لانگ مارچ کا کیا ہوگا؟
کشمیری مہینوں سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ کبھی سنا کہ کسی نے کہا ہو کہ آگے بڑھو ، ڈی چوک جاؤ ، اڈیالہ جاؤ ، مظفر آباد جاؤ ؟ کیا کبھی انہوں نے اپنی قیادت کو بزدل ، غدار ، چور اور نالائق کہا ؟ نہیں ! یہ کشمیر رابطہ کمیٹی کے پاس ایڈوانٹیج ہے۔ یہاں گھنٹہ نہیں لگاتے انسان کو مشکوک کرتے ہوئے۔ یہاں قصور دوطرفہ ہے۔ کشمیریوں کی قیادت نے اپنا آپ منوایا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت ویسی استقامت نہیں دکھا سکی۔ کشمیر کے عوام حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہیں باشعور کارکن ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ بندوق کی طاقت سے نہیں لڑ سکتے۔ یہاں آج بھی ہزاروں لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ سہیل آفریدی یا کوئی اور شخص پچاس ساٹھ ہزار نہتے لوگ ساتھ لیکر مسلح اور ظالم فوج سے لڑ سکتا ہے۔
رابطہ کمیٹی والا کام تحریک انصاف کرسکتی ہے۔ لوگوں کو شہید کروانےاور منتشر ہونے کی بجائے وقتی پسپائی اختیار کرلی جائے اور پھر اکٹھے ہوجائیں۔ ایک جگہ آپریشن شروع ہو تو وہاں سے واپس لوٹ جائیں۔ رابطہ کمیٹی کے پاس صرف راولا کوٹ ہے۔ تحریک انصاف کے پاس پشاور ، سوات ، خیبر ، لکی بہت سارے لانچنگ پیڈز ہیں۔
اسکے علاوہ پھر آپشن یہ ہے کہ لانگ مارچ صوابی سے اٹک داخل ہونے کی کوشش کرے۔ آگے فوج شیلنگ کرے ، کچھ لوگوں کو شہید کردے اور پھر لانگ مارچ منتشر ہوکر ختم ہوجائے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ لانگ مارچ پختونخواہ کی حدود کے اندر سڑکیں بند کرکے بیٹھ جائے۔ پنجاب سے رابطہ سڑکیں بلاک کردے تاوقتیکہ کہ نہایت بنیادی مطالبات یعنی عمران خان سے ملاقاتیں ، بزرگ کارکنان ، اراکین اسمبلی اور عمران خان کی بہنوں کی رہائی نہ ہوجائے۔ دوسرا آپشن قدرے زیادہ محفوظ ہے۔ لیکن اس میں بھی فوج وہی آپشن استعمال کرسکتی ہے جو فوج نے کشمیر ، مریدکے یا پھر ڈی چوک میں کیا۔ یعنی شیلنگ ، فائرنگ اور قتل عام۔یہاں ایک اور مسئلہ بلکہ شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سب سے بڑے صوبے میں کسی بھی قسم کی تحریک کا وجود نہیں ہے۔ جب تک ہر جگہ سے لوگ نہیں اٹھیں گے کچھ بھی فیصلہ کن نہیں ہوگا۔
باقی صورتحال وہی ہے۔ فوج پر عوامی ، ملکی ، بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ فوج ہر گزرتے دن کسی نئی مصیبت میں پھنستی ہے اور نئے طریقے سے ذلیل ہوتی ہے۔ لانگ مارچ فوج کے لیے درد سر بنا ہوا ہے اور فوج جلد از جلد اس پر کریک ڈاون کرکے اسے ختم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن تحریک انصاف پچھلے تین ہفتوں سے لگاتار لانگ مارچ کو یا اسکی خبر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک اسے فوج کی زد سے بچا کر رکھا گیا ہے۔ جتنا اسے کسی آپریشن سے یا کسی انجام سے بچا کر رکھا جائے گا یہ اپنا دباؤ برقرار رکھے گا اور فوج کے اعصاب کو بالآخر چٹخا دے گا۔
آپ کے وزیر اعلیٰ کو یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر آپریشن نہیں لگاو گے تو گورنرراج لگائیں گے یا آپ کو ناایل کریں گے۔
جب آپ کے آباواجداد انگریزوں کے کتے پال رہے تھے تو یہاں ایک آفریدی تھا جس نے اس وقت کے انگریز کے گھر میں جا کے اس کی بیوی کو اٹھایا تھا تو سوچو اگر ہمارے وزیر اعلیٰ کو آپ نے چھیڑا تو ہم آپ کے ساتھ جو کریں گے آپ کو سمجھ بھی نہیں آئے گی۔
کسی کا انتظار نہیں کرنا جیسے ہی گورنر راج لگے ایمرجنسی لگے آپ سب نے گورنر ہاوس کا گھیراو کرنا ہے، اس وقت تک گھیراو کرنا ہے جب تک اپنے وزیراعلیٰ کو واپس کرسی پر نہ بٹھائیں۔
جنید اکبر خان
عمران خان کے بہنوئی اور ڈاکٹر عظمی خان کے شوہر احد خان کی گفتگو
