اس بار امریکہ کو واقعی ٹکر کے لوگ ملے ہیں جو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب سے اس نے مرشد کے ساتھ ٹکر لینے کی کوشش کی ہے، تب سے اس کی عالمی سطح پر وہ برتری اور وقار آہستہ آہستہ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور اب وہ وقت نہیں رہا ۔
#IranWar
𝐑𝐄𝐌𝐈𝐍𝐃𝐄𝐑:
Let us revisit the Constitution of Pakistan
Let us remind that the armed forces are a tool of the state, not the state itself
Let us reiterate that the real power lies with the people
𝐋𝐞𝐭 𝐮𝐬 𝐫𝐞𝐦𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐩𝐞𝐨𝐩𝐥𝐞 𝐖𝐈𝐋𝐋 𝐫𝐞𝐢𝐠𝐧 𝐬𝐮𝐩𝐫𝐞𝐦𝐞
#FascismUnderAsimLaw
طالبان کی واپسی کب کیوں اور کیسے ہوئی؟ فاٹا کے علاقوں میں دوبارہ بدامنی کی بنیاد کس نے رکھی؟ سوات سمیت بونیر اور دیگر سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی طالبان کا خطرہ لیکن کیوں؟ مراد سعید کے سیکیورٹی اداروں سے سخت سوالات پر اس کو ملنے والی دھمکیاں!
سنئیے دوبارہ سر اٹھاتی دہشگردی کے پیچھے چھپے عناصر سے پردہ اٹھاتی مراد سعید کی گفتگو
How distasteful of DG ISPR to go all guns blazing against Imran Khan and PTI, just a day after IK appointed a more people’s choice CM in the province. The timing says it all.
COAS reportedly said yesterday that he “will not let it happen.” Under what law or authority, one wonders, perhaps under the newly codified #AsimLaw.
The DG’s press talk can’t sell narratives anymore. It’s now almost an established fact who the real “sahulatkar” of terrorists in Pakistan has been, and which institution remains the biggest beneficiary of everything from Iranian oil smuggling to luxury cars.
DG sb, it’s glaringly obvious, your boss is sowing seeds of division in Pakistani society. Your rhetoric has reduced to little more than thinly veiled Pashtun and Afghan bashing.
اخے ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں
بالآخر بلی مکمل طور پر تھیلے سے باہر آ گئی
عمران خان نے کہا تھا کہ پہلے خود حالات خراب کیے اور اب ملٹری آپریشن کے نام پر سب کچھ تحریک انصاف ��و خیبرپختونخوا میں کمزور کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے
اور
آج ڈی جی ISPR پشاور میں جا کر ا��لان کر رہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت قبول نہیں
یہ فیصلے تم نے نہیں عوام اور عوام کے منتخب نمائندوں نے کرنے ہیں
بلآخر آج فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانستان وفد بھیجا گیا۔
⁃وفد کی خبر ملتے ہی پانچ سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
⁃اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہیں ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
⁃میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون کیا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جائیں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
⁃دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
⁃پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
⁃طالبان غصہ آپ غصہ۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آ��اد کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں مظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
⁃واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
⁃نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی کے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
⁃ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا کر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا بتاؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ تو واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!
“In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure.
Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. The nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how?” -
Message from illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan (October 9, 2025)
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خ��افِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جار��ے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے ک�� “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
“The FIA sent a team to interrogate me for voicing my views on these matters:
- “Anti-state” content in my tweets
- Afghanistan and foreign policy
- “Asim Law”
- My comparison of Asim Munir’s actions to those of Yahya Khan that led to the Fall of Dhaka
- Psychological torture in jail
The very first question they put to me was why my Twitter account carries what they call “anti-state” content. I responded by reminding them that I am a former Prime Minister and I represent eighty percent population of Pakistani. I will speak on every issue that is in the interests of my people. I have every right to raise my voice for them. No power can strip me of this right, nor can anyone silence my voice on matters that concern the interests of my country and my people.
Their second question was why I repeatedly raise the issue of Afghanistan and foreign policy. My answer was that the prudent policies adopted during PTI's tenure ushered in an era of unprecedented peace in Pakistan, most notably in the tribal regions. Today, as military operations drag us back into turmoil, I cannot remain silent while my people are burned in the fire.
