آپکو مولانا عمران احمد خان نیازی کو فالو کرنا چاہیئے جو لا الہ کا فلسفہ عملاً سکھاتا ہے،
ایاک نعبدو ایکا نستعین پہ اتنا پختہ یقین رکھتا کی جیل میں بغیر کسی خوف ظالم ترین یزید کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہے۔
جو اسلام و فوبیہ کے خلاف ایسا مضبوط کیس لڑتا ہے مغرب کے سالوں کی محنت ایک ہی وار میں اڑا کے رکھ دیتا ہے،
سیرت محمد (ص) پہ شائد سب سے پہلی یونیورسٹی کا قیام کرواتا ہے
مسلمانوں کی ہیروز کو یوں اجاگر کرتا ہے جیسے پاکستان بننے سے لیکر آجتک کسی نے نہ کیا،
غریبوں کے لیئے صحت ، رزق اور کاروبار کے ہر ممکن ادارے بناتا ہے، تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے کم پیسے ہونے کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔
مدینہ کی ریاست کے نا صرف سپنے دیکھاتا ہے بلکہ بہت تیزی سے اس منزل کی جانب لپکتا ہے۔۔۔۔
اس بڑا عالم دور حاضر کا کوئی ہو تو میرے علم میں اضافہ فرمائیں۔
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
على محمد خان کی پارٹی رکنیت معطل کی جائے پی ٹی آئی کے کارکنون کی جانب سے کوئی بھی افسوس کا اظہار نہیں کرے گا۔
عمران خان ساڑھے 3 سال وزیر اعظم رہے کبھی عمران خان کی بہنیں وزیر اعظم ہاوُس نھیں آئیں، عمران خان لاہور آتے تھے مگر بہنیں کو کبھی وزیر اعلی ہاوُس نھیں دیکھا گیا، عمران خان کی فیملی کے کسی فرد کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ موجود نھیں ہے۔
عاصم منیر جو ایک سرکاری ملازم ہے اسکا نام لینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اسکے ہاتھ میں بندوق ہے لیکن ہم نہیں ڈرتے اس سے ،زیادہ سے زیادہ مار دے گا ہمیں شہادت قبول ہے مگر اسکا کوئی ڈر نہیں ۔۔علیمہ خان صاحبہ🔥
لگتا ہے گرفتاری سے پہلے عمران خان کے آخری ویڈیو پیغام کو سب بھول گئے ہیں کہ آپ سب نے گھروں میں چھپ کر نہیں بیٹھنا ہیں
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے 🔥
پھگواڑی تھانہ کی حدود میں کوہالہ آٹا مل کی گندم لے جانے والی گاڑیوں کو پاکستان پولیس نے روک رکھا ہے۔ اس حوالے سے ایک پاکستانی بھائی کی زبانی پوری صورتحال سنیے۔