اگر آپکی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ صرف در نجات، رجب بٹ اور کرکٹ ہے، جبکہ اپنے ملک اور اپنے ادر گرد کے لوگوں کے بگڑتے حالات سے آپکو کوئی سروکار نہیں، تو پھر اپنی عقل پر فاتحہ پڑھ لیجیے۔
کیونکہ یہ صرف بے حسی نہیں، فکری زوال کی انتہا ہے!
قومیں صرف سیاست دانوں کی وجہ سے تباہ نہیں ہوتیں؛ جب عوام اپنے اردگرد کے مسائل سے نظریں چرا کر تماشوں میں مصروف ہو جائیں، تب زوال جڑ پکڑتا ہے۔
اور یاد رکھیے، جو معاشرہ اپنی ترجیحات کھو دے، اسکا زوال ہی زوال ہے۔
Asim Munir has lost, and the dire state of the economy is a testament to it. He could not break Imran Khan, but he nuked the economy and is now forcefully stopping people from saying it.
علم رکھنے کے باوجود بندہ نے پی ٹی آئی کی کمپرومائزڈ قیادت کے خلاف کبھی بات نہ کی ماسوائے شیرافضل مروت جیسے انجیکٹڈ فرد کے۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے کسی فوجی آمر کے ننگی یلغار کے سامنے اپنا تنظیمی ڈھانچہ براقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
میں نے بچپن میں ضیا کے سامنے پیپلزپارٹی اسی طرح بکھرتے دیکھی اور بھٹو کی قید کے صرف تین سے چھ ماہ میں اکثریت کارکن اور بڑے بڑے رہنما بشمول غلام مصطفی جتوئی جیسوں کے، لکھ کر دے چکے تھے بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر اکیلی تھیں ماسوائے معدودے چند کارکنان اور غیر معروف لیڈران کے۔ ضیا بھٹو کا مقدمہ آگے بڑھانے کے لیے تیار تھا۔
چونکہ ہمارا اصل موضوع سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ فوجی آمریت اور معاشرہ ہے سو پی پی کا قصہ یہیں چھوڑتے ہیں۔ ایک ہی سال کے اندر معاشرے میں جوہری تبدیلی آ چکی تھی۔ گلی محلے چوک بیٹھک چوپال کی گفتگو سے سیاست کا موضوع خارج ہوچکا تھا اسکی جگہ اسلام کا نفاذ لے چکا تھا فلم پس منظر میں چلی گئی تھی اسکی جگہ ٹی وی ڈرامہ لے چکا تھا ، کرکٹ مقبول ہوچکی تھی اور تبلیغی جماعت کی مقبولیت بے تحاشا بڑھ چکی تھی۔
پی این اے کی وہ جماعتیں جنہون نے بھٹو کے خوف سے ضیا کا ساتھ دیا تھا وہ اس تبدیلی پہ چونکیں لیکن بہت دیر ہوچکی تھی جب سیاست ہی دلچسپی کا موضوع نہ رہی تھی تو ان پہ کون دھیان دیتا ؟ یہ وہ ماحول تھا جس میں ضیا نے کامیابی سے بلدیاتی انتخابات کرا کے نئے سیاستدانوں کی ایک کھیپ تیار کی اب وہ صرف معاشرے ہی نہیں بلکہ بذات خود سیاست کو بھی “ ڈی پولیٹسائز” کرنے کے لئے تیار تھا۔
آپ سوچیں گے کہ پی پی بطور سیاسی قوت ہی ختم ہو چکی تھی تو ایسا ہرگز نہ تھا چالیس فیصد کے قریب ووٹ بینک اسکا تھا اور قائم تھا لیکن جب سیاست معاشرے کی دلچسپی کا موضوع ہی نہ رہا تو وہ کرتے کیا ؟ سکول میں ہمارے بہت سے اساتذہ بھی فوجی آمر کو غائبانہ طور پہ بھی احتراماً جنرل صاحب کہہ کر پکارتے، پرو پی پی اساتذہ طنزیہ مسکراہٹ سے جواب دیتے، سکول میں ایک آدھ مرتبہ اخبار سے جنرل ضیا کی تصویر پھاڑ کر تھوک پھینک کر جوتے سے مسلنے پہ میری شکایت لگی لیکن شاید فیملی کا حیا کرتے ڈنڈے نہ پڑے تنبیہہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔ پی پی والے خاموش تھے وقت کا انتظار کر رہے تھے کہ کب بدلے اور وہ نکلیں اور پھر اٹھاسی کے الیکشن میں نکلے بھی۔ سیاسی جماعتوں کے بس میں یہی ہوا کرتا ہے۔ اندرون سندھ البتہ مختلف تھا سیاست گفتگو کے موضوعات سے خارج البتہ نہ ہوئی تھی مزاحمت موجود تھی۔
اب ذرا آج کے دور سے موازنہ کریں ، پی ٹی آئی ، پیپلزپارٹی سے کہیں زیادہ سخت جان نکلی لیکن پھر بھی سیاسی جماعت ہے فرق البتہ یہ ہے کہ جرنیلوں نے جب دیکھا کہ پی ٹی آئی چھوڑنے پہ بڑے سے بڑا لیڈر صفر ہوجاتا ہے اور پی ٹی آئی میں ایک غیر معروف کارکن کو لیڈر بنانے کی صلاحیت ہے تو جماعت سے منحرف کرنے کا کاروبار چھوڑ کر مجبوراً کمپرومائز کرنے کا حل نکال لیا۔ بہرحال وہ ایک سیاسی جماعت ہے آج نہیں تو کل حالات کا جبر اس کو اور جرنیلوں کو کسی سیاسی فارمولا پہ متفق کر دے گا۔
ہمارا موضوع فوجی آمریت اور معاشرہ ہے اسی پہ فوکس کرتے ہیں۔ پچھلی فوجی آمریتوں اور موجودہ کے درمیان ایک بہت جوہری فرق بلکہ stark contrast یہ موجود ہے کہ سیاست معاشرہ سے خارج ہونے کی بجائے اس کی رگ رگ میں گھس چکی ہے۔ یہاں تک کہ معیشت ، تجارت، تفریح جیسے غیر سیاسی موضوعات بھی گلی محلہ چوک بازار بیٹھک چوپال اور اسکے جدید متبادل سوشل میڈیا کا موضوع بن چکا ہے۔
جاری ہے 👇
Sky's lead world presenter @SkyYaldaHakim has spoken to Imran Khan's sons, who described the conditions of their father's prison in Pakistan.
