اسلام آباد: میانوالی کے 200 بستروں والے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سے بانی چیئرمین عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی ہٹانا ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران سیاسی مخالفین کا مقابلہ کارکردگی سے نہیں بلکہ تاریخ مٹانے کی کوششوں سے کرنا چاہتے ہیں۔
تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ہسپتال، جس کا افتتاح دسمبر 2022 میں عمران خان نے کیا، میانوالی اور سرگودھا ڈویژن کے لاکھوں عوام کے لیے اہم طبی سہولت ہے۔ اس منصوبے کی شناخت ختم کرنے کی کوشش عوامی خدمت کے منصوبوں کو سیاسی تعصب کی نظر سے دیکھنے کے مترادف ہے۔
یہ منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا، کسی فرد یا جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں۔
• پاکستان کا واحد کرکٹ ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا گیا، یہ حقیقت کسی تصویر یا تختی سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔
• شوکت خانم، نمل یونیورسٹی، صحت کارڈ اور دیگر فلاحی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میراث کام سے بنتی ہے، سرکاری احکامات سے نہیں مٹتی۔
• تاریخ تختیاں ہٹانے سے نہیں بدلتی، عوامی یادداشت اور خدمات اسے زندہ رکھتی ہیں۔
جو لوگ اپنی کارکردگی سے مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ دوسروں کی شناخت مٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن منہ کی کھاتے ہیں۔
عمران خان کا نام کسی تختی کا محتاج نہیں، ان کی خدمات ، عوامی اثر اور اس چور ٹولے میں عمران خان کا خوف ہی خود ان کی پہچان ہیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
یعنی منیب فاروق نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کی عمران خان پر بےتکی تنقید جس کا نہ کوئی سر ہوتا ہے، نہ پیر۔ وہ مقتدر حلقوں کے کہنے پر کرتے آئے ہیں۔
باقی رہ گئی بات کہ کون لائق ہے اور کون نالائق، اس کا فیصلہ عوام کر چکی ہے اور اپنے ووٹ کی طاقت سے بتا بھی چکی ہے
اللّه کی قدرت۔ کیسے کیسے سچ سامنے آ رہے ہیں۔
عمران خان مخالف ایمل ولی برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ 9 مئی صرف ایک ڈرامہ تھا جو PTI کو پھنسانے کیلئے کیا گیا۔
سیاسی مخالفین کے خلاف یکے بعد دیگرے متعدد سزاؤں کے منظم استعمال کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیئر قیادت میں ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ ہر ایک کو 7 مختلف الزامات کے تحت 286 سال سے زائد کی سنگین سزاؤں کا سامنا ہے، جبکہ میاں محمود الرشید کو 274 سال سے زیادہ کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ سزا دینے کا وسیع سلسلہ پارٹی کی پوری قیادت تک پھیلا ہوا ہے۔ بلال اعجاز اور محمد احمد چٹھہ کو 6 سزاؤں کے تحت 60 سال قید جبکہ علی حسن عباس کو 2 مقدمات میں 57 سال سے زائد کی سزا کا سامنا ہے۔ مزید برآں، شبلی فراز، عمر ایوب خان، زرتاج گل، کنول شوزب، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ، عظیم اللہ خان، انصار اقبال، شکیل خان نیازی، محمد جاوید اور اشرف خان سمیت متعدد رہنماؤں کو 5 مقدمات میں ہر ایک کو 50 سال کی سزائیں دی گئی ہیں۔
سیاسی حزب اختلاف کو مفلوج کرنے کی اس قانونی مہم کے آخری حصے میں فرخندہ کوکب اور فرح آغا کو 4 سزاؤں کے تحت 40 سال قید کا سامنا ہے، جو اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے اس فاشسٹ رجیم کا وطیرہ بن کر رہ گیا ہے۔
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ ہی اسلام کی سمجھ۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔
اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے۔”
- عمران خان
#FreeBushraBibi
#FreeImranKhan
چار سال حکومت کر کے، عوام پر ظلم کر کے سب کو چپ کروا کر بھی معیشت ٹھیک نہیں کر سکے۔ یہ آفیشل نمبرز ہیں- اصلی نمبرز تو شاید اس سے بھی زیادہ خراب ہوں گے!
#WhereIsImranKhan
“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں ”یا موت یا آزادی“ جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں! عمران خان
#pakistan@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
تمام تر فسطائیت اور جبر کے باوجود پی ٹی آئی الیکشن جیت چکی
اب آزاد امیدواروں کو دھونس دھاندلی سے پی پی کے حکومت بنانے کے لیے توڑا مروڑا جاے گا
آخر ۲۸وی آئینی ترمیم جو کروانی ہے بھائی!
شکریہ خالد خورشید
اس جبر کے باوجود بھی گلگت کی عوام نے اتنی بڑی تعداد میں نکل کر اسٹیبلشمنٹ اور ان کے کتوں کو شکست دے کر یہ بتایا کہ اج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں🔥
"پیپلز پارٹی، ن لیگ اور آئی پی پی کے پاس پورے دن کی ایک بھی ویڈیو نہیں جس سے وہ دکھا سکیں کہ ان کو جی بی (GB) کے کسی بھی حلقے میں ووٹ پڑا ہے؛ یہ تینوں جماعتیں سرکاری نتائج کا انتظار کر رہی ہیں۔ جعلی سرکاری نتائج آتے ہی ن لیگ اور سوشل میڈیا اچانک حرکت میں آ جائیں گے!"صدیق جان
@SdqJaan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں فتح مبارک۔ خصوصی مبارکباد خالد خورشید اور انکی ٹیم کو۔
تمام فسطائیت کے باوجود گلگت بلتستان کی عوام کا شاندار کام۔ کیا شاندار اور دلیر قوم ہے۔ گلگت بلتستان آپکا شکریہ۔