During PTI's term in government, Afghanistan was under the anti-Pakistan Ashraf Ghani administration. The Afghan NDS, working in close collaboration with India, was hostile to Pakistan. Even then, we engaged them in dialogue. I personally went to Afghanistan and invited Ashraf Ghani to Pakistan in the interest of peace. This restored peace to the tribal areas and, after a long time, an environment of stability began to take hold there. The then ISI also supported our policy. But the moment Asim Munir assumed command, he turned to threatening the new pro-Pakistan Afghan government and set out to destabilize the situation. Afghan refugees with three generations of roots here were expelled by force, while drone strikes shattered relations between the two nations and destroyed the hard-won peace in Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas. There can be no peace until all four stakeholders in the region - the Afghan government, the people of Afghanistan, the Pakistani government, and the people of Khyber Pakhtunkhwa - sit together. History shows that military operations cannot establish peace no matter how much force is used.
The next point of interrogation was about my description of the current situation as “Asim Law.”
My answer was that the destruction taking place everywhere in the country today is under Asim Law. This is not propaganda. It is a statement based on facts and ground realities. First, I was abducted from inside court premises by paramilitary Rangers, and the false-flag operation of 9th May (2023) was orchestrated. That operation was preplanned; otherwise, ten thousand PTI workers could not have been rounded up in mere hours.. The CCTV footage was made to disappear to protect the real culprits. After that, those who held press conferences were set free, and those who continued to stand with PTI were subjected to relentless harassment. This scheme did not just crush PTI; it shattered the very foundations of human rights in the country. After that, when the people entrusted us with a two-thirds mandate, it was stolen, and the very thieves whose tales of corruption the ISI itself once told me were imposed on the nation. The Election Commissioner who should have been charged under Article 6 was granted a nine-month extension. The 26th Constitutional Amendment was passed through the Form 47 Assembly, and judges with no conscience were elevated from whom there is no hope for justice. Every institution has been destroyed.
The ISI, which was working for peace with Afghanistan during PTI's term, has now been reduced to Asim Munir’s personal mafia whose sole duty is to crush PTI by any means. All of this is happening under Asim Law.
The fourth question put to me was why I mention the Fall of Dhaka and compare Asim Munir with Yahya Khan.
“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ ک��ی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔
نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں ��جود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔
مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)
علی محمد خان صاحب تقریبا 18000 لوگ یہ ٹوئیٹ ریٹوئیٹ کر چکے ہیں۔ اب تو آپ اسے میرے گلے ڈال سکتے ہیں کہ وہ بار بار کہہ رہا تھا اس لئے کر دیا۔ اللہ کا نام لیں اور ریٹویٹ کر دیں۔ بہت مہربانی
27 ستمبر کو پشاور جلسہ جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے امن اور انسانی حقوق کی تکریم بحال کروانے کے لیے ہو گا۔
میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے جھیل رہا ہوں تاکہ میری قوم کو حقیقی آزادی مل سکے۔ ملک بھر سے شہری ہفتے کے دن پشاور جلسے میں شرکت کریں اور ظلم کے خلاف اعلان بغاوت کریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(25 ستمبر، 2025)
علی محمد خان صاحب توجہ :
ہمارے لیڈر کا یہ ٹوئیٹ صرف ٹوئیٹ نہیں بلکہ معصوم انسانوں مسلمانوں پختونوں کی جان کا محافظ پلان ہے۔ آپ یقیننا درد دل رکھتے ہیں۔ انسانیت کے لئے آپکو انکے اس بیانئیے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے۔ براہ مہربانی اس ٹوئیٹ کو ریٹوئیٹ کریں۔
@Ali_MuhammadPTI
۲۰۲۲ کے یہ چند کلپس دیکھیں (سوشل میڈیا پوری تحریک کے کلپس نکال کر دنیا کو دکھائے، یہ دہشتگردی آئی نہیں لائی گئی ہے)
کھل کر بتایا، ہاتھ جوڑے پریس کانفرنسسز سے لے کر عوامی اجتماعات تک ہر جگہ چیخ چیخ کر کہا کہ ہمیں پھر سے آگ میں مت دھکیلو۔ ہزاروں قربانیوں کے بعد امن ملا ہے خدارا ہمیں ایک اور آگ کا ایندھن مت بناؤ۔ حکومتی وزراء، آیی ایس پی آر ا��ر میڈیا سب اس کو پروپیگنڈا قرار دیتے رہے۔ آج جو روزانہ بنیادوں پر شہادتیں ہو رہی ہیں، ڈرون، مارٹر گولے، آپریشن بے گھری۔۔ یہ تک بتایا تھا کہ آج انکار کر رہے ہیں پھر کہیں گے کہ دہشت گردی ہورہی ہے تو کیا کریں اگر آپریشن نہ کریں؟