The former prime minister has been in prison since his arrest in August 2023 on corruption charges.
🔗 https://t.co/IjfNNgiDDV
Imran Khan’s sisters, along with ordinary people drenched in water in the dead of the night, have shown more resistance to the entrenched power structure than Nawaz Sharif did in his entire career.
long live the resistance! ✊🏼
یہ سب کیا دھرا عمران خان کا ہے
درست ہے۔ یہ سب واقعی عمران خان نے کیا ہے۔ اگر وہ جیل جانے کی بجائے بیرون ملک چلا جاتا، اڈیالہ رہنے کی بجائے خاموشی سے بنی گالا بیٹھ جاتا ، چھ آٹھ مہینے کے لیے اپنا اکاونٹ بند کردیتا ، تین سالہ خاموشی والا آپشن لے لیتا تو جو ہورہا ہے یہ سب نہ ہوتا۔ یہ سب واقعی عمران خان کا کیا دھرا ہے۔
وہ جو محب وطن کہلواتے تھے ، وہ جو خود کو اہل ترین ایماندار ترین اور کامیاب ترین کہلواتے تھے وہ غیرملکی طاقتوں کے مہرے ، وہ ناکام ترین اور بے ایمان ترین ثابت ہوئے۔ یہ سب عمران خان کا ہی تو کیا دھرا ہے۔ کیسی گندی ذہنیت تھی ، کیسے بے غیرت لوگ تھے جو بلیک میل کرنے کو ننگی ویڈیوز بناتے تھے ، ہم انکی چھاونیوں کے اونچے دروازوں پر لگی قرآنی آیات ہی دیکھتے رہے۔ سب ننگا کیا یہ عمران خان کا ہی تو کیا دھرا ہے۔
وہ جو صبح سویرے اخباروں میں بھاشن دیا کرتے ، شام ہوتے ہی ٹی وی پر چڑھ جایا کرتے۔ اشتہارات کی تصویروں کے زاویے ناپا کرتے ، ہمیں دینیات سکھایا کرتے ، وہ کیسے بے شرم، بے حس ، ضمیر فروش تھے یہ ہمیں علم ہوگیا۔یہ سب بھی تو عمران خان کا کیا دھرا ہے۔ ورنہ یہ لوگ تو ہمیں سچائی کے مینارے دکھائی دیتے تھے۔ جن میں پکوڑے رکھ کر بیچے جاتے ہیں ان اخباروں میں چار لکیریں پھیرنے والے یہاں دانشور بنے ہوئے تھے۔
یہ سب عمران خان کا ہی کیا دھرا ہے۔اگر وہ نہ ہوتا تو یہاں کوئی ڈیل ہوجاتی ، یہاں سے کوئی باہر چلا جاتا۔ چھ آٹھ مہینے کے لیے سوشل میڈیا اکاونٹ بند ہوجاتے۔ فوجیوں کی جھوٹی عزت قائم رہتی۔ قلم فروشوں کا جعلی بھرم قائم رہتا۔ اس نے سارا کام خراب کردیا۔ یہ سب کیا دھرا عمران خان کا ہی ہے۔
Imran Khan stands as the moral compass of a disoriented nation, the one figure who redefined patriotism as integrity rather than obedience, and turned self-respect into Pakistan’s most valuable national currency. Whether this nation can protect that currency amid tyranny will decide if Pakistan ever truly becomes sovereign.
اس ملک وچ۔۔۔
پنجابی وی وکیا
پشتون وی وکیا
بلوچ وی وکیا
سندھی وی وکیا
حاجی وی وکیا
نمازی وی وکیا
حافظ وی وکیا
حاجی وی وکیا
غازی وی وکیا
نمازی وی وکیا
شہید وی وکیا
پلید وی وکیا
ڈاکٹر وی وکیا
وکیل وی وکیا
عورت و مرد وکیا
کھسرا وی وکیا
نہی وکیا تے صرف عمران خان نیازی نہی وکیا۔
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2