گھر میں راشن ہو نہ ہو، پولیو کے قطرے ضرور پہنچ جاتے ہیں!
ایک بزرگ نے پولیو ٹیم سے س��ال کیا:
اگر میرے بچے کو کچھ ہو گیا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟
بات آگے بڑھی تو ایک اور سوال سامنے آیا:
جب غریب خاندان روٹی، دوا اور علاج جیسی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہیں، تو پولیو کے قطرے ہی ایسی چیز کیوں ہیں جو مفت اور بار بار ان کی دہلیز تک پہنچتی ہے؟
یہ بزرگ پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف ہونے کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ان کا سوال ان بنیادی سہولیات سے متعلق ہے جن کی ضرورت بھی غریب خاندانوں کو مسلسل رہتی ہے۔
شاید ایسے سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
کیا اس سے گھٹیا ٹاؤٹ گیری کوئی ہو سکتی ہے۔ بے شرمی کی بات یہ ہے کہ آپ نے سینیٹر مشتاق آج تک اون نہیں کیا۔ اور آپ ہمیں فلسطین کا مسلہ بتائیں گے۔ آپ جنرلز کے ٹاؤٹ تھے اور ٹاؤٹ رہیں گے۔
دونوں ٹک ٹاکرز پنجاب کالج سے ہیں۔ یہ جعلی معلومات فراہم کرنے والے عمران ریاض کی بہن سے رابطے میں تھے اور ان کا کہنا ہے کہ ہم نے بغیر کسی معلومات کے اس کیس پر بات کی اگر اب ہم معذرت خواہ ہیں۔