میں نے اپنے گھر میں پانی کے لیے بور کروا رکھا ہے کیونکہ واٹر سپلائی نہیں۔ میں نے چوکیدار رکھا ہوا ہے کیونکہ سیکیورٹی نہیں۔ مہنگی ترین بجلی کا حل ہم نے سولر لگوایا حکومت اس کے پیچھے بھی پڑ گئی۔ سرکاری اداروں میں بھیڑیے ہیں، جب ریاست ہمیں کچھ دے نہیں رہی تو لے کیوں رہی ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
مریم نواز کے ادارے CCD ( کرپٹ کرمنل ڈیپارٹمنٹ ) نے 9 سالہ بچی قتل کر دی ! واقعے کے بعد چینلز اور پاکستانی صحافیوں کے گھر پیسے بھجوائے گئے اس لیے کوئی ریپورٹ نہیں آئی پھر آسٹریلیا کے چینلز نے ہم پاکستانیوں کو یہ خبر بتائی !
آج باغ شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس کے باوجود سیکڑوں عورتوں اور بچوں کا حیدری چوک میں شہدا کے جنازوں کی واپسی اور راولاکوٹ کے مظاہرین سے یکجہتی کے لیے مظاہرہ۔میں ان مزاحمت پسند عورتوں اور بچوں کے ساتھ موجود تھا۔
اس معصوم بیٹی کا قاتل بھی دیگر سینکڑوں بیگناہ مقتولین کی طرح عاصم منیر اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے، عوامی مینڈیٹ چوری کر کے عوام کے مسترد کردہ چوروں، ڈاکوؤں، کرپٹ مافیا کے حوالے پاکستان عاصم منیر اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ہی کیا ہے۔
#FascismUnderAsimLaw#PakistanUnderMartialLaw
عاصم منیر نے اپنے بھتیجے اور داماد کو فوج سے ریٹائرڈ کروا کر سول سروسز میں بھرتی کروا دیا تھا۔
اب عاصم منیر کا یہ کیپٹن ریٹائرڈ بھتیجا فوج سے کیپٹن کی پنشن اور مراعات کے ساتھ ساتھ سول سروسز سے ماہانہ 45 لاکھ روپے تنخواہ بھی لے رہا ھے
کوئی ھے جو ان ظالموں کو لگام ڈالے؟
ایک ہی کہانی آخر بدل بدل کر کتنی ہی بار کی جاسکتی ہے؟ فوج کو عمران خان سے جس تابعداری کی امید ہے وہ انہیں شریف و زرداری خاندان سے مل رہی ہے۔ فوج کو آج بھی لگتا ہے معاشی تباہی ایک دو وزیر بدلنے سے رک جائے گی اور داخلی بدامنی کو رینجرز کی کچھ مزید گاڑیاں روک سکتی ہیں۔ عمران خان کیساتھ نا تو فوج مذاکرات کررہی ہے نا کرے گی ، نا ہی عمران خان رہا ہونے والا ہے۔ جس دن عوامی ، معاشی ، عالمی یا سیاسی دباؤ میں سے ایک فوج پر حاوی ہوا اس روز عمران خان رہا ہوجائے گا۔
فوج گذشتہ چار سال سے یہ یہ بیانیہ بیچ رہی تھی کہ:
عمران خان نے اداروں اور عوام کے درمیان تقسیم (نفرت ) پیدا کی۔
آج کشمیر میں نہتے کشمریوں کے قتل عام سے یہ Myth (متھ) بھی ختم ہو گئی۔
پہلے صرف بلوچستان والے فوج سے نفرت کرتے تھے آج کے بعد وہ کشمیری بھی فوج سے نفرت کرے گا” جو کہتا تھا کشمیر بنے گا پاکستان “
یہ نفرت جو فوج نے خود پیدا کیں مبارک ہو عاصم منیر اور ن لیگ کو۔
پر امن مظاہرین کو جن ہسپتالوں میں علاج کے لیے لایا گیا، ان ہسپتالوں پر بھی فائرنگ کر کے لوگوں کو شہید کیا گیا ہے۔
کشمیر کے موجودہ آئی جی پولیس کے فارمولے پر چل کر ہزار بندہ مارنا ہے تو اپنے گھر سے شروعات کریں۔
ملک کی خاطر اتنی تو آپ کی بھی قربانی بنتی ہے۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
دیکھیں یہ آذاد منش انسانوں کا سمندر — 80,000 سے زائد بھوکے، پیاسے، بےقرار انسان، میرپور، سدھنوتی، باغ اور آذاد کشمیر کے ہر کونے سے راولاکوٹ میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اور ابھی مزید قافلے راستے میں ہیں۔
یہ کوئی معمولی جلوس نہیں۔ یہ ماؤں کی بےچینی ہے، باپوں کی آہِ بےاثر ہے، اور نوجوانوں کا وہ غصہ ہے جو اب صبر کی حدیں پار کر چکا ہے۔
کل یہ لوگ راولاکوٹ سے مظفرآباد کی طرف کوچ کریں گے — اور کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔
یہ احتجاج نہیں، یہ بغاوت ہے — ٹوٹے دلوں کی بغاوت، پاکستانی فوجی حکمرانوں کے ظلم کیخلاف بغاوت
Look at this sea of humanity—over 80,000 souls from Mirpur, Sudhnoti, Bagh, and across Azad Kashmir, united in Rawalakot. Not just them—more convoys are still pouring in from other regions, driven by the same anguish, the same cry for justice.