بانی پی ٹی آئی بھی غیر قانونی طور پر جیل میں بند ہیں،جو لوگ یہ سب کر رہے ہیں وہ بدقسمت لوگ ہیں ہمارے جتنے بھی ججز ہیں، چیف جسٹسز کی عمر 60 سال ہو چکی ہے،15، 20 سال کی باقی زندگی کے لیے اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں غلط طریقے سے پیسہ کما کر کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں سکون ملے گا؟ اللہ نے ان لوگوں کو قوم کو ٹھیک کرنے کا موقع دیا تھا، مگر یہ الٹے چل پڑے،آپ بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہنوں کو ہرا نہیں سکتے، احد خان
@Ali_MuhammadPTI بہت بڑا بےغیرت انسان ہے اپ نے نہیں دینا توناا دو کچھ دن خاموش نہیں رہ سکتے تھے گورنر راج لگے گا تو کونسی اسمبلی
اور تو ایا بڑا تیس مار خان یہ سیٹ اور ووٹ ہم نے عمران خان کے نام پہ اپکو دی ہے
ان شاء اللہ 8 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ جو قیادت خان صاحب کے بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتی، وہ مہربانی کرکے ایک طرف ہو جائے اور دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔
پارٹی کے کارکنان ان تمام قیادت پر نظر رکھیں جو صرف خانہ پُری کر رہی ہے، ان کی نشاندہی کریں اور آئندہ کے لیے ان کے ٹکٹوں اور عہدوں کی مخالفت کریں۔
پارٹی میں مزید یہ نہیں چلے گا کہ کچھ لوگ جیلوں میں ہوں، کچھ ہر روز ایف آئی آرز اور نااہلیوں کا سامنا صرف خان صاحب سے وفاداری کی وجہ سے کر رہے ہوں، جبکہ کچھ لوگ نہ کارکنان کا بوجھ اٹھائیں اور نہ ہی خان صاحب کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔
سہیل آفریدی صاحب کی نااہلی کی واحد وجہ عمران خان صاحب سے وفاداری ہوگی۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ خان کے وفاداروں کے خلاف فیصلے آنے کے بعد سب کو اس سسٹم سے نکلنا ہوگا۔
ہم پاکستان زندہ باد بولتے ہیں
ہم قومی ترانے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں
لیکن جس طرح آپ کی پالیسی چل رہی ہے اور جن لوگوں کو آپ نے مسلط کیا
اگر کل یہاں ہم نہیں ہوں گے
تو آنیوالی نسلیں پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگائیں گی
قومی ترانے کیلئے کھڑی نہیں ہوں گی
پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرائیں گی
جن کو آپ نے مسلط کیا ہے وہ پاکستان کو تقسیم کرنے جا رہے ہیں
ہم ان کو ایسا کرنے نہیں دیں گے
وزیراعلی سہیل آفریدی 🔥
اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی کیلئے تمام پاکستانیوں کے پاس یہ اخری موقع ہے نکلو اور اس ظالمانہ نظام یہ غلامی کی زندگی کا خاتمہ کرو ہم عوام ہیں ہمارے پاس طاقت ہے اور یہاں ہماری چلے گی پرامن احتجاج
لانگ مارچ میں شامل ہوں
یہ فوج ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو انڈیا سے زیادہ اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ہمیں کچلنے کے لیے دہشت گرد بناتی ہے۔ پختونخوا حکومت گرانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہو؟ تمہاری یہ ذہنیت کب بدلے گی؟ مجھے افسوس ہے، نہیں بدلے گی۔
تمہاری پالیسی پہلے دن سے یہ ہے کہ امریکا کی دلالی کرو اور ڈالر گھر لے جاؤ۔ 9/11 کے بعد امریکا ہماری معاونت کرتا تھا کہ افغانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کرو ۔ آج وہ معاونت ہمیں افغانیوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔
میں نے مشرقی پاکستان میں تمہیں نہتے بنگالیوں کو شکار کے شوق میں مارتے دیکھا ہے۔ وہ وزیرستان ہو یا تربت، سانحہ APS کا مجرم ہو یا دہشت گرد، وہ تمہارے گھروں میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں! اپنی دہشت گردی سے باز آ جاؤ۔
I’ve been instructed to call on the public not to attempt to march or protest nearby Adiala jail on 27 March. I’ve heard from sources that this may be used as an excuse for the establishment to launch a “counter” assault on the jail (Which my father is being held in), which could endanger his life. Please do not give them any reasons for “accidents” to happen to my father during the protest.
