ہم جارح قوم نہیں ل��کن جب جارحیت ہو تو دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ، جذبہ ایمانی وشہادت سے لبریز ہر اک پاکستانی دفاعِ پاکستان کے لیئے ہمہ وقت تیار ہے
اب یہ استعفی دیں یا نہیں فرق نہیں پڑتا لیکن ان سے اب صوبوں کی بات کروانا شہری سندھ کی عوام سے زیادتی ہو گی ، کیونکہ انکی کریڈیبلیٹی تو اب منفی ہو گئی ہے ،یہ استعفی دیں تو نا اہل ہیں اور نہیں دیں گے تو پیپلز پارٹی کی بی کاپی ہیں کہ نااہلی کے باوجود استعفی نہیں دیتے
کمال صاحب کو سوچنا چاہئے کہ آخر ان سے غلطی ہوئی کہاں ہے کہ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود نہ عوام میں پزیرائی حاصل کر پا رہے ہیں نہ کوئ کام کر پارہے ہیں بلکہ مسلسل لعن طعن کا نشانہ بنے رہتے ہیں وقت ہے سوچیں اور جگہ جگہ پیش ہونے سے بہتر ہے اپنے محسن سے احسان فراموشی پہ معافی مانگ لیں
مولانا صاحب آگ لگنے کی وجہ ہی غیر منصفانہ تقسیم ہے ، جب ذمہ داری کا سارا بوجھ اک طرف پڑ جاۓ اور اسے منافع کا جائز حصہ بھی نہ ملے تو وہاں آگ بھی لگتی ہے اور دھواں بھی اٹھتا ہے ، جہاں تقسیم درست ہو وہاں کبھی تقسیم نہیں ہوتی پھر چاہے گھر ہو ،صوبہ یا ملک
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
مورخ تاریخ لکھے گا تو الطاف حسین سے انصاف کریگا۔مگر میرا یہ اصرار ہے کے بھائی کے ساتھ جو ھوا۔۔وہی بنتا تھا ایک تیسری دنیا کے جاہل مطلق مارشل لائی سماج میں جہاں اشرافیہ غریب کو ایسا ذہنی مسخر کرتی ہے کے وہ اپنے
گھوٹکی میرپور ماتھیلو میں اسکول کے 21 طلباء کو پڑھانے کیلئے 50 استاد باقی تعمیراتی کام کی باتیں بھی کمال ہیں۔
اگر اتنے بہترین DEO سندھ کے اسکولوں کا وزٹ کرکے ریکارڈز چیک کریں تو کیا ہوگا؟
پی ایس پی نے نو بال پہ فل ٹاس دی ہے ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی صاحب امید ہے آپ اچھا کھیلیں گے اور اب بال گراؤنڈ سے باہر ہو گی اور اگر اس بار بھی مصلحت سے کام لیا گیا تو آپ پارٹی چھوڑ کر گھر بیٹھ جائیے ورنہ کارکن اتنا مایوس ہے کہ وہ بیٹھ جاۓ گا
ایم کیو ایم پاکستان والوں !آپ سے دست بستہ درخواست ہے کہ یوں تماشہ نہ بنائیں جب پارٹی نہیں سنبھالی جا رہی تو خدارا چھوڑ دیجیۓ قوم خود دیکھ لے گی اس قوم کی ایم کیو ایم نام کیساتھ بہت جذباتی وابستگی ہے
اندرونِ سندھ سے آکر ہم پہ زبردستی حکمران بن کر نت نئے ٹیکس لگاتے ہیں قانوں سازی کے نام پہ کراچی والوں کو لوٹا جاتا ہے اور جو لٹنے سے بچ جاتا ہے اسے اندرونِ سندھ سے آۓ لوگ گن دِکھا کر لوٹ لیتے ہیں۔۔۔ شاباش کراچی والوں اسی طرح خود کو لٹواتے رہو کیونکہ تم لاوارث ہو
آج الطاف حسین ، آفاق احمد اور خالد مقبول صدیقی نے الگ الگ جگہ سے اک ہی پیغام دیا کہ شہری سندھ میں روا ظلم وستم اور نا انصافی کے ذمہ دار پیپلز پارٹی اور اسکے بانی ہیں ، جس دن تینوں اک مرکز سے یہ بات کہیں گے اسی دن پیپلز پارٹی دِنوں میں سمٹ جاۓ گی
کافی عرصہ بعد ایم کیو ایم پاکستان کے پلیٹ فارم سے کوئی معیاری بات ہوئی ، سوشل میڈیا انچارج کی حیثیت سے سبین غوری صاحبہ ��ے اچھی بات کی ، سوشل میڈیا آج کے دور کا ہتھیار ہے اس پہ موجود ہونا اور اسمیں مہارت رکھنا ضروری ہے
ایم کیو ایم نے تو اپنی حب الوطنی ثابت کر دی اور پاکستان کو باقاعدہ اپنے نام کے ساتھ لگا دیا اپنے لیڈر سے لا تعلقی اختیار کر لی جسکی کئی بار معافی مانگی گئی اب باقیوں کا دیکھنا ہے کیا رویہ رہتا ہے