاک تھری میں شامل کی گئ ہیں، اس معاملے میں پاکستان کا ایف سیون پی جے اور ایف سولہ ایک ہی لائن میں نظر آتا ہے جن کا اصولاً اب کوئ کام نہیں بنتا۔
(افسوس والی ایموجی چھ بار)
اسرائیلی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی ایف 15I سٹرائیک ایگل
تصویر میں یہ طیارہ تین عدد بی ایل یو 109 بنکر شکن بموں سے لیس ہے، اس سے ملتا جلتا بم جی بی یو 31 بھی ہے۔
یہ 900 کلوگرام وزنی بم ہے جسے زیر زمین بینکرز کو پینٹریٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، امریکا نے یہ بم اسرائیل کو غزہ میں استعمال کے لیے فراہم کیے تھے، بعد میں یہ بم لبنان اور ایران کے خلاف بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔
لبنان میں سید ن ــصــ ر اللہ کو شہید کرنے کے لیے یہی بم استعمال ہوۓ تھے۔
مگ-29 لڑاکا طیارے کا آر ڈی 33 انجن
آر ڈی 33 جیٹ انجن اصل میں لائٹ ویٹ طیاروں کے لیے بنایا گیا تھا، اسے سب سے پہلے سویت یونین کے بنے ہوۓ مگ 29 میں نصب کیا گیا، مگ 29 میں ایسے دو انجن نصب ہوتے ہیں۔
بعد میں اس انجن کا ایک موڈیفائڈ ورژن بھی بنایا گیا جسے آر ڈی-93 کا نام دیا جاتا ہے، یہ انجن ہمارے جے ایف-17 طیاروں میں نصب ہے۔
ہمارے تھنڈر کا انجن زیادہ سے زیادہ 85kN تھرسٹ پیدا کر سکتا ہے۔(آفٹر برنر کے ساتھ)۔ اگر یہ انجن فل تھرسٹ کے ساتھ استعمال کیا جاۓ تو یہ 2200 گھنٹے تک کارآمد سروس دی سکتا ہے۔
روس اپنے آر ڈی-33 کا ایک آپگریڈڈ ورژن بھی بنا چکا ہے جو ٹی و نوزلز سے لیس ہے۔
مگ-29 لڑاکا طیارے کا آر ڈی 33 انجن
آر ڈی 33 جیٹ انجن اصل میں لائٹ ویٹ طیاروں کے لیے بنایا گیا تھا، اسے سب سے پہلے سویت یونین کے بنے ہوۓ مگ 29 میں نصب کیا گیا، مگ 29 میں ایسے دو انجن نصب ہوتے ہیں۔
بعد میں اس انجن کا ایک موڈیفائڈ ورژن بھی بنایا گیا جسے آر ڈی-93 کا نام دیا جاتا ہے، یہ انجن ہمارے جے ایف-17 طیاروں میں نصب ہے۔
ہمارے تھنڈر کا انجن زیادہ سے زیادہ 85kN تھرسٹ پیدا کر سکتا ہے۔(آفٹر برنر کے ساتھ)۔ اگر یہ انجن فل تھرسٹ کے ساتھ استعمال کیا جاۓ تو یہ 2200 گھنٹے تک کارآمد سروس دی سکتا ہے۔
روس اپنے آر ڈی-33 کا ایک آپگریڈڈ ورژن بھی بنا چکا ہے جو ٹی و نوزلز سے لیس ہے۔
اُدھر صورت حال تیزی سے بگڑتی جا رہی ھے - جنگ پاگل پن کے مراحل میں داخل ہو چکی ھے- صنعاء میں سعودی عرب نے تیل کے ذخائر پہ حملہ کر دیا ھے اور جواب میں حوثیوں نے آرامکو ہیڈ کوارٹرز اور ریاض ائیرپورٹ کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کی دھمکی دی ھے - پہلے ہی ائیرپورٹ بند ھے- اور سعودی عرب اسے روک نہیں پائے گا-یہ بڑی تباہی لائے گی -
اسرائیلی ایڈوائزر امریکیوں کے ساتھ اب سعودی عرب میں آ بیٹھے ہیں اور محمد بن سلمان کسی کئ نہیں سن ریا بلکہ پاکستان اور ترکی کو جنگ میں گھسیٹنے کی پوری کوشش کر رہا ھے
اُدھر ٹرمپ نے آج کہا ھے پاکستان اور ترکی نے سعودی فوج روانہ کر دی ھے ( جھوٹا سالا) جبکہ پاکستان کی فوج موجود ھے مگر دفاع کے لیے صرف ، حملے کے لئے بلکل بھی نہیں -
محمد بن سلمان اپنے خصوصی ترین گارڈز کے ساتھ ایک سے دوسرے بنکر جا رہا ھے - مسئلہ اسے اندر سے بغاوت کا ھے-
صورت حال آؤٹ آف کنٹرول ہو چکی ھے یعنی افراتفری کا عالم ھے -