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
“I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation” Imran Khan (July 22, 2025)
Disgusting.
A peaceful protest is set to take place on the 27th. Yet the military plan to use it to make an example of anyone questioning their rule. They are planning a bloodbath.
I commend the brave souls who stand up for their country against this tyrannical regime.
Inshallah the rest of the world will speak up soon. I just pray it doesn’t take an atrocity to make them see how bad things are.
A very scary time to be a Pakistani.
This is a disgrace.
Now my Aunts Dr. Uzma and Noureen, along with my cousins Shershah and Shahrez have now been abducted as well.
They have broken into my aunties and cousins houses and forced them
into vehicles with no explanation.
No reasons for arrest have been stated.
No news has been released as to where they have been taken.
This is criminal behaviour. Inexcusable. The Pakistani people are petrified of their own leaders.
No upstanding nation should tolerate this criminal establishment. Intervention is now imperative.
The world MUST take action.
Look closely at this door.
The footprints from their boots are still there.
Last night, police personnel repeatedly kicked at my aunt Uzma Khan’s (@DrUzma_KhanPK) bedroom door until it gave way.
@Noreen_KhanPK
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with Members of his Family - Adiala Jail (July 1, 2025)
Note: This is a repost of the tweet from July 1, 2025.
“Instead of going through the formality of introducing a 27th constitutional amendment through a sham parliament, it would be better to openly declare a monarchy, because what exists today is outright dictatorship, forcibly imposed on the country.
The very foundation of Pakistan was laid on La Ilaha Illallah (There is no god except Allah), a declaration that liberates mankind from all forms of slavery. Our country was freed from British rule through immense sacrifices to establish a nation where every citizen would enjoy personal liberties. But the situation is completely the opposite. A mafia seeks to keep the entire nation enslaved. I am willing to endure solitary confinement in a dark prison cell, but I will never accept slavery. And that is my message to everyone: it is better to choose imprisonment than to live in such bondage. What is the value of freedom if, outside these walls, we are not truly free? Iqbal’s Shaheen (eagle) soars high, it does not live in servitude.
I give this call to the entire nation, especially to the workers and supporters of Pakistan Tehreek-e-Insaf: Launch a movement after Ashura against the tyrannical system that has gripped this country. For me, death would be better than accepting a system built on slavery.
Every attempt is being made to suppress my voice so that my message does not reach the people and no one dares to stand up against oppression. But I will resist tyranny until my very last breath. I have complete faith in my Creator that this shadow of injustice will soon be lifted from Pakistan.
There are four pillars integral to any democracy: the right to vote, the rule of law, moral integrity, and a free press. The 26th Constitutional Amendment has effectively dismantled all four:
1. The Right to Vote: A dictator has no need for public mandate; he governs through force. The illegitimate assemblies formed via Forms-47, and the subsequent distribution of reserved seats, have only reinforced the perception among the people that their votes hold no value.
2. The Rule of Law: The judiciary has been reduced to a subordinate department of the government. Courts are packed with handpicked judges, while independent judges have been silenced. This is a hallmark of martial law, not democracy.
3. Moral Fabric of Society: This amendment has buried all ethical values. Individuals who are not true representatives of the people now occupy seats in the assemblies. Horse-trading of assembly members continues with impunity, and even the judiciary operates under the thumb of this mafia.
4. Free Media: Under a dictatorship, the media is bound in chains. Freedom of expression has been entirely curbed. Independent journalists are being targeted, while the rest have been bought off.
Peaceful protest is a fundamental democratic and constitutional right. Yet, 26 of our MPAs were suspended for staging a protest in the Punjab Assembly. I commend Ahmad Bhachar and all PTI MPAs who had the courage to challenge these pharaohs. Until our 26 members are reinstated, our elected representatives should hold their own assembly outside. The Form-47-based assemblies do not represent the people, in any case.”