یہ وہ جدون خان ہے جس نے اپنی کرسی اور اپنے خلاف خواتین کو جنسی ہراساں کرنے پر یہ سارا ڈرامہ کروایا ہے کل اس لڑائی کے وقت یہ موقع پر موجود تھا اس کے لائے غنڈوں نے ڈاکٹر آئینہ کو یرغمال بنایا ہوا تھا اب سنا ہے یہ کہیں روپوش ہوا ہے
یہ ہے وہ جنسی درندہ جدون خان یہوتھیا جس نے آج سرحد یونیورسٹی میں سارا کھیل رچا
اس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے درجنوں الزامات تھے ڈاکٹر آئینہ نے اس کے خلاف بچیوں کی طرف سے شکایت کی جس پر اس نے ان کے دفتر میں ان پر حملہ کیا
ڈاکٹر آئینہ نے اس پر پولیس میں شکایت بھی جس پر اس نے تحریری معافی مانگی
جب اس کی حرکات پر اسے فارغ کیا گیا تو اس نے چند اسٹوڈنٹس کو ساتھ ملا کر پھر سے ہلڑ بازی کی تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھا جائے اور ان کرداروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے
یہ واسکٹ والا پی ٹی ائی کا یونیورسٹی کا صدر ہے اس مادرفروش اور معطل ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو اٹھا کر ان کے موبائل ضبط کئیے جائیں اور ان کا فرانزک ٹیسٹ کیا جائے،تو پتہ چل جائے گا یونیورسٹی میں فساد پھلا کر فوج کو بدنام کرنے کی سازش امریکہ میں بیٹھے بھگوڑوں نے کی ہے،،،،،
اگر وردی کے اندر کوئی دوسرے کی بیٹی بہن بچی بیوی کی عزت کی خاطر جان دے سکتا ہے تو کوئی وردی اپنی فیملی کی عزت کےلئے ہوائی فائر کر کے تمیز سکھا سکتا ہے کوئی فوجی، جج وکیل ڈاکٹر سیاستدان صحافی باپ شوہر اور بھائی بھی ہوتا ہے اگر مسلئہ عزت کا ہو تو تو ریکشن یکساں ہوتا ہے
Having said that, the man in the blue waistcoat must be investigated immediately. He appears to be an afghandu or manzoor pashtin supporter and a violence provocateur who deliberately escalated the situation and even tried to assault the officer in uniform.
آن ڈیوٹی وردی میں یونیورسٹی جا کر چند غنڈوں سے اپنی اہلیہ کی حرمت بچانے پر فوج نے تو اپنے آفیسر کو تحویل میں لے لیا مگر جن طلبا نے ایک خاتون ساتھ بدتمیزی کی اور تعلیمی ادارے میں فساد پھلانے کی کوشش کی انھیں حکومت کب گرفتار کرے گی؟ان کے خلاف کاروائی کب ہو گی؟