These aren't just protesters. They are mothers who have lost sleep, fathers who have run out of tears, and young men ready to sacrifice everything for their dignity. Tomorrow, they march from Rawalakot to Muzaffarabad. And nothing—absolutely nothing—will stop them.
This is not a protest anymore. This is a revolution of the broken-hearted asking for redemption from the Pakistani military establishment
عمران ریاض ، شہباز گل ، معید پیرزادہ ، صدیق جان ، وقار ملک ، وجاہت سعید سب دوکاندار ہیں۔ انکے یوٹیوب پر سپر سٹور چلتے ہیں۔ پھر احمد علی خان ، ابوبکر ، الہ دین جیسے فیس بک کے مارتا اونرز ہیں جنکی وہاں اچھی خاصی دوکانداری ہے۔ جٹ اٹھ سو چار جیسے ٹک ٹاک والے بڑے بڑے سیٹھ الگ ہیں۔ ہم جیسوں کے بھی چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر چلا رہے ہیں۔ ہماری پراڈکٹس میں خبر ، تجزیہ ، تبصرہ ، سیاست ، معیشت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں دس بارہ کروڑ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کی معلومات اور خبریں ان تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب ہمارے گاہک ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو مرضی کی خبر خریدتے ہیں۔ اپنی پسند ناپسند کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سارا دن ونڈو شاپنگ کرتے رہتے ہیں اور جو چیز نظر آئے وہ اٹھا کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اب یہ ساری مارکیٹ یہ ساری انڈسٹری اتنی بڑی آڈینس کو کیا بیچ رہی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیا بیچ رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ بیچ رہی ہے ، سہیل آفریدی کی ملاقات بیچ رہی ہے ، سرپلس بیچ رہی ہے ، بیرسٹر گوہر پر تنقید بیچ رہی ہے ، قیادت بیچ رہی ہے ، کور کمیٹی بیچ رہی ہے ، اسمبلی کا اجلاس اور اس میں ہونے والی تقریر بیچ رہی ہے۔ پھر اس میں یہ سیٹھ لوگ اپنی ذاتی پسند ناپسند ، سوجھ بوجھ ، لابئینگ یہ سب بھی بیچ رہے ہیں۔ اس دوران واردتیے ہر دوسرے تیسرے ہفتے ٹھنڈی ہوائیں والا ٹھیلا بھی لگا کر نکل جاتے ہیں۔
یعنی دس بارہ کروڑ ونڈو شاپرز کو ستر اسی فیصد پراڈکٹ وہ بیچی جارہی ہے جس کا امپیکٹ صفر ہے۔ یعنی بیرسٹر گوہر پر تنقید سے کیا حاصل ؟ سلمان اکرم راجہ پر تنقید سے کیا حاصل؟ کسی ملاقات پر تنقید سے کیا حاصل ؟ ادھر ادھر کی فضول لاتعداد چیزیں بہت سارا قیمتی وقت کھا جاتی ہیں۔
اب زرا سی دیر کو فرض کریں کہ درمیان میں سے تحریک انصاف کی قیادت ، اسمبلی ، حکومت والا سب کچھ نکل جاتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف اسمبلیوں سے الگ ہوجاتی ہے ، اس سسٹم سے بالکل آوٹ ہوجاتی ہے تو یہ سب دوکاندار کہاں جائیں گے؟ دوکانیں ٹھپ کردیں گے؟ گاہک کدھر جائیں گے؟ نیپال چلے جائیں گے؟