جب ذاتی مفادات ملکی و قومی مفادات سے ذیادہ اہم ہوں تو اسی طرح وقتی مفاد کی خاطر جنازے اٹھتے ہیں۔ آج وہی میڈیا عام شہریوں پر بمباری کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ اور شہریوں کو دہشت گرد پکار رہا ہے، آج وہی وزارا مگر مچھ کے آنسو بہا کر جیل میں ناحق قید اس عمران خان سے سوال پوچھ رہے ہیں جس نے اپنے ملک و قوم پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے ابسولوٹلی ناٹ بولا ۔ آج وہی فوجی اکاؤنٹس اور آئی ایس پی آر انسانی جانوںں پر بیانیہ بنانے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔ جب منہ کو خون لگ جائے جب جنگ کاروبار بن جائے جب تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے۔
تم بے حس ہو تم بے دل ہو
میرے بچپن کے قاتل ہو
یہ کہنے والے سچے ہیں؛
”حیوان بھی تم سے اچھے ہیں“
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2
“Pakistan’s defense pact with the Kingdom of Saudi Arabia is a welcome development. Discussions for such an agreement were ongoing during our time in government as well. Every Muslim desires that the security of the Haramain Sharifain is guaranteed, and it is a matter of pride and honor for every Pakistani to have this privilege.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s message from prison (22 September 2025)
The key witness, whose testimony formed the very basis of this case, has been conclusively discredited in court. There is no justification for dragging this case any further, especially since the prosecution’s own witnesses, Brigadier Ahmed and Colonel Rehan, has testified that the documents of the gifts taken from Toshakhana were complete. Yet, despite all evidence and government witnesses being discredited, the hearings continue. If this were not a matter of political vendetta, both Bushra Begum and I should be acquitted of this baseless case within the week. On Thursday, a date was finally set for the Al-Qadir case as well. I still hope that the court, guided by merit and law, will deliver justice in these cases and grant me release from this fabricated charge.
Mohsin Naqvi has done to cricket what Asim Munir has done to Pakistan, left it in ruins. Every institution in Pakistan is currently in a state of collapse. Cricket, the sport that unites and inspires the nation, has suffered steadily since it was placed under the stewardship of Mohsin Naqvi. In 2021, the Pakistan team had defeated India by 10 wickets and was a confident side at that time.
The only way they can win a match is if Asim Munir and Mohsin Naqvi are sent in as opening batsmen, Sikandar Sultan Raja and Qazi Faez Isa are made the on-field umpires, and Dogar is appointed as the third umpire, because under the current setup, this seems to be their only way of winning.
Asim Munir should reflect on everything he has done just to prolong his illegitimate rule.
First, democracy was dismantled, a false flag operation on May 9 was staged to crush the country’s largest political party. Then, on February 8 (2024), the two-thirds majority vote that the people had given to me in the elections was stolen and power was handed over to the same thieves who have done nothing except loot the nation’s wealth. Despite being a dictator, Musharraf still had some degree of public support for two reasons: first, he had freed the media; second, he was holding the country’s two most corrupt families, the Sharifs and the Zardaris accountable. Now, by once again imposing this convicted corrupt mafia on the nation, the country has been pushed back by decades.
Secondly, through the 26th Amendment, the independence of the judiciary has been stripped away, turning it into just another state-controlled institution. Yet, those judges who still stand firm today for the rule of law and the supremacy of the Constitution are truly commendable. They are the heroes of the entire nation, and the whole country stands behind them for raising the banner of truth even in these most difficult times. On the other hand, those judges who have bowed before Asim Munir will never be forgiven, neither by history, nor by this nation.
Thirdly, the moral order has been dismantled, and human rights are being grievously violated. Innocent citizens have been imprisoned, subjected to military trials, and handed unlawful sentences, all without fear of accountability.
I want to send a message to my party, especially Ali Amin, Barrister Saif, and Barrister Gohar to completely cut off all contact with the establishment. If the establishment has anything to say, let them come to Adiala Jail and speak with me. The more you try to negotiate with them, the more they escalate their cruelty and try to crush our party.
What an inhumane act it is that innocent prisoner Qasim Khokhar, who had been jailed in Gujranwala for two years, was denied timely medical treatment, leading to his death in prison. Previously, several other workers have also died after being released from jail. I extend my heartfelt condolences to their families.
Former Prime Minister Imran Khan’s Message – 22 September 2025
1/2