سعودی عرب نے امریکا سے ایک ہی دن میں دو بار ، پاکستان ترکی سے بار بار ، فرانس ، برطانیہ اور مصر کے علاوہ شام سے بھی مدد مانگی ھے- اور اب چین سے مدد طلب کی ھے-
حالانکہ بہت آسان ھے- اتنی دنیا سے مدد مانگنے کے بجائے ایک فون اُٹھائیں اور حوثیوں کو کہیں کہ تم جانو تمھارا ملک جانے آؤ جنگ بندی کرتے ہیں اور اچھے پڑوسیوں کی طرح رہیں گے-
صرف ایک فون کال آپکو بیسیوں فون کالز سے بچا سکتی ھے لیکن اس ایک فون کی راہ میں بڑی انا حائل ھے-
مجھے اس پہ جون ایلیا کا ایک خوبصورت شعر ہمیشہ یاد آتا ھے!
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی
4 دن یہ خبریں چلیں گی "گورنر کنڈی نے یہ کر دیا وہ کر دیا ، فلاں نوٹس ڈھمکاں نوٹس ، شہباز اسپیڈ کے بعد کنڈی اسپیڈ" وغیرہ وغیرہ، تقریبا 2 ماہ بعد کہنا شروع ہو جائیں گے کہ PTI نے تباہ کر دیا، پھر اگلے دو تین سال کیلئے یہی قاعدہ پڑھتے رہیں گے
شرط لگا لیں
امریکہ میں انتہائی خطرناک لوگ اقتدار میں ہیں- جو مزھبی مالیخوئئے کا شکار ہیں- جے ڈی وینس کو مستقبل کا امریکی صدرات کا امیدوار ھے ایک لڑکے کو انٹرویو دیا ھے-
اس انٹرویو میں دجال ، عیسی کی آمد ، اپنے ہاتھوں دنیا کا خاتمہ ، ڈارک انرجی اور پتہ نہیں کیا کیا الوہی باتیں کی ہیں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک 22 سالہ لونڈے کو اس پوڈکاسٹ انٹرویو میں مذہب، دجال، آخری زمانے، عالمی رہنماؤں اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا-
وینس کے مطابق، وہ اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ دجال (Antichrist) پہلے ہی ہمارے درمیان موجود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں دیکھ کر انہیں حیرت نہیں ہوگی اگر دجال ہمارے درمیان چل رہا ہو-
آخری زمانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آیا ہم اس دور میں داخل ہو چکے ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق، آخری زمانہ چند ماہ بعد بھی آ سکتا ہے اور ہزاروں سال بعد بھی- ان کے مطابق، اگر ان کے کام کا نتیجہ آخری زمانے کی آمد ہو تو وہ اسے قبول کریں گے-
وینس کی گفتگو کا ایک اور اہم پہلو عالمی رہنماؤں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں سے متعلق تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ملاقاتوں میں، جب رہنما مختلف معاملات پر گفتگو کرتے ہیں اور اپنی آرا پیش کرتے ہیں، تو انہیں ایک خاص قسم کی روحانی تاریکی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے الفاظ کا مفہوم تھا کہ ایسی کیفیت ان کے اندر خطرے کی تمام روحانی گھنٹیاں بجا دیتی ہے اور انہیں محتاط رہنے کا احساس دلاتی ہے۔
انہوں نے تاریخی میدانِ جنگ گیٹسبرگ کا ذکر کرتے ہوئے بھی وہاں محسوس ہونے والی ایک تاریک روحانی کیفیت کی بات کی، جسے انہوں نے جنگ میں ہونے والی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے تناظر میں بیان کیا۔
سچ کہوں تو یہ delusional لوگ ہیں- یہ ویسے ہی لوگ ہیں جنہیں اشارہ ہو سکتا ھے کہ اب بٹن دبا کر دنیا ختم کر دو-اسے تاریکی اور پتہ نہیں کیا کیا دماغی خلل ہیں
دنیا کا مستقبل ہولناک ھے
اس وقت سب جنگوں سے خطرناک جنگ یمنی حوثیوں اور سعودی عرب کی چل رہی ھے- آپ کا حق ھے آپ ہمارے تجزئیے کو مسترد کر دیں مگر حالات سعودی عرب کے بہت خراب ہیں - باب المندب سعودی عرب کے لیے بند ھے-اس کے ایئرپورٹ اور ریفائنریز یمنی حوثیوں کے نشانے پہ ہیں- سب سے بڑا مسئلہ یہ ھیکہ سعودی عرب کے پاس 900 سو فائٹرز جیٹ ہیں لیکن لڑنے کی خواہش نہیں- دوسری طرف زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والے حوثی ہیں -،جن میں لڑنے کی خواہش ھے-انکے پاس سعودی عرب ، اسرائیل اور امریکہ سے جنگ لڑنے کا مکمل تجربہ موجود ھے اور انہی تینوں کو نہیں بلکہ مصر کو بھی شکست دے چکے ہیں- انہیں سعودی عرب ، اسرائیل اور امریکہ نے ستایا ہوا ھے - مگر وہ اب مکمل فتح تک جنگ روکنے والے نہیں-
یہ جنگ خطرناک کیوں ھے؟ کیونکہ سعودی سلطنت گرنے کا خطرہ ھے اور سعودی سلطنت گر گئی تو سارے عرب شیوخ ریت کا ڈھیر ثابت ہونگے- اور یہ دنیا کے لئے بہت برا ہو گا اور پاکستان کے لئے بھی اچھا نہیں ہو گا-
پاکستان اور ترکی اس بات کو سمجھتے ہیں اسی لیے محمد بن سلمان کو سمجھا رہے ہیں- مگر محمد بن سلمان جنگ سے پہلے کی حالت پہ جانا چاہتا ھے - یعنی حوثی جو فتوحات حاصل کر چکے ہیں وہ چھوڑ دیں- مگر جیسے ایران ہرموز سے پیچھے نہیں ہٹ رہا اسی طرح حوثی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے-
جنگ ختم ہو گی تو حوثیوں کی شرائط پہ- ورنہ انکا کیا جاتا ھے- وہ تو لڑتے رہیں گے- پہلے سے بھوکے ننگے ہیں- لاکھوں آپ نے پہلے ہی قتل کئے ہیں- چند لاکھ اور مار دیں-
نقصان سعودی عرب کا ھے- جو تیز رفتاری سے ترقی کر رہا تھا- وژن 2030 کی طرف جا رہا تھا- اسے بہت نقصان ھے-
امریکہ کا روس سے تیل کی خریداری نے آجتک کا امریکی بیانیہ بحر اوقیانوس میں غرق کر دیا ! اس سے بڑھ کر خوشی کی بات ھے ہمارا ایک ایک بیانیہ درست ثابت ہو گیا ھے-
پہلا بیانیہ امریکہ تیل میں خود کفیل ھے اسے تیل کی کوئی ضرورت نئیں جھوٹا نکلا
دوسرا بیانیہ کہ میں مسمی ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل پہ قبضہ کر لیا ھے اور اب امریکہ دنیا کا تیل کا سب سے بڑا بیوپاری ھے
تیسرا بیانہ کی میں مسمی ٹرمپ جنگ جیت چکا ہوں اور ہرمز کھلا ھے-
چوتھا بیانہ کہ روس یوکرین سے جنگ ہار چکا ھے-
پانچواں بیانیہ کہ میں مسمی روس پہ ٹیرف لگا دوں گا تو روس جنگ سے باز آ جائے گا -
چھٹا بیانیہ کہ دنیا روس سے تیل نہ خریدے - انڈیا روس سے تیل نہ خریدے - ایران کی روس مدد نہ کرے -
امریکی عوام پہ مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے ٹرمپ مجبوری کی آخری حدوں تک گیا ھے نومبر الیکشن کے لئے لیکن نومبر کے بعد اس نے دوبارہ مہنگائی کا بٹن دبا دینا ھے-
سب سے بڑھ کر خوشی کی بات یہ ہیکہ ٹرمپ کی اس ایک حرکت سے ہمارا ایک ایک بیانیہ درست ثابت ہو چکا ھے-
اسکی وجہ یہ نہیں کہ ہم کوئی بہت قابل ہیں- اسکی وجہ یہ ھیکہ ہم بہت سے اعلی پائے کے امریکی اور یورپی دانشوروں کو روزانہ رات کو سن کے سوتے ہیں- ھر چالیس منٹ آفس جانے کے چالیس منٹ واپس آنے کے اور کم از کم دو گھنٹے ان لوگوں کو سنتے ہیں جن میں کچھ کے لنک میں نیچے کمنٹس میں دے رہا ھے- انکے بیس سے پچیس منٹ کا پروگرام ہوتا ھے- آٹھ دس لوگوں کو دن میں سنا جا سکتا ھے-
پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی روش پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ سڑکیں بند کرکے، معمولاتِ زندگی مفلوج کرکے اور ہر اختلاف کو دھرنے یا لانگ مارچ میں بدل کر عوام کی خدمت کا دعویٰ کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔ آخر عام شہری کس بات کی سزا بھگتے؟ مزدور کی روزی، طالب علم کی تعلیم اور مریض کی اسپتال تک رسائی کسی جماعت کی سیاسی ضد سے کم اہم نہیں۔
سیاسی قیادت کی ذمہ داری دلیل، برداشت اور شائستگی کو فروغ دینا ہے۔ گالم گلوچ، مخالفین کی تضحیک اور اشتعال انگیز زبان سے وقتی تالیاں تو حاصل کی جاسکتی ہیں، مگر سنجیدہ سیاست نہیں کی جاسکتی۔ جب قیادت اختلاف کو دشمنی بنا کر پیش کرے تو کارکنوں سے تحمل کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے؟
اداروں کے فیصلوں پر سوال اٹھانا جمہوری حق ہے، لیکن تنقید کو بے بنیاد الزامات، تضحیک اور اجتماعی بدنامی میں بدل دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق کبھی اداروں سے حمایت مانگنا اور کبھی انہیں تمام مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانا اصول پسندی پر سوال اٹھاتا ہے۔ ایسی بیان بازی ملک مخالف حلقوں کو بھی اپنے بیانیے کے لیے مواد فراہم کرسکتی ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کو واضح کرنا ہوگا کہ اس کی ترجیح عوام کے مسائل کا حل ہے یا مسلسل سیاسی محاذ آرائی۔ عوام سے قربانیاں مانگنے والی قیادت پہلے اپنی کارکردگی، فیصلوں اور طرزِ سیاست کا حساب دے۔
The only good thing happening right now after the emergency in KP.بریکنگ: کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی ۔ اسلام آباد میں کنٹینر ہٹانے کا عمل شروع ہو گیا سیرینا چوک میں کرینیں آگئیں۔۔
🚨 ایلون مسک نے وائٹ ہاؤس کے اندر، ٹرمپ کے سامنے ایک بے مثال دھماکہ خیز بیان دیا: 💥🏛️🇺🇸
"اب سے آپ کو کسی کمپنی کے لیے کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی.. میں سیارہ زمین پر ہر شخص کو مشہور شخصیات کی طرح (شاندار آمدنی) سے لطف اندوز کراؤں گا!"
مسک نے حکومتوں کی طرف سے صرف زندہ رہنے کے لیے دی جانے والی "یونیورسل بیسک انکم" کے روایتی خیال کو ختم کر دیا، اور نئے سرمایہ داری کے لیے اپنے خوفناک وژن کو پیش کیا:
📊 مسک کے بیان کے مطابق ہر شخص امیر کیسے بنے گا؟ 👇
🚨 إيلون ماسك يُفجّر قنبلة غير مسبوقة من داخل البيت الأبيض وأمام ترامب مباشرة: 💥🏛️🇺🇸
"لن تحتاج إلى العمل لحساب أي شركة بعد الآن.. سأجعل كل إنسان على كوكب الأرض يتنعم بـ (دخل خيالي) مثل المشاهير!"
ماسك ينسف الفكرة التقليدية للـ "الدخل الأساسي الشامل" التي توزعها الحكومات للبقاء على قيد الحياة، ويقدم رؤيته المرعبة للرأسمالية الجديدة:
📊 كيف سيصبح الجميع أثرياء حسب تصريح ماسك؟ 👇
ضع التغريدة في المحفوظات لمراقبة التحول القادم 📌
ایمرجنسی پلس گورنر راج کا فیصلہ پہلے سے ہی کر لیا گیا تھا، ایڈوائزر کی فہرست بھی تیار تھی۔۔۔دیکھتے ہیں یہ فیصلہ وفاق کے لیے کیسا ثابت ہوتا ہے، سنا ہے اگلی باری سندھ کی ہے۔