نہیں ! یہ دوکاندار پھر مختلف قسم کی پراڈکٹس بیچنا شروع کردیں گے۔ یہ حقیقی عوامی مسائل کا ذکر کریں گے۔ انکی وجوہات پر فوکس کریں گے۔ عوام میں شعور پیدا کریں گے۔ جو وقت اور توجہ سہیل آفریدی ، سلمان اکرم اور بیرسٹر گوہر پر ضائع ہوتا ہے یہ نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی کمزور اور بے بس قیادت کی آڑ میں جس طرح تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ان کی شمولیت سے نظام کو جو لیجٹمیسی حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ پھر وہ ہوگا جو آج کشمیر میں ہورہا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے اپنی مرضی کی قیادت چن کر نکلیں گے۔
تحریک انصاف کا اب ایوانوں ، اسمبلیوں میں موجود ہونا تحریک انصاف کے لیے عمران خان کے لیے اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ تحریک انصاف اتنی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرپارہی ، ان کے لیے علاج کی سہولت نہیں لے پارہی۔ الٹا کٹھ پتلیوں سے تعاون اور خفیہ ملاقاتوں کے سبب ذلیل ہورہی ہے۔
آج خلیل الرحمان قمر صاحب نے مجھے روتے ہوئے کال کی۔کہنے لگے میں اور میری بیگم رات سے یوں رو رہے ہیں جیسے ہمارے اپنے بچے مر گئے ہوں۔ہم نے سروس کے دوران 6 برس آزادکشمیر میں گزارے۔ کوٹلی میں شہید ہونے والا احسن سلیم میرے دوست کا بیٹا تھا جو آزادکشمیر میں 6 سالہ ملازمت کے دوران بینکنگ سیکٹر میں میرا کولیگ تھا۔جب میں نے تعزیت کے لیے اپنے دوست سلیم کو فون کیا تو اس 66 سالہ بوڑھے نے رو کر مجھے کہا کہ خلیل الرحمان قمر تو نے میرا بیٹا مار دیا ہے۔میں نے بطور پاکستانی اسے کہا کہ ہاں دوست میں بھی تیرے بیٹے کا قاتل ہوں۔میں بطور پاکستانی آپ سب کشمیریوں سے معافی مانگتا ہوں۔
بجٹ سرپلس کے عوض عمران خان کی لندن روانگی نہیں مانگ رہے۔ بجٹ سرپلس کے عوض کوئی ڈیل نہیں مانگ رہے۔ بجٹ سرپلس کے عوض کیسز کا خاتمہ نہیں مانگ رہے۔
بجٹ سرپلس کے بدلے میں انتہائی بنیادی انسانی حقوق میں سے دو خاندان سے ملاقات اور بیماری کا علاج مانگ رہے ہیں۔ اگر یہ بھی نا ہوپائے تو پختونخواہ میں اقتدار کا بھی کوئی جواز نہیں۔
" پاکستان آرمی کے ظلم کی انتہا "
رینجرز نے ہسپتال میں زخمیوں کو گولیوں مار کر شہید کر دیا ہے، یہ ہسپتالوں میں جا کر زخمیوں کو چن چن کر مار رہے ہیں اور لاشیں غائب کر رہے ہیں
(شوکت نواز میر کا پیغام)
عمران خان صاحب کی اہلیہ (سابقہ خاتون اول) کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کی فیملی کو سارا دن انتظار کروا کر ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
عمران خان اور بشری بی بی مکمل آئسولیشن میں ہیں۔ یہ ذہنی ٹارچر کر کے دونوں کو توڑنا چاہتے ہیں۔ تمام پی ٹی آئی، سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر بھرپور آواز بلند کریں۔
نعیم حیدر پنجوتھہ
@NaeemPanjuthaa