خواجہ آصف نے خود گواہی دی تھی,
آزاد کشمیر میں فوج نے جانے سے انکار کیا تھا,
آزاد کشمیر وہاں کے کشمیریوں نے آزاد کروایا تھا!!
اج کہہ رہا ہے کشمیری غدار ہے!!
شیخوپورہ میں ایک شخص گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا تھا وہاں پنجاب پلس کا ایک شیر جوان آیا اور اس شخص سے کہا میں وردی والا ہوں فرنٹ سیٹ پہ میرا حق ہے تم پیچھے بیٹھو اس بات پہ تکرار ہوئی اور پولیس والے نے اس شخص کی ٹانگ میں گولی مار دی ۔۔۔
عمران خان کو عاصم منیر کی جیل میں ناحق قید ہوئے 1052 دن ہو چکے ہیں۔ انہیں مزید اذیت دینے کے لیے تقریباً 8 ماہ سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں نہ خاندان سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور نہ وکلا و ذاتی معالجین تک رسائی ہے۔ ان تمام مظالم کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان اس نظام کے ساتھ کوئی ڈیل کر لیں۔ مگر عمران خان اس فسطائی رجیم سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
قاسم خان سوری
عمران خان نے خبردار کیا تھا جنرل باجوہ کو رجیم چینج معیشت کو لے ڈوبے گی، مگر افسوس کے فوجی قیادت میں سے کسی نے پاکستان کو ترجیح نہیں دی اور صرف اپنی چلائی۔ آج حکومت کے اپنے فگرز بتا رہے ہیں کہ معیشت ڈوب گئی۔ انٹرنیشنل کمپنیز اپنا کاروبار بند کر کے چلے گئی اور ملک کے ہونہار لوگ بھی گئے!
کل بروز منگل 2 بجے دوپہر سینیٹرز۔ایم این ایز۔ایم پی ایز۔ ٹکٹ ہولڈرز۔ پارٹی عہدیداران۔آئی ایل ایف۔آئی ایس ایف۔یوتھ ونگ۔وومن ونگ۔منیارٹی ونگ۔ٹریڈرز ونگ ہم سب اڈیالہ جیل کے سامنے اکھٹے ہوں گے، انشااللہ۔..
ڈی جی آئی ایس پی آر ہر ہفتے اتنے لمبے چوڑے بھاشن دیتا ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو پھر ادھر کیا کر رہے ہو؟ کیا یہ فوجی سربراہ کا کام ہے؟ وہ بھی تو سیاست کر رہے ہو،سفارت کاری بھی سیاست ہے جے ڈی وینس کہتا ہے اتنی میں نے اپنے بیوی بچوں سے بات نہیں کی جتنی جپھیاں ڈال کر فیلڈ مارشل بات کرتا ہے۔ خدا کا خوف کرو ان کی نظر میں تو ہر دلعزیز ہوجاؤ گے وہاں تمہیں رہائش جزیرے مل جائیں گے مگر تمہاری دھرتی ماں کا کیا ہوگا ؟ ایڈوکیٹ لطیف کھوسہ
زلالت ⛔
شہباز شریف یہاں اس ویڈیو میں ایرانی وفد کی منت سماجت کر رہے تھے امریکوں کے ساتھ مل کر ایک گروپ فوٹو ہو جائے لیکن عباس اراقچی نے شہباز شریف کو نظر انداز کر کے منہ پھیر کر دوسری طرف نکل گئے
”اس بجٹ میں وفاقی حکومت کے لیے کوئی گرانٹ نہیں پیش کیا جائے گا۔ اضافی رقم کی جو ڈیمانڈ کی گئی تھی تمام صوبوں سے نیشنل اکونومک کاؤنسل میں، اس کی آخری اتھوریٹی بھی عمران خان ہی ہیں“ سہیل آفریدی
افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عمران خان نے عام پاکستانیوں کو علاج کیلئے 10 لاکھ دیے لیکن بد قسمتی سے آج جیل میں اس کی آنکھ کا مسئلہ ہے ، بیماری کی حالت میں ہیں ہم اتنے ظالم ہیں کہ اس کو علاج کیلئے نہیں لے کر جاسکتے ۔@ShahidkhattakSk
مطالبہ رکنا نہیں چاہئیے 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر زیادہ سے زیادہ شور مچائیں
قاسم خان اقوام متحدہ میں 🚨
میرا والد ڈھائی سال سے ایک چھوٹے سے سیل میں کیڑے مکوڑوں کے ساتھ قید ہے۔ آخری بار جب میں نے ان سے بات کی تھی وہ ایک مختصر فون کال تھی جو وقت سے پہلے کاٹ دی گئی
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ ہی اسلام کی سمجھ۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔
اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے۔”
- عمران خان
#FreeBushraBibi
#FreeImranKhan
*پاکستان تحریک انصاف کا پٹرولیم قیمتوں میں معمولی کمی پر سخت ردِعمل*
پاکستان تحریک انصاف حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور اسے عوام کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیتی ہے۔ یہ نام نہاد ریلیف درحقیقت عوام کو دھوکہ دینے کی ایک ناکام کوشش ہے، جبکہ مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود حکومت نے دانستہ طور پر پٹرول کی قیمتوں کو غیر ضروری طور پر بلند رکھا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہونی چاہئیں، لیکن حکومت بھاری ٹیکسز، پٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات کے ذریعے عوام کی جیبوں پر مسلسل ڈاکہ ڈال رہی ہے۔
حکومتی وزراء محض بیانات اور تقاریر کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔ عملی اقدامات کے بجائے صرف زبانی دعووں سے عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے نمائشی اعلانات کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی واضح کرتی ہے کہ موجودہ حالات میں پٹرول کی قیمت 220 روپے فی لیٹر تک آنی چاہیے تھی، مگر حکومت نے جان بوجھ کر قیمتیں بلند رکھ کر عوام پر اضافی بوجھ ڈال رکھا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی عوام دشمن پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر پٹرولیم لیوی اور دیگر غیر ضروری ٹیکسز ختم کیے جائیں، قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے اور عوام کو حقیقی، فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جائے۔ بصورت دیگر یہ واضح ہے کہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں بلکہ صرف نمائشی اقدامات کے ذریعے وقت گزار رہی ہے۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