@MuradSaeedPTI بہت ہی خوبصورت بہترین پیغام دیا ہے کےپی کے حکومت سمیت سہل آفریدی کو بھی
اور تمام پی ٹی آئی کے لیدر شف کو بھی کہ بیغرتو تمھارا عزتوں کا جنازہ نکال دیا ہے اب بھی تم لوگ ان کی چڈو میں بیٹھے ہو
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
جب عمران خان کو پتہ چل گیا تھا کہ باجوہ رجیم چینج کے پیچھے ہے تو اسے ہٹانے کا رسک لے لیتا۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوجاتا؟ پارٹی توڑ کر مینڈیٹ چھین کر اسے سارے خاندان سمیت قید تنہائی میں ڈال دیا جاتا۔ وہ تو آج بھی ہے۔ قتل کرنے کی کوشش کرتے ؟ وہ بھی ہوگئیں۔
عاصم منیر کی تعیناتی کے وقت سمری روکتا ، عدالت جاتا اسے پتہ تھا عاصم منیر کے شریف خاندان سے معاملات طے ہوگئے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوجاتا ؟ پارٹی توڑ کر مینڈیٹ چھین کر خاندان سمیت قید تنہائی میں ڈال دیا جاتا۔ وہ تو آج بھی ہے۔
تحریک انصاف میں جان ہوتی تو آٹھ فروری فوج کا کمزور ترین لمحہ تھا۔ عوام کو موبلائز کرتے اور ان حالات میں فوج سے کچھ نا لچھ لے لیتے۔ وقت گزر گیا۔ پختونخواہ میں حکومت ملی پانچ سات انکوائری کمیشن بناتے ، کچھ افسران کو بلاتے رہتے ، انکو پھیرے لگواتے رہتے ، انکی لائن حاضر رکھتے ، آج انہیں ڈر ہوتا کہ یہ تنگ کریں گے۔ موقع ملنے پر تنگ نہیں کیا اب وقت گزر گیا ہے۔ اب انہیں پتہ ہے یہ کچھ نہیں کرسکتے۔ لہذا کسی پر خوف نہیں۔
عاصم منیر جگہ جگہ پھنسا ہوا ہے۔ لیکن وہ کٹھ پتلی جمہوریت کا پردہ بنا کر اسکے پیچھے چھپے رہنا چاہتا ہے۔ اگر تحریک انصاف قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے علیحدہ ہوتی ہے تو اس پارلیمنٹ کی وقعت ہی ختم ہوجائے گی۔ کٹھ پتلی جماعتوں کی رہی سہی ہوا بھی نکل جائے گی۔ اب اگر چھ مہینے یا سال بعد اسمبلیاں چھوڑتے ہیں اور پھر کہیں کہ دیکھو اسمبلیاں چھوڑ دیں کچھ نہیں ہوا۔ نہیں ! تب تک وقت گزر گیا ہوگا۔
سرپلس روکنے کا ، قانون سازی کرنے کا ، اسمبلی کو استعمال کرنے کا وقت گزر گیا ۔اب آکر اب کے حالات میں پرانی تصویر فٹ نا کریں۔ اگر حالات اس قدر خراب ہیں اور سختی اس قدر زیادہ ہے تو پھر تو فوج کہتی ہے آواز بھی نا نکالو ، نومئی پر معافی مانگو ، عاصم منیر کو خدا تسلیم کرو یہ سب بھی تسلیم کرلیتے ہیں پھر۔ خواب دیکھنے بھی چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ سختیاں کرنے والے لوگ تو چاہتے ہیں ہم خواب بھی نہ دیکھیں۔
@SohailAfridiISF انشا اللہ
اللہ تعالیٰ آپ کا حامی ناصر ہو
ہم سب آپ لوگوں کے ساتھ ہے ہمھارا دعائیں آپ سن لوگوں کے ساتھ ہے
اللہ تعالیٰ عمران خان صاحب ہم سن استقامت دے
جیت حق اور سچ کی ہوگی انشاءاللہ 🤲😍
@SaifSolicitor آپ سے گزارش ہے کہ جب تک کتا خاندان انسان نہیں بنتا آپ نے ان پیچھا کرنا ہی کرنا ہے ساتھ ساتھ شہرام ترکی خاندان بھی ہے ان دونوں زلیل کرکے چھوڑنا ہے شکریہ
@SaifSolicitor واحد بندہ جو بڑا بیغرت بھی ہے
بزدل بھی ہے
اپنے خاندان اپنے سمیت 4 عہدے دے چکے ہے
سکول مافیا بھی ہے
اسکا اصل باپ مولانا ہے جو ہر وقت ان کے جھولی میں بیٹھ جاتا ہے
Currently, my Aunties are still abducted. Family and lawyers have received no update on how they are, nor why they are incarcerated. Concerning my father, there is complete silence.
My brother and I have had no contact with him for more than six months. We do not even know the true state of his health.
Meanwhile, thousands of Pakistanis are peacefully taking to the streets to protest against his illegal and politically motivated imprisonment.
However, the people of Pakistan have not given up. No barricade, intimidation or repression can muzzle the people’s demand for justice and their democratic right to be heard.
There can be no lasting peace or stability while their democratic will is suppressed and their chosen leader remains behind